آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں شہریت کا متنازع قانون: مائیکروسافٹ کے سی ای او کی انڈیا میں شہریت کے متنازع قانون پر تنقید
ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیا نڈیلا کی جانب سے انڈیا کے شہریت کے متنازع قانون کو افسوسناک قرار دیا گیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔
انڈین نژاد نڈیلا نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ ’افسوسناک‘ ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب انڈیا کی مختلف ریاستوں میں شہریت کے نئے قانون کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں اور متعدد تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
انڈیا کے متنازع شہریت کے قانون کی مخالفت کرنے والے اسے مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں سے امتیاز کا قانون قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بزفیڈ میں شائع خبر کے مطابق نیویارک میں مائیکروسافٹ کے ایک اجلاس میں نڈیلا نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے۔ خاص طور پر تب جب آپ خود انڈیا میں بڑے ہوئے ہوں۔ یہ بہت برا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں دیکھنا چاہوں گا کہ کوئی بنگلادیشی تارک وطن انڈیا آ کر انفوسس کا اگلا سی ای او بنے۔‘
نڈیلا خود انڈیا کے ’ٹیکنالوجی کے گڑھ‘ کے نام سے جانے جانے والے شہر حیدرآباد میں بڑے ہوئے، وہ اب امریکی شہری ہیں۔
ان کے اس بیان کے بعد ہی مائیکروسافٹ انڈیا نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے نڈیلا کی اس بات پر زور دیا کہ وہ ایک ایسے انڈیا کی امید کرتے ہیں جہاں کوئی پناہ گزین اپنی سٹارٹ اپ کمپنی کو بنانے کا خواب دیکھ سکتا ہو۔
تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہر ملک کو اپنی سرحد واضح کرنی چاہیے اور قومی سلامتی کو دھیان میں رکھتے ہوئے پناہ گزینوں سے متعلق پالیسیاں بنانی چاہییں۔‘
مائیکرو سافٹ کے سی ای او کی جانب سے اس بیان کے بعد انڈین سوشل میڈیا صارفین نے طنز و مزاح سے بھرپور تبصرے کیے جس کی وجہ سے ہیش ٹیگز
Microsoft #Windows #SatyaNadella# انڈیا میں ٹاپ ٹرینڈز میں رہے۔
سوشل میڈیا پر یہ بحث تب چھڑی جب ایک بین الاقوامی خبررساں ادارے کے صحافی بین سمتھ نے ایک ٹویٹ میں ستیا نڈیلا کا بیان شئیر کیا جس میں انھوں نے انڈیا کی شہریت کے متنازعہ قانون کی مخالفت کی۔
اس کے بعد انڈیا کی شہریت کے متنازع قانون کے خلاف آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے حکومت کے حامیوں کو ٹویٹر صارفین دلچسپ مشورے دیتے نظر آئے۔
کسی نے کہا کہ حکمران جماعت کے حامیوں کو، جن کو ان کے ناقدین بھگت کے نام سے پکارتے ہیں، چاہیے کہ وہ مائیکروسافٹ ونڈوز کا بائیکاٹ کر دیں تو کسی نے کہا کہ بھگت کو چاہیے کہ احتجاجاً وہ اپنے گھروں کی بھی کھڑکیاں یعنی ونڈوز نکال دیں۔
مادھون نرائینن کا کہنا تھا کہ جواہر لال نہرو میں تشدد کے خلاف آواز اٹھانے پر دیپیکا پڈوکون کی فلم چھپاک کا بائیکاٹ کرنے کے بعد بھگت اب ستیا نڈیلا پر تنقید کے لیے تیار ہیں۔ وہ اپنا لنکڈ ان اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیں گے اور ونڈوز کمپیوٹرز بند کر دیں گے۔
مائیکرو سافٹ کے سی ای او کی جانب سے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف بیان سامنے آنے کے بعد بی جے پی کی رہنما منکشی لکھی نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پڑھے لکھوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔
انڈیا میں شہریت کا متنازع قانون سی اے اے دس جنوری کو نافذ کر دیا گیا ہے جس کے تحت انڈیا کے ہمسائے ممالک پاکستان، افغانستان اور بنگلادیش سے آنے والے غیر مسلم افراد کی شہریت کی درخواستوں پر تیزی سے عمل در آمد کیا جائے گا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ شہریوں کے مجوزہ قومی رجسٹر کے ساتھ مل کر سی اے اے انڈیا کی مسلم آبادی کے ساتھ تفریق کا باعث ہو گا۔
شہریت کا متنازع قانون پاس ہونے کے بعد سے ہی ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔
ریاست اتر پردیش میں مختلف احتجاجی ریلیوں کے دوران تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔