مشرقی افریقہ: ٹڈی دل کا شدید حملہ، اقوامِ متحدہ کی اقوام عالم سے مدد کی اپیل

،تصویر کا ذریعہEPA
اقوامِ متحدہ نے مشرقی افریقہ میں ٹڈی دل کے شدید حملے سے نمٹنے کے لیے اقوام عالم سے مدد کی اپیل کر دی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے خوراک اور کاشتکاری کے ادارے (ایف اے او) کے ترجمان کے مطابق یہ مدد خوراک اور ذریعہ معاش کی حفاظت اور غذائی قلت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مانگی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشرقی افریقہ کے ممالک ایتھوپیا، کینیا اور صومالیہ میں بڑے پیمانے پر خوراک کھانے والے حشرات نے حملہ کر دیا تھا۔
ایف اے او کو ڈر ہے کہ ٹڈی دل کی تعداد میں جون تک 500 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادارے کے مطابق ایتھوپیا اور صومالیہ نے اس پیمانے پر ان حشرات الارض کے حملے گذشتہ 25 سال میں نہیں دیکھے جبکہ کینیا میں ایسا گذشتہ 70 برس میں نہیں ہوا۔
اگر ٹڈی دل کے جھنڈ اسی رفتار سے پھیلتے اور بڑھتے رہے تو ان سے جنوبی سوڈان اور یوگینڈا بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف اے او کا کہنا ہے کہ ’ان حشرات الارض کے پھیلنے کی رفتار اور بڑھنے کا حجم قدرت کے اصولوں کے برعکس ہے جس کی وجہ سے مقامی اور قومی سطح پر یہ حکام کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔‘
اب ان حملوں سے نمٹنے کا اکلوتا حل ’فضائی کنٹرول‘ یعنی جہاز کے ذریعے کیڑے مار دوائی کا سپرے کرنا باقی رہ گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ جھنڈ یمن سے بحیرہ احمر کے اطراف میں پھیل رہے ہیں۔ سنہ 2019 کے اواخر میں ہونے والی بارشوں نے ٹڈی دل کی افزائش کے لیے بہترین ماحول پیدا کر دیا تھا۔
سال گزرنے کے ساتھ ساتھ اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشرقی افریقہ میں ان کی تعداد میں اضافے کے علاوہ ان کی افزائش انڈیا، ایران اور پاکستان میں بھی ہو رہی ہے جہاں یہ موسم بہار کے دوران جھنڈ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
ٹڈی دل عام طور پر ایک دن میں 150 کلو میٹر تک سفر کر سکتے ہیں۔ ایک خاص عمر میں پہنچنے کے بعد کیڑا اپنے وزن کے برابر کھانا کھا سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
ایف اے او کے مطابق پیرس کے حجم جتنا ایک جھنڈ فرانس کی کل آبادی جتنا کھانا کھا سکتا ہے۔
پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں موسم بہار میں ٹڈی دل کے ممکنہ حملے سے بچنے کے لیے کسانوں کو آگاہی فراہم کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے اے پی پی نے ضلع سیالکوٹ کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریینیو میر محمد نواز سے بات کی کہ اس حوالے ڈھول بجانے اور پٹاخے پھوڑ کر فصلوں پر ٹڈی دل کے حملوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے ڈی سی آفس میں کسانوں کی آگاہی کے لیے ٹڈی دل شکن سیل بنا دیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس نومبر کے مہینے میں پاکستان کے صوبہ سندھ میں ٹڈی دل کا حملہ ہوا تھا جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔
۔










