آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یورپی پارلیمنٹ نے انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون پر ووٹنگ موخر کر دی
- مصنف, فراز ہاشمی
- عہدہ, بی بی سی اردو، برسلز
یورپی پارلیمنٹ میں بدھ کے روز انڈیا میں شہریت کے قانون میں ترمیم کے خلاف چھ پارلیمانی گروپوں کی طرف سے پیش کردہ مذمتی قراردادوں پر تند و تیز بحث کی گئی۔
یورپی پارلیمنٹ میں یہ قراردادیں یورپی پیپلز پارٹی اور سوشل ڈیموکریٹ پارٹی سمیت چار بڑے پارلیمانی گروپوں کی طرف سے پیش کی گئی تھیں جن میں انڈیا کے شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) کے علاوہ مسئلہِ کشمیر کی بات بھی کی گئی ہے۔
ان قراردادوں پر بحث شروع ہونے سے قبل ایوان میں ایک تحریک پیش کی گئی جو ان قراردادوں پر ووٹنگ کرانے یا نہ کرانے سے متعلق تھی۔ اس کے بعد قراردادوں پر ووٹنگ کو مارچ تک موخر کر دیا گیا ہے۔
برطانیہ سے رکن پارلیمان شفق محمد جو کہ قرارداد کے محرک بھی تھے، ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے شہریت کے قانون کو مارچ تک موخر کرنے کے حق میں یہ دلیل دی گئی کہ انڈیا کی سپریم کورٹ میں سی اے اے کے خلاف درخواستیں دائر کی گئیں ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے تک یورپی پارلیمان کو ان قراردادوں پر ووٹنگ نہیں کرانی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایوان کے اندر سی اے اے کے خلاف شدید جذبات کا اظہار کیا گیا اور سی اے اے کے مخالفین نے انڈیا میں نئے منظور شدہ قوانین کو نازی دورہ سے تشبیہ دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ سی اے اے سے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کو سٹیٹ لیس یا بے وطن کی جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سوشل ڈیموکریٹ گروپ کے رکن جان ہاورڈ نے کہا کہ وہ سی اے اے کو بہت خطرناک تصور اور یہ ایک امتیازی قانون ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے مسلمانوں کو الگ کر کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بحث کے دوران کئی ارکان نے انڈیا کے حق میں بھی بات کی اور کہا کہ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور یورپی یونین کو اس سے اپنے تعلقات کو مستحکم اور مضبوط کرنا چاہیں۔ کچھ ممبران نے کہا کہ سی اے اے کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ درست نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا ایک خودمختار ملک ہے اور اس کو اپنے شہریوں کے کوائف اکھٹا کرنے کا پورا اختیار اور حق حاصل ہے۔
انھوں نہ اس تاثر کو بھی رد کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس قانون سے کسی ایک خاص مذہب کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
قرارداد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے یورپی کمیشن کے نائب صدر کی نمائندہ ہیلنا دالی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین عالمی انسانی حقوق کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ان ہی کو بنیاد بنا کر عالمی سطح پر اپنے تعلقات استورا کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یورپی یونین انڈیا سے اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہشمند ہے جس کی بنیاد انسانی اور اقلیتوں اور جمہوری اقدار پر قائم ہونی چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ یورپی کمیشن کے نائب صدر اور خارجہ امور کے سربراہ جوزف بورل نے اس ماہ کے اوائل میں انڈیا کے حکام سے اپنے مذاکرات میں سی اے اے کے قانون پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ انڈیا اس بارے میں مثبت اقدامات اٹھائے گا۔
انھوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ انڈیا کی سپریم کورٹ اس قانون کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر عالمی انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کرے گی۔
یورپی یونین کے اٹھائیس رکن ملکوں سے سات سو اکاون منتخب نمائندوں پر مشتمل یورپی پارلیمان میں منظور کی جانے والی اس نوعیت کی قراردادوں پر یورپی کمشین کے لیے عملدرآمد کرنا لازمی نہیں ہوتا، لیکن دنیا کے سب سے بڑے جمہوری اور سیکولر ملک کے خلاف ایک عالمی ادارے میں انسانی اور اقلیتیوں کے حقوق سے متعلق مذمتی قراردادوں کے پیش کیے جانے کی سیاسی اور سفارتی سطح پر علامتی حثییت بہت اہمیت کی حامل ہے۔
انڈیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے یورپی پارلیمان کی ان قراردادوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے اس ضمن میں سخت موقف اختیار کیا ہے اور انڈیا کی لوک سبھا کے ترجمان نے اس پر یورپی کمیشن سے تحریری طور پر احتجاج کیا ہے۔
یورپی کمیشن نے ان قراردادوں سے عدم تعلق کا اظہار کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ قراردادیں پارلیمان کے ارکان نے اپنی نجی حیثیت میں پیش کی ہیں۔
یورپی یونین کے رکن شفق محمد نے اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان قراردادوں کو موخر کرنے کے لیے سفارتی سطح پر زبردست اور بھرپور لابیئنگ کی۔
یورپی پارلیمان کے ارکان نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور انڈیا کے آئین کا اور خاص طور آئین کے آرٹیکل چودہ کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کی موجودہ حکومت کی طرف سے شہریت کے قانون میں ترمیم عالمی سطح پر طے شدہ انسانی اور اقلیتوں کے حقوق کے علاوہ انڈیا کے اپنے آئین سے بھی مطابقت نہیں رکھتی جس کی بنیاد جہموری اور سیکولر بنیادوں پر قائم ہے۔
ان قراردادوں میں انڈیا کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس ترمیم پر نظر ثانی کرے۔ اس کے علاوہ قراردادوں میں سی اے اے کے خلاف اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے پرامن مظاہرین کے احتجاج کو طاقت سے دبانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور خاص طور پر اس دوران ہونے والی دو درجن سے زیادہ ہلاکتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
ایک قرارداد کے متن میں دیگر نکات کے علاوہ کشمیر کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور یورپی یونین کے رکن ملکوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس تنازع کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔ کشمیر کے تناظر میں انڈیا اور پاکستان کو اس تنازعے کے حل سے وابستہ بے اندازہ انسانی، معاشرتی اور معاشی فوائد کے امکانات پر غور کرنے کا کہا گیا ہے۔
مودی حکومت کی طرف سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کے فیصلے کو یکہ طرفہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔
یورپی کمیشن اور یورپی یونین میں شامل رکن ملکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ انڈیا کی موجودہ حکومت سے اپنے رابطوں میں شہریت کے قانون میں ترمیم پر بات کریں اور عالمی قوانین اور اصولوں کے تحت اس کو اقلیتوں کے بارے میں اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنےپر زور دیں۔
قراردادوں میں اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ انڈیا کی سپریم کورٹ سی اے اے کے حوالے سے دائر کیے جانے والی درخواستوں کا فیصلہ سناتے ہوئے، بین الاقوامی انسانی حقوق، اقلیتوں کے حقوق کو انڈیا کے آئین میں فراہم کیے گئے تحفظات کو مد نظر رکھے گی۔