#coronavirus: کورورنا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 106، 4000 سے زیادہ افراد متاثر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چینی حکام کے مطابق کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 106 تک جا پہنچی ہے۔
ساتھ ہی چین میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک دن میں دگنی ہو کر 2835 سے 4515 ہو گئی ہے۔
اسی دوران ملک میں سفری پابندیاں مزید سخت کر دی گئی ہیں اور چند شہروں میں گھر سے باہر نکلنے سے پہلے ماسک پہننا بھی لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔
چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا یہ وائرس چین کے دوسرے شہروں کے علاوہ فضائی سفر کرنے والوں کی بدولت دنیا بھر میں پھیل چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کورونا وائرس کی وجہ سے سانس کا شدید انفیکشن ہوتا ہے اور تاحال اس سے مقابلہ کرنے کے لیے کوئی ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔
اب تک ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد میں ادھیڑ عمر یا ایسے افراد جنھیں پہلے سے سانس کی بیماریاں تھیں، شامل ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
چین اس حوالے سے کیا اقدامات لے رہا ہے؟
وائرس کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب لاکھوں افراد نئے قمری سال پر ہونے والی تقریبات کے سلسلے میں پورے ملک میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے پاس آتے جاتے ہیں۔
وائرس کے پھیلاؤ کے سد باب کے لیے نئے سال کی تقریبات کو مؤخر کر دیا گیا ہے اور چھٹیاں بڑھا کر اتوار تک کر دیا گیا ہے۔
منگل کے روز ملک کی امیگریشن انتظامیہ نے شہریوں کو بیرونِ ملک سفر کے اوقات میں تبدیلی کا مشورہ دیا ہے تاکہ سرحدوں پر آمدورفت میں کمی لائی جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بیجنگ اور شنگھائی نے ہوبائی سے آنے والے افراد کو 14 دن تک زیرِ معائنہ رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ چین میں اب تک ہونے والی 106 اموات میں سے 100 ہوبائی صوبہ میں ہوئی ہیں۔
حکام نے ملک بھر میں سکولوں اور یونیورسٹیوں کے سیمیسٹر مؤخر کر دیے ہیں اور ان کی دوبارہ کھلنے کی تاریخ اب تک نہیں دی گئی۔
برطانیہ میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ چین اس وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول نہیں کر سکے گا۔
چین میں وائرس سے متاثرہ بہت سے شہروں میں سفری پابندیاں عائد ہیں جبکہ اتوار سے نجی گاڑیوں کو بھی سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہوبائی کے مرکزی اضلاع میں نقل و حرکت نہیں کرنے دی جائے گی کیونکہ یہی علاقہ اس وائرس کا مرکز ہے۔
چین کے سرکاری اخبار پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک اور ہسپتال صرف سات دن کی قلیل مدت میں تعمیر کیا جائے گا تاکہ وائرس سے متاثرہ 1300 نئے افراد کا وہاں علاج کیا جا سکے۔
کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے نمٹنے کے لیے تعمیر کیا جانے والا یہ دوسرا ہسپتال ہو گا۔ اس سے پہلے ایک ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بنایا جا چکا ہے۔
فوج کی خصوصی طبی ٹیمیں صوبہ ہوبائی میں پہنچ گئی ہیں۔ ووہان ہوبائی کا دارالحکومت ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کیا ہے؟
کورونا وائرس کا تعلق وائرسز کے اس خاندان سے ہے جس کے نتیجے میں مریض بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہ وائرس اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔
نئے وائرس کا مختلف جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونا عام ہو سکتا ہے۔
سنہ 2003 میں چمگادڑوں سے شروع ہونے والا وائرس بلیوں سے مماثلت رکھنے والے جانوروں میں منتقل ہوا اور پھر انسانوں تک پہنچا اس سے ان سب کا سے نظام تنفس شدید متاثر ہوا۔
یہ نیا وائرس بھی سانس کے نظام کو متاثر کر رہا ہے۔
اس وائرس کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں جس کے بعد خشک کھانسی ہوتی ہے اور پھر ایک ہفتے کے بعد مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور کچھ مریضوں کو ہسپتال منتقل ہونا پڑتا ہے۔
اس سے بچاؤ کے لیے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج ہے۔
ابتدائی اطلاعات کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متاثرین میں سے صرف ایک چوتھائی ایسے تھے جو شدید متاثر ہوئے اور ہلاک ہونے والوں میں خصوصی طور پر تو نہیں لیکن زیادہ تر ایسے تھے جو بوڑھے مریض تھے جو پہلے سے کسی دوسری بیماری کا شکار تھے۔
چینی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس مچھلی منڈی میں ہونی والی سمندری جانداروں کی غیرقانونی خرید و فروخت کے دوران انسانوں میں منتقل ہوا ہو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجہان
دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر حصص کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔
امریکہ کی تینوں مرکزی انڈیکس دن کے اختتام پر تقریباً 1.5 فیصد سے زیادہ گر چکی تھیں جبکہ لندن کی ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس 2.3 فیصد سے زیادہ گر چکی تھی۔
چین میں زیادہ کاروبار کرنے والی کمپنیاں اس رجحان سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں بھی 2.9 فیصد کمی دیکھی گئی ہے اور فی بیرل قیمت 58.14 ڈالر تک پہنچ گئی۔ تیل کے تاجروں کو خدشہ ہے کہ اگر چینی معیشت میں سستی آئی تو تیل کی مانگ میں کمی آ سکتی ہے۔
اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چینی حکام نے سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں اور بہت سی کمپنیوں نے اپنے ملازمین سے کہا ہے کہ وہ گھر سے کام کریں۔
انتظامیہ خطرناک وائرس کورونا کی وبا کو پھیلاؤ سے روکنے کے لیے شدید جدوجہد کر رہی ہے۔ یہ سب ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب لاکھوں افراد نئے چینی سال کی تقریبات کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
بیجنگ اور ہانگ کانگ میں حکومت نے نئے سال کی بڑی تقریبات کو وائرس سے پھحلنے والے خطرے کے پیش نظر منسوخ کر دیا ہے تاکہ عوام آپس میں گھل مل نہ سکیں جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ووہان شہر اور ہوبائی صوبہ جہاں سب سے زیادہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے وہاں انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔
ماہرین کی رائے میں اس کا موازنہ 2003 میں سارز وائرس کے پھیلنے سے کیا جا سکتا ہے۔ سارز وائرس پھیلنے کے بعد 800 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور سالانہ قومی پیداوار میں اضافہ 11 فیصد سے کم ہو کر 9 فیصد رہ گیا تھا۔
پیر کے روز یورپ میں بھی حصص کے مختلف بازاروں میں سرمایہ کاروں میں تشویش پائی گئی اور جرمن ڈاکس اور فرانسیسی سی اے سی 40 انڈیکس، دونوں 2.5 فیصد سے زیادہ گر گئیں۔
چین میں لگژری برانڈز جیسے کہ لوئی وٹون، کیرنگ، لوریئل اور ہرمز سب ہی کے حصص کی قیمت میں شدید کمی دیکھی گئی۔ یاد رہے کہ گذشتہ ماہ ان سب کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا۔
ادھر لندن میں بربری برانڈ جس کی 16 فیصد سیلز چین میں ہوتی ہیں، اس کے حصص کی قیمت میں 4.79 فیصد کمی ہوئی۔
امریکہ میں وین ریزورٹس جو کہ مکاؤ میں کاسینو چلاتی ہے، پیر کو قیمت گرنے والی کمپنیوں میں آگے تہی اور اس کے حصص میں 6.5 فیصد کمی آئی۔ اسی طرح لاس ویگاس سینڈز نامی کمپنی کو بھی 5.6 فیصد نقصان ہوا۔
امریکی کمپنی ڈزنی نے جمعے کے روز کہا تھا کہ وہ شنگائی میں اپنا پارک وقتی طور پر بند رکھیں گے۔ ڈزنی کے حصص دو فیصد گر گئے اور سفری کمپنیاں بھی نقصان میں رہیں۔











