ایران: جنرل اسماعیل قانی کو نشانہ بنانے کی دھمکی امریکہ کی ریاستی دہشتگردی کی عکاس ہے

جنرل اسماعیل قانی نے تین جنوری کو امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کی قیادت سنبھالی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنجنرل اسماعیل قانی نے تین جنوری کو امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کی قیادت سنبھالی ہے

ایران نے امریکہ کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے نئے سربراہ جنرل اسماعیل قانی کو نشانہ بنانے کی دھمکی کو امریکہ کی ’ریاستی دہشتگردی‘ کا عکاس قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نیوز کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے کہا کہ [امریکی عہدیدار کے] ’یہ تبصرے باضابطہ طور پر اور کھلے عام امریکہ کی ریاستی اور ٹارگٹڈ دہشتگردی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘

ایران کی جانب سے یہ بیان امریکہ کے خصوصی ایلچی برائن ہوک کی اس ’تنبیہ‘ کے بعد سامنے آیا ہے کہ اگر ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے نئے سربراہ اسماعیل قانی کی جانب سے امریکیوں کو نشانہ بنایا گیا تو ان کا انجام ان کے پیشرو جیسا ہوگا۔

ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر کسی امریکی یا امریکی مفاد پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کی جانب سے اس بیان پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔

عباس موسوی نے اسرائیلی حکومت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’صیہونی حکومت کے بعد امریکہ وہ دوسری حکومت ہے جس نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ اس نے اپنی حکومت اور مسلح افواج کی سہولیات کو دہشتگردانہ اقدامات کے لیے استعمال کیا اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔‘

موسوی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ امریکہ کی ’ریاستی دہشتگردی‘ کی مذمت کرے کیونکہ ’جلد یا بدیر وہ بھی اس سے متاثر ہوں گے۔‘

ایران، جنرل قاسم سلیمانی، جنرل اسماعیل قانی، حسن روحانی، آیت اللہ خامنہ ای

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننو جنوری کو جنرل قاسم سلیمانی کی یاد میں منعقد کی گئی ایک دعائیہ تقریب میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای قدس فورس کے نئی سربراہ اسماعیل قانی (دائیں) اور ایران کے صدر حسن روحانی (بائیں) کے ساتھ موجود ہیں

یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکہ نے صدر ٹرمپ کے حکم پر ایک ڈرون میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ 62 سالہ جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا تھا۔

سلیمانی کی ہلاکت کے فوراً بعد قدس فورس کے نئے سربراہ قانی نے ایران کی جانب سے ردعمل کا وعدہ کیا تھا جس کے بعد عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے گئے تھے۔

’دھمکی نہیں، مفادات کا تحفظ‘

ڈیووس کانفرنس 2020 کے موقع پر ایران کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی برائن ہوک کا کہنا تھا کہ ’اگر (اسماعیل) قانی نے بھی امریکیوں کو قتل کرنے کی روایت قائم رکھی تو ان کا بھی وہی انجام ہوگا۔‘

عربی اخبار الشرق الاوسط کو انٹرویو کے دوران برائن ہوک نے مزید کہا کہ یہ کوئی نئی دھمکی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ: ’صدر ٹرمپ نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ وہ امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات اٹھائیں گے۔ کسی امریکی یا امریکی مفاد پر حملہ کیا گیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

قدس فورس ایران کی سکیورٹی فورسز پاسداران انقلاب کی وہ شاخ ہے جس کے پاس ایران سے باہر فوجی آپریشن کرنے کی ذمہ داری ہے۔ اسے سنہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے موقع پر تشکیل دیا گیا تھا تاکہ ملک کے اسلامی نظام کی حفاظت کی جاسکے۔

امریکہ ایران

بدھ کو ایک ٹویٹ میں ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ خطے کی بہتری کے لیے ایران اپنے ہمسایہ ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تاہم انھوں نے امریکہ سے تعلقات میں بہتری سے متعلق کوئی بیان نہیں دیا۔

قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے بدلہ لینے کا اعلان کیا اور پھر ان کی تدفین کے چند گھنٹے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کر دیے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

قاسم سلیمانی مشرق وسطیٰ میں ایران کے ریاستی اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے کام کرتے تھے۔ انھوں نے شام، عراق، لبنان اور یمن میں متحرک کردار ادا کیا۔ ان کی ہلاکت کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔

قدس فورس کے نئے سربراہ کون ہیں؟

جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد اسماعیل قانی قدس فورس کے نئے سربراہ بن گئے تھے۔

63 سالہ اسماعیل قانی ملک کے مقدس شہر مشہد میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے قاسم سلیمانی کی طرح 1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی خونی جنگِ ایران و عراق میں حصہ لیا تھا۔

ان کی سرگرمیوں کے بارے میں محدود معلومات موجود ہیں لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ قاسم سلیمانی مغرب کی جانب اپنا دھیان مرکوز رکھتے تھے جبکہ اسماعیل قانی مشرق میں ایران کی ترجیحات کی دیکھ بھال کرتے تھے، جیسے منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام اور طالبان سے جھڑپوں میں افغانستان کے ناردرن الائنس کی مدد کرنا۔

قانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے خلاف ایک مظاہرے میں اسماعیل قانی کی تصویر پر ’سردار انتقام‘ لکھا ہوا ہے

امریکہ، ایران کشیدگی

سنہ 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد ایران کے افزودہ کیے گئے یورینیئم کی ایک حد مقرر کی گئی تھی۔ جس کے بدلے میں کچھ پابندیاں ختم کی گئی تھیں اور ایران تیل کی برآمد کر سکتا تھا جو ایرانی حکومت کا بڑا ذریعہ آمدن ہے۔

لیکن امریکہ نے یہ معاہدہ 2018 میں ختم کر دیا اور پابندیاں پھر سے عائد کر دیں۔ اس کی وجہ سے ایران میں معاشی بحران آیا، اس کی کرنسی ریکارڈ حد تک گر گئی اور وہاں سے غیر ملکی سرمایہ کار بھی دور ہوئے۔

ایران نے بھی جوہری معاہدے کے تحت کیے وعدوں سے ہٹنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

رواں سال کے آغاز پر امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکہ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو عراق میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کردیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے امریکی ڈرون حملے کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے قاسم سلیمانی کو ایک ’عفریت‘ قرار دیا تھا جبکہ ایران میں اس پر تین روزہ سوگ منایا گیا تھا اور جوابی کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے عراق میں دو امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔

اس کشیدگی کے دوران جب یوکرینی مسافر طیارے پی ایس 752 نے ایران کے دارالحکومت تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیئو جانے کے لیے پرواز بھری تو یہ ایرانی میزائل حملوں کی زد میں آنے پر گِر کر تباہ ہو گیا تھا جس سے مسافر اور عملہ سمیت 176 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ابتدائی طور پر انکار کے بعد ایران نے اسے ایک انسانی غلطی قرار دیا تھا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے اس حادثے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اپنی فوج سے وضاحت بھی مانگی تھی۔