انڈیا: شہریت کا نیا متنازع قانون اور طلبا سیاست کا احیا

    • مصنف, روی پرکاش
    • عہدہ, سینیئر صحافی، گوہاٹی

انڈیا میں شہریت کے ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف آسام میں جاری عوامی تحریک تاریخ کو دہرا رہی ہے۔

اس تحریک میں طلبا کی جانب سے ادا کیے جانے والے کردار کی وجہ سے اب یہ باتیں ہونے لگی ہیں کہ سی اے اے کے بہانے طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں کا پرانا دور ایک بار پھر واپس آ گیا ہے۔

طلبا کو عوام کی بمثل حمایت حاصل ہوتی نظر آ رہی ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ کی مخالفت آسامی شناخت کی جدوجہد بن گئی ہے۔

اس جدوجہد کی سربراہی طلبا کی تنظیمیں کر رہی ہیں، وہ آگے آگے ہیں اور آسام کے عوام ان کے پیچھے۔

یہ بھی پڑھیے

’جئے اخوم‘ یعنی آسام زندہ باد کا نعرہ بلند کرنے والے نوجوان مرد و زن کا جوش و جذبہ یہاں ایک نئی اور بڑی طلبا کی تحریک کے لیے راہ ہموار کر رہا ہے۔

بہت ممکن ہے کہ اسی راہ پر آسام کے مستقبل کی تحریر لکھی جائے۔

کیا یہ وقت طلبا کی تحریک کے احیا کا ہے؟

’دل پہ مت لے یار‘ جیسی فلم بنانے والے معروف فلم ساز انیس کا بھی یہی خیال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس قانون کے حوالے سے طلبا کے اندر ایک ابال ہے۔ ان کے پیچھے کوئی منظم قوت موجود ہے یا نہیں اس کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ مجھے یہ تحریک خود مختار زیادہ لگ رہی ہے۔‘

انیس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'جو بچے سڑک پر کہیں نظر نہیں آتے تھے وہ سڑک پر آ رہے ہیں۔ ان کے اندر کچھ ہو رہا ہے۔ وہ شاید کوئی نئی کہانی لکھیں، بشرطیکہ انھیں کوئی درست راستہ ملے۔‘

’طلبا تنظیموں کو اس تحریک سے آکسیجن ملے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پرانی قیادت ان نئے طلبا کو کتنا آگے بڑھنے دیتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پرانے رہنما ان کے پیچھے پڑ جائیں۔ انھیں آگے بڑھنے نہ دیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئی قیادت سامنے آئے۔ ہم ابھی اسے دیکھ نہیں رہے ہیں لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو آسام اور اس ملک کے لیے اچھا ہے۔‘

طلبہ کی تنظیمیں ہمیشہ سرگرم رہی ہیں

تاہم آل آسام سٹوڈنٹ یونین (اے اے ایس یو) کے اہم مشیر سموجل بھٹاچاریہ اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آسام میں اٹھنے والی تمام تحریکوں میں طلبا تنظیموں نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے نہ صرف آسام بلکہ ملک کی سیاست اور معاشرے کو بھی بہت سے بڑے چہرے دیے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ ماننا مکمل طور پر غلط ہو گا کہ اے اے ایس یو یا دیگر طلبا تنظیموں نے اپنی سرگرمی کم کر دی ہے۔ ہم نے ہر موقعہ پر اپنا کام انجام دیا ہے۔ آسام کی سرزمین، معاشرے، ثقافت، زبان، بولی اور سیاسی حقوق کے لیے طلبا ہر وقت سرگرم رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ شہریت کا ترمیمی بل لا کر حکومت نے سب کو پھر سے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اب یہ عوامی تحریک بن گئی ہے۔ کیوں کہ ہم آسام کو کشمیر نہیں بننے دیں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے پیارے وزیر داخلہ امت شاہ ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

این آر سی کا معاملہ

آل آسام گورکھا سٹوڈنٹ یونین (آگاسو) کے سربراہ پریم تمانگ کا خیال ہے کہ یہاں نوجوانوں کو ہی قیادت کی ذمہ داری ملتی رہی ہے، اس بار کچھ نیا نہیں ہو رہا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہماری تنظیم نے آسام میں مقیم ہزاروں گورکھا باشندوں کے نام این آر سی سے نکالے جانے پر سڑک سے عدالت تک جنگ لڑی۔ ہم ابھی بھی اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ ’آسو‘ اور ’نیسو‘ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تحریک کی قیادت سنبھالی ہے۔ اس سے طلبا تنظیموں کی سرگرمی میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔ اسے ایک قسم کی حیاتِ نو کہا جا سکتا ہے۔‘

آسامی فلموں کی مقبول اداکارہ ظریفہ وحید اس کو یوتھ موومنٹ کہتی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تمام نوجوان طلبا آسام کی شناخت اور اس کے وجود کے معاملے پر متحد ہیں۔ آسو نے اس کی قیادت سنبھالی ہے اور سول سوسائٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ویسے بھی تمام تحریکیں نوجوانوں کی قیادت میں ہوتی رہی ہیں۔ اس بار بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہمارا مقصد شہریت کے ترمیمی ایکٹ کی مخالفت ہے۔ ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم شہریت کے نئے قانون کو نہیں مانتے۔‘

سینیئر صحافی اور مقامی اخبار دینک پوروودے کے مدیر روی شنکر روی کا کہنا ہے کہ ’شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف جاری اس تحریک نے نوجوانوں کو واقعتاً بیدار کر دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس تحریک کے ابتدائی تین دن کے دوران پرتشدد واقعات رونما ہوئے۔ ان میں کچھ بیرونی افراد بھی شامل تھے۔ لیکن اب نئے بچے یہ تحریک چلا رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ تحریک آسام کی سیاست میں کچھ نئے چہروں کے داخلے کا ذریعہ بنے۔‘

آسام تحریک سے لے کر سی اے بی تک احتجاج

وہ 70 کی دہائی کے آخری دو سال تھے۔ گوہاٹی کی سڑکوں پر طلبا کا ہجوم تھا جو ’جئے اخوم‘ کے نعرے لگاتے تھے۔ ان کے پیچھے پورا آسامی معاشرہ تھا، نہ صرف گوہاٹی بلکہ تمام آسام میں ایسے ہی منظر تھے۔

غیر ملکی شہریوں کو انڈیا کی شہریت دینے کے معاملے پر طلبا کی جدوجہد بین الاقوامی سرخیاں بن رہی تھیں۔ آج بھی کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ یہی مسئلہ ایک بار پھر آسام کے عوام کے سامنے ہے۔ لوگ سڑکوں پر ہیں اور انھوں نے تحریک کی قیادت طلبا کے حوالے کر رکھی ہے۔

آج بھی اسی آل آسام سٹوڈنٹ یونین نے اس احتجاج کی رہنمائی کی کمان سنبھال رکھی ہے جس نے پہلے آسام تحریک کا سکرپٹ لکھا تھا۔

کیا تحریک آسام پارٹ ٹو ہے؟

سٹوڈنٹ لیڈر سے ملک کے کم عمر ترین وزیر اعلی تک کا سفر کرنے والے پرپھل کمار مہنتا کہتے ہیں کہ تازہ احتجاج کو آسام کی تحریک کا سیکوئل کہہ سکتے ہیں۔

پرپھل کمار 33 سال کی عمر میں آسام کے وزیر اعلٰی بنے تھے اور اب ان کی عمر 67 سال ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہریت کے قانون میں تازہ ترین ترمیم درحقیقت آسام معاہدے 1985 کی خلاف ورزی ہے۔

پرپھل کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم برسوں کی لڑائی اور 861 مظاہرین کی شہادت کے بعد حاصل ہونے والے آسام معاہدے کو اس طرح ختم نہیں ہونے دیں گے۔ لہذا آج طلبا کی قیادت میں پورا آسام احتجاج کر رہا ہے۔ یہ نئے دور کا احتجاج ہے اور اگر موجودہ حکومت اس کی نبض جاننے میں ناکام رہی تو یہ تحریک 21 ویں صدی کی طلبا سیاست کے لیے میدان تیار کرے گی۔ یہ بہت حد تک ہماری آسام تحریک کی طرح ہی ہے۔ تازہ لڑائی بھی آسام کے اصل باشندوں کی زبان، سیاسی حقوق، ثقافت اور وجود کے لیے ہے۔ لہذا اس کے وسیع اثرات ہو رہے ہیں۔‘

ماضی اور حال میں فرق

سینیئر صحافی راج کمار شرما کہتے ہیں کہ ’آسام تحریک اور حالیہ طلبا تحریک کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔ اس وقت طلبا نے انتہائی منظم انداز میں اس تحریک کا آغاز کیا تھا اور اب اس تحریک کی بھی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ پہلے دو دن کے پرتشدد مظاہرے میں پہلے کی طرح ہی تر و تازگی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔‘

جبکہ گوہاٹی میں رہائش پذیر فلم ساز انیس کا خیال ہے کہ پہلے والی آسام تحریک میں پیش کیے جانے والے پھول تازہ تھے۔ موجودہ تحریک باسی پھولوں (پرانے قائدین) پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود آسام کو نئی خوشبوؤں کی توقع کرنی چاہیے۔