نئی دہلی: جواہر لعل یونیورسٹی پر نامعلوم افراد کا حملہ، 20 طلبا زخمی

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

انڈیا کی معروف جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے کئی ہوسٹلز میں کل شام طلبہ پر درجنوں نقاب پوش حملہ آوروں نے لوہے کی راڈ، لاٹھیوں اور پتھروں سے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں جے این یو سٹوڈنٹ یونین کی صدر آئشی گھوش سمیت 20 سے زائد طلبا زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق نفاب پوش افراد ’بھارت ماتا کی جے، وندے ماترم اور گولی مارو جے این یو کے غداروں کو' کے نعرے لگا رہے تھے۔

حملہ آوروں نے لڑکیوں کے ہوسٹل میں داخل ہو کر کئی طالبات کو بھی زدوکوب بھی کیا ہے۔ یونین کی صدر آئشی گھوش کو سر پر دو جگہ لوہے کی راڈ لگنے سے زخم آئے ہیں۔

رات بارہ بجے تک کم از کم 22 طالبات کو طبی امداد کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بہت سے طلبا کو شدید زخم آئے ہیں جبکہ یونیورسٹی کے کئی پروفیسرز کو بھی مارا پیٹا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نفاب پوش حملہ آور کیمپس کے اندر کئی گھنٹے تک طلبہ اور پروفیسروں کو زدوکوب کرتے رہے تاہم انھوں دعوی کیا کہ پولیس کیمپس کے گیٹ پر موجود رہی لیکن وہ طلبا کو بچانے کے لیے آگے نہیں آئی۔ ان حملوں کی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

ان ویڈیوز میں طلبا نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ نقاب پوش حملہ آور آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے کارکن تھے جنھیں کمیپس میں موجود آر ایس ایس کی طلبا تنظیم اے بی وی پی کے کارکنوں کی مدد حاصل تھی۔ نے بلا رکھا تھا۔ دوسری جانب اے بی وی پی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بائیں بازو کے طلبا نے ان کے حامیوں پر کیا ہے۔

جے این یو کی سابق طالبعلم اور موجودہ حکومت کی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں جے این یو کیمپس میں طلبا پر تشدد کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’جے این یو میں بحث مباحثے کی روایت رہی ہے۔ وہاں کبھی تشدد نہیں ہوا۔ یونورسٹی میں سبھی طلبا محفوظ ہونے چاہییں۔‘

جے این یو ہی کے سابق طالبعلم اور موجودہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’جے این یو میں تشدد قابل مذمت ہے۔ جے این یو میں تشدد کی نہیں بحث کی روایت ہے۔‘

اتوار کو رات گئے اپوزیشن کانگریس کی رہنما پریانکا گاندھی زخمی طالب علموں سے ملنے کے لیے ہسپتال گئیں۔ بنگال کی وزیر اعلی ممتا بینرجی نے جے این یو پر نقاب پوش حملہ آوروں کے حملے کی مذمت کی ہے اور طلبا کے ساتھ اتحاد کے اظہار کے لیے ایک وفد دلی بھیجا ہے۔

بنگال کی جادھوپور یونیورسٹی میں رات دیر گئے طلبا نے مشعل بردار جلوس نکالا ہے جبکہ ممبئی میں سیکڑوں شہری جے این یو کے طلبا کے ساتھ اتحاد کے اظہار کے لیے گیٹ وے آف انڈیا پر جمع ہوئے۔

بہت سے طلبا تشدد سے بچنے کے لیے ہاسٹل کے کمروں میں بند ہو گئے اور انھوں نے کمروں کو اندر سے بند کر لیا۔ دہلی پولیس کی طرف سے ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ شہریت کے متنازع قانون کی منظوری کے بعد سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ جمعہ کو انڈیا کی ریاست حیدرآباد میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے مارچ کی اور اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل، ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں مبینہ طور پر کئی افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے۔