#CoronaVirus: باپ قرنطینہ میں، معذور بیٹا بھوک سے ہلاک

ین چینگ

،تصویر کا ذریعہWeibo

،تصویر کا کیپشنین چینگ کی کہانی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔

چین میں دماغی فالج کا شکار ایک بچہ اس وقت بھوک سے ہلاک ہو گیا جب اس کے والد کو، جو اس بچے کی دیکھ بھال کرتے تھے، کرونا وائرس کے شبہے میں قرنطینہ یعنی علیحدگی میں رکھ لیا گیا۔

معذور بچے کے بھوک سے مر جانے کی خبریں سامنے آنے کے بعد حکومت نے کمیونسٹ پارٹی کے دو مقامی عہدیداروں کو برطرف کر دیا ہے۔

خبروں کے مطابق سولہ سالہ کاین چینگ بدھ کو مردہ حالت میں پائے گئے۔ ایک ہفتے قبل افسران اس بچے کے والد اور بھائی کو کورونا وائرس کے شبہ میں قرنطینہ کے لیے لے گئے تھے۔

ین چینگ کی کہانی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔

یہ خاندان وسطی چین کے ہوبائی صوبے میں رہتا ہے جو اس وبا کا مرکز ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس بچے کے والد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر پوسٹ لکھ کر لوگوں سے مدد کی اپیل کی تھی کہ ان کا بیٹا بھوکا پیاسا گھر پر تنہا ہے۔

دماغی فالج ایک ایسی بیماری ہے جس کے اثرات بچپن میں ہی ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے انسان چلنے پھرنے یا کچھ بھی کرنے کی حالت میں نہیں ہوتا۔ اس کی علامات میں کمزور پٹھے، جسم میں سوجن، دیکھنے، سننے یا بولنے کی صلاحیت کا متاثر ہونا اور جسم کو جھٹکے لگنا شامل ہے۔ اس بیماری کے شکار لوگ پوری طرح سے معذور ہو جاتے ہیں۔

چینی حکام نے بچے کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

چین میں کرنا وائرس سے 361 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 17000 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ چین کے باہر دیگر ممالک میں ڈیڑھ سو سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ فلپائن میں اس وائرس سے ایک ہلاکت کی اطلاع ہے۔

عالمی ادارہِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔ چینی حکام نے اس وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔