عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ: ’میانمار روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عالمی عدالت انصاف نے میانمار کو حکم دیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کُشی کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔
عالمی عدالت انصاف کے 17 رکنی بینچ کا یہ متفقہ فیصلہ جج عبدالقوی احمد یوسف نے پڑھ کر سنایا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت انصاف روہنگیا مسلمانوں کی مبینہ نسل کُشی کے خلاف میانمار پر لگائے جانے والے الزامات پر مبنی مقدمہ سننے کی مجاز ہے۔
عدالت انصاف نے اس مقدمے میں مدعی ملک گیمبیا کو مقدمے کی کارروائی کو مزید آگے بڑھانے کی اجازت دینے کا حکم بھی دیا۔
عدالت انصاف نے قرار دیا ہے کہ میانمار نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا سے متعلق سنہ 1948 کے کنونشن کے آرٹیکل دو کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھائے جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ کسی مخصوص نسل یا گروہ کے لوگوں کے قتل نہ ہو اور کسی گروہ کے افراد کو ذہنی یا جسمانی نقصان نہ پہنچایا جائے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
عالمی عدالت انصاف نے یہ فیصلہ گیمبیا کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر دیا ہے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو روکنے، ان کو محفوظ بنانے اور ماضی میں ان کے خلاف کیے گئے اقدامات کے شواہد کو محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں۔
گذشتہ ہفتے اس حوالے سے عالمی عدالت انصاف میں ہوئی کارروائی کے دوران میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے 17 رکنی عدالتی بینج سے استدعا کی تھی کہ اس مقدمہ کو اس فورم پر نہ سنا جائے۔ عدالت کے روبرو انھوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ غیر متناسب فوجی قوت کے استعمال کے نتیجے میں شاید چند سویلین ہلاک ہوئے ہوں مگر یہ اقدامات نسل کشی کے زُمرے میں نہیں آتے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کو خدشہ ہے کہ میانمار میں نسل کشی کے واقعات دوبارہ رونما ہو سکتے ہیں۔
مغربی افریقہ کے مسلمان اکثریتی ملک گیمبیا نے اس حوالے سے گذشتہ برس نومبر میں اقوام متحدہ کی اعلی عدالت سے رجوع کیا تھا، جہاں مختلف ممالک کے درمیان تنازعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس مقدمے کی سماعت ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور فی الحال گیمبیا کی جانب سے صرف ہنگامی ابتدائی اقدامات اٹھانے کی استدعا کی گئی ہے۔
اس کیس کا مکمل فیصلہ آنے میں برسوں بھی لگ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUN Web TV
عالمی عدالت انصاف میں ہونے والے فیصلے حتمی ہوتے ہیں اور ان کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی تاہم عدالت انصاف کے پاس اس طرح کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس کے ذریعے یہ اپنے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کو ممکن بنا سکے۔
یاد رہے کہ سنہ 2017 میں میانمار میں فوجی کریک ڈاؤن کے بعد 730000 سے زائد روہنگیا میانمار سے نکلنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہ تمام مہاجرین اب ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں قائم عارضی پناہ گزیں کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔
اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ میانمار میں فوجی مہم کا آغاز 'نسل کشی کی نیت' سے کیا گیا تھا۔
تاہم رواں ہفتے میانمار حکومت کی جانب سے بنائے گئے ایک تفتیشی پینل نے قرار دیا ہے کہ فوج نے شاید کچھ جرائم کا ارتکاب کیا ہو مگر اس بات کا اشارہ نہیں ملتا کہ یہ سب نسل کشی کی نیت سے کیا گیا تھا۔ میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرے گی اور فوجی احتساب اور قوانین کے تحت ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی، بشرطیکہ اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہوئے تو۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سوچی کو عالمی عدالتِ انصاف لانے والا شخص کون؟
گمبیا کے وزیر قانون ابوبکر تمباڈو وہ شخص ہیں جن کی کوششوں کی بدولت میانمار کی رہنما اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں پیش ہو کر یہ تردید کرنی پڑی تھی کہ ان کی حکومت ملک کی روہنگیا اقلیت کے قتل عام میں ملوث نہیں تھی۔
تمباڈو روانڈا پر بنائے جانے والے اقوام متحدہ کے ٹرائیبیونل کے سابقہ پراسیکیوٹر ہیں۔ روانڈا کی نسل کشی میں آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تمباڈو سنہ 1972 میں گیمبیا کے دارالحکومت بنجول میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد نے تین شادیاں کر رکھی تھیں اور وہ اپنے 18 بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نوجوانی میں وہ سپورٹ میں دلچسپی رکھتے تھے اور فٹبال کے مقابلوں میں انھوں نے اپنے ملک کے لیے کافی تمغے حاصل کیے۔
اس مضمون میں اینا ہولیگن نے ابوبکر تمباڈو کے حالات زندگی پر ایک نظر ڈالی ہے۔
یہ ایک غیر متوقع سفر تھا جس میں ابوبکر مغربی افریقہ کے چھوٹے سے ملک گیمبیا سے نکل کر بنگلہ دیش کے ساحلی شہر کاکس بازار میں قائم پناہ گزین کیمپ پہنچے جہاں ان پر بہت سے راز افشا ہوئے۔
بچ جانے والے روہنگیا افراد کی کہانیاں سن کر ان کے مطابق انھیں ایسا محسوس ہوا جیسے انسانی لاشوں کا تعفن میانمار کی سرحد پار کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہو رہا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں نے محسوس کیا کہ یہ سب اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے جتنا ہم ٹی وی کی سکرینوں پر دیکھ رہے تھے۔‘
’فوج اور عام افراد روہنگین افراد کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت حملے کر رہے تھے، ان کے مکانات کو نذرِ آتش کرتے، ماؤں کی گودوں سے ان کے بچے چھین کر بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دیتے، مردوں کو اکٹھا کر قتل کرتے، عورتوں کا گینگ ریپ کرنے کے علاوہ ہر طرح کی جنسی زیادتیوں کا شکار بناتے۔‘
’روانڈا جیسی صورتحال‘

،تصویر کا ذریعہAFP
روہنگیا کی حالت زار نے تمباڈو کے ذہن میں روانڈا میں سنہ 1994 میں ہونے والی نسل کشی کی یاد تازہ کر دی جس میں آٹھ لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔
’یہ حالات سننے میں بالکل ویسے لگتے ہیں جیسے روانڈا میں ٹوٹسی قبیلے کے افراد کو درپیش تھے۔‘
’(میانمار میں بھی) طریقہ بالکل ویسا ہی تھا۔ غیر انسانی عمل، ان کو مختلف ناموں سے پکارنا، اس میں نسل کشی کی تمام بنیادی نشانیاں تھیں۔ میں نے یہ سوچا کہ یہ میانمار کے حکام کی جانب سے روہنگیا گروہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی ایک کوشش تھی۔‘
میانمار نے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے ایک ایگزیکٹیو سمری جاری کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری تفتیش سے یہ پتا چلا ہے کہ درحقیقت یہ مسلمان شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں میانمار کی فوج کی جانب سے ’حادثاتی انداز‘ میں دیا گیا ردعمل تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے عالمی عدالت انصاف میں کہا تھا کہ میانمار میں ہوئی تفتیش سے یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس معاملے میں کسی بھی نوعیت کی بین الاقوامی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔
تمباڈو کہتے ہیں کہ کچھ نہ کرنا ان کے لیے کوئی آپشن نہیں تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آخر کار یہ انسانیت سے متعلق ہے۔‘
’ذاتی طور پر میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا اس سے میں متنفر ہوا۔ پیشہ وارانہ حیثیت میں میں نے سوچا کہ میانمار کی اس کے اعمال پر باز پرس ہونی چاہیے اور ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ اس معاملے کو عالمی عدالتِ انصاف میں لے جایا جائے۔‘
اور یہ ممکن بنانے کے لیے تمباڈو بنگلہ دیش میں قائم روہنگیا کیمپ میں پہنچے۔










