Coronavirus: انڈیا کی جانب سے ادویات کی برآمدات کم ہونے سے عالمی سطح پر قلت کا خدشہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کے سبب انڈیا نے بعض ادویات کی برآمدات کو محدود کر دیا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر ان کی قلت کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ادویات کی فراہمی کرنے والے ملک انڈیا نے 26 اجزا اور ان پر مشتمل ادویات کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے۔
ان ادویات میں پیراسیٹامول بھی شامل ہے جو کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی درد کش دوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین میں ان اجزا سے ادویات بنانے والے کارخانے یا تو بند ہیں یا پھر ان کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔
انڈین کمپنیاں ادویات بنانے کے لیے 70 فیصد اجزا چین سے حاصل کرتی ہیں۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ وائرس پھیلتا رہا تو قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
چائنا مارکٹ ریسرچ گروپ کے تجزیہ کار شوان رین نے متنبہ کیا کہ ’ادویات چین میں تیار نہیں کی جاتی لیکن ان کے بنیادی اجزا چین سے ہی آتے ہیں۔ اس لیے اگر چین اور انڈیا دونوں متاثر ہوتے ہیں تو عالمی سطح پر قلت ہو سکتی ہے۔‘
استعمال ہونے والی تمام ادویات اور اجزا میں انڈیا کی برآمدات کا کل حصہ 10 فیصد ہے۔ ان میں مختلف اینٹی بایوٹکس، ٹینڈازول اور اریری تھرو مائسن، ہارمون پروجیسٹرون اور وٹامن بی 12 شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آکسفورڈ اکانومکس کے سرکردہ ماہر معیشت سٹیفن فورمین نے بی بی سی کو بتایا کہ اجزا کی قلت کے سبب قیمتوں میں اضافے کی علامتیں واضح ہیں۔
انھوں نے کہا: ’پہلے سے ہی ایسے شواہد ہیں کہ فراہمی کی کمی کے سبب قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔‘
انڈیا کی حکومت نے اپنے اعلان سے اطمینان دلایا ہے کہ کم سے کم تین مہینوں تک کے لیے وافر سٹاک موجود ہے۔
امریکہ میں صحت عامہ کے انتظامی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے مطابق سنہ 2018 میں انڈیا میں تقریباً ایک چوتھائی ادویات اور 30 فیصد سے زیادہ اجزا درآمد کیے گئے۔
منگل کو ایف ڈی اے کے کمشنر سٹیفن ہان نے امریکی سینیٹرز کو بتایا کہ ایجنسی یہ طے کرنے کے لیے کام کر رہی ہے کہ یہ پابندیاں امریکہ کی طبی نظام کو کس قدر متاثر کرے گی اور اس کے اثرات ضروری ادویات پر کس قدر ہوں گے۔
امریکہ کی اہم دوا ساز کمپنیوں نے کہا ہے کہ وہ سپلائی کے سلسلے کی نگرانی کر رہے ہیں۔
گذشتہ ہفتے معروف دوا ساز کمپنی مائلن نے قلت سے متعلق خبردار کیا تھا جبکہ ایک دوسری اہم کمپنی ایلی لیلی نے کہا ہے کہ انھیں ایسا نہیں لگتا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے انسولین کی مصنوعات سمیت ان کی ادویات میں کسی قسم کی قلت ہوگی۔












