آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کا کہنا ہے کہ ‘شہریت کا متنازع قانون بی جے پی کی نفرت کی سیاست کا ایجنڈہ‘
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کولکاتا
حزب اختلاف کی جماعت ترنمول کانگریس کی رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کا کہنا ہے کہ ’انڈیا میں شہریت کا متنازع قانون اور شہریوں کی رجسٹریشن کا این آر سی حکمراں بی جے پی کی نفرت کی سیاست کا ایجنڈہ ہے۔ یہ عوام میں پھوٹ ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھانے کا ایک حربہ ہے۔ لیکن یہ کامیاب نہیں ہو گا۔‘
ہمارے نامہ نگار شکیل اختر کے ساتھ کولکاتا میں ایک خصوصی انٹرویو میں مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون سے ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس کے ذریعے مودی حکومت ان لوگوں کو بھی غیر ملکی بنا دینا چاہتی ہے جو تارکین وطن برسوں تک یہاں رہنے کے بعد ملک کے شہری ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شہریت قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آئے ہندو اور سکھ تارکین وطن کو جو پہلے ہی انڈین شہری ہو چکے ہیں،انھیں پانچ برس کے لیے غیر ملکی قرار دیا جائے گا اور اس کے بعد حکومت انھیں شہریت دینے کے بارے میں سوچے گی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ممتا کہتی ہیں کہ 'وہ تارکین وطن جو پہلے آگئے تھے اور اب انڈین شہری ہو چکے ہیں اب انڈیا میں ملازمتیں کر رہے ہیں، جائیدادیں خرید رکھی ہیں، کاروبار کر رہے ہیں، اگر انھیں ایک بار پھر غیر ملکی قرار دیا گا تو ان کی املاک، ملازمتیں اور کاروبار سب کچھ چھن جائے گا۔ یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ یہ بہت حساس معاملہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’آزادی کے 73 برس تک یہ سوال نہیں اٹھا۔ اب یہ شہریت کا سوال کیوں اٹھا رہے ہیں۔ جب روٹی کپڑا اور مکان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تو وہ لوگوں کو ملک سے نکالنے کی بات کر رہے ہیں۔‘
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے ملک گیر سطح پر شہریوں کی رجسٹریشن یعنی این آر سی کروانے کی حکومتی تجویز کے بارے میں کہا کہ یہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔
’آسام میں ہم این آر سی کا حال دیکھ چکے ہیں۔ پہلے 40 لاکھ لوگوں کو شہریت کی فہرست سے باہر کیا اور اب حتمی فہرست میں 19 لاکھ لوگ باہر ہیں۔ یہ سبھی انڈین شہری ہیں۔ اس ملک میں جن کے پاس ووٹرز شناختی کارڈ ہے وہ اس ملک کا شہری ہے۔ وہی شہری حکومت کا انتخاب کرتے ہیں۔‘
ممتا بینرجی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’این آر سی، بی جے پی کی نفرت کی سیاست کا ایجنڈہ ہے۔ اس کے ٹارگٹ پر وہ لوگ ہیں جن سے وہ نفرت کرتے ہیں۔ مسمانوں کو تو وہ تباہ کرنا ہی چاہتے ہیں وہ ان لوگوں کو بھی ٹارگٹ کر رہے ہیں جو ان کے خلاف ہیں اور اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا خیال ہے کہ بنگال میں بڑی تعداد میں غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن موجود ہیں اس لیے ریاست میں غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے لیے این آر سی زیادہ ضروری ہے تو انھوں نے جواب دیا ’ہم لوگ بنگال میں رہتے ہیں اور ان کو ہم سے زیادہ پتہ ہے۔ ہم تو آٹھ سال سے اقتدار میں ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس سے قبل 30 برس تک کمیونسٹ اقتدار میں تھے تب کیا تھا۔ یہ کوئی بات ہے۔ میں بتانا چاہتی ہوں بی جے پی،ریاست بنگال کے خلاف ہے۔ بی جے پی ریاست بہار کے بھی مخالف ہے ۔ وہ دراصل غریبوں کے خلاف ہے۔‘
ممتا بینربی کا کہنا ہے کہ ’بی جے پی کی حکومت این آر سی کو ایک ہندو - مسلم تحریک بنانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن انڈیا کا ایک سیکیولر کردار ہے۔ آج ہر انسان اس کے خلاف ہے۔ ملک کے مسلم تو خلاف ہیں ہی لیکن آج ہندو اس کے زیادہ خلاف ہیں۔‘
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ سے جب پوچھا گیا کہ مودی حکومت ایک مضبوط حکومت ہے اور وہ مسلسل اپنے ایجننڈے پر آگے بڑھ رہی ہے تو انھوں نے کہ ’کانگریس کے پاس کئی بار اس سے زیادہ اکثریت تھی۔ راجیو گاندھی کے پاس تو چار سو نشتیں تھیں۔ مودی حکومت کے پاس تو تین سو کے آس پاس ہے۔ یہ اکثریت عوام سے آتی ہے۔ آپ عوام کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔ جمہوریت میں سب سے سب سے طاقتور عوام ہیں۔ انڈیا میں مستقبل عوام کا ہے۔ بالآخر فتح عوام کی ہوگی۔‘