گرائے جانے والے یوکرینی طیارے کا بلیک باکس واپس کرنے کے لیے ایران پر مغربی ممالک کے دباؤ میں اضافہ

بین الاقوامی برادری ایران پر زور دے رہی ہے کہ وہ گرائے جانے والے یوکرینی مسافر طیارے کا بلیک باکس تفتیش کے لیے مغربی ممالک کے حوالے کرے۔

تاہم ایران کا موقف ہے کہ وہ خود اس بلیک باکس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سے قبل آنے والی خبروں سے ایسے لگ رہا تھا کہ ایران بلیک باکس یوکرین کے حوالے کرنے کو تیار ہے تاہم تہران نے ایسی تمام خبروں کی تردید کی ہے۔

عالمی برادری بالخصوص کینیڈا نے اس بات پر زور دے رہی ہے کہ فرانس اس طرح کا ڈیٹا ڈی کوڈ کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔

آٹھ جنوری کو مار گرائے جانے والے طیارے میں ہلاک ہونے والے 176 شہریوں میں سے 57 کا تعلق کینیڈا سے تھا۔

طیارہ گرائے جانے کے بعد سے ایران پر اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کروانے کے لیے دنیا بھر سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

تہران پہلے ہی اپنے جوہری پروگرام اور خطے پر اثر و رسوخ رکھنے کی کوششوں کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ ایک طویل تنازعے کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کی فوج کا موقف ہے کہ انھوں نے یوکرین کا طیارہ غلطی سے گرایا۔ یاد رہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کیے جانے کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کیے تھے۔

ایرانی سول ایوی ایشن حکام کا موقف

ایرانی سول ایوی ایشن کے ایک اعلیٰ اہلکار حسن رضیفر نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتایا کہ ’ہم ایران میں ہی بلیک باکس کے معائنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بصورت دیگر ہم اسے یوکرین اور فرانس بھیج سکتے ہیں تاہم اسے کسی اور ملک بھیجنے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے۔‘

اس سے قبل ہفتے کو سول ایوی ایشن کے اہلکار رضیفر کے حوالے سے ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک خبر شائع کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بلیک باکس ایران میں ڈی کوڈ نہیں ہو سکتا اور یہ یوکرین کو بھیجا جائے گا کیونکہ انھوں نے اس حوالے سے ایران سے متعدد بار درخواست بھی کر رکھی ہے۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ رضیفر کس بنیاد پر اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ یوکرین کا طیارہ بوئنگ 737-800 تہران سے یوکرین کے دارالخلافہ کی طرف پرواز کر رہا تھا۔

اس طیارے کے زیادہ تر مسافر ایرانی تھے یا دہری شہریت کے حامل تھے۔

کینیڈا کے وزیر خارجہ فرانسوا فلیپے شیمپین نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے ایرانی ہم منصب جواد ظریف کو اتوار کو بتایا ہے کہ یہ بلیک باکس جلد سے جلد فرانس یا یوکرین کو بھیج دیا جائے۔

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بلیک باکس کی حوالگی سے متعلق ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات خاصے پیچیدہ اور تناؤ والے ہیں۔

کینیڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کے مطابق ان کے دو اہلکار چھ دن تہران میں گزار کر واپس آ گئے ہیں۔ تہران میں اپنے قیام کے دوران انھوں نے وہاں جہاز کے ملبے کا معائنہ کیا۔

کینیڈا کے مطابق ایرانی حکام نے اس دوران بہت تعاون کیا لیکن یہ ابھی تک کوئی ایسا واضح پلان سامنے نہیں آیا ہے کہ بلیک باکس کو کب اور کیسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔

اس سے قبل یوکرین نے کہا تھا کہ اسے امید ہے کہ جہاز کا ریکارڈر ان کے حوالے کیا جائے گا جبکہ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ فرانس ان چند ممالک میں شامل ہے جو ریکارڈر سے سب معلوم کر سکتا ہے۔

فرانس کی فضائی حادثات سے متعلق کھوج لگانے والی کمپنی بی ای اے نے سنیچر کو کہا ہے کہ وہ اس متعلق کسی قسم کے تعاون کی درخواست کی منتظر ہے۔ گرائے جانے والے طیارے میں سوار 11 یوکرینی شہریوں کو اتوار کو کیو کے ایئرپورٹ پرلایا گیا جہاں اس حوالے سے ایک تقریب کا اہمتام کیا گیا تھا۔

یوکرین کے وزیر خارجہ ویدم پریسٹا ئیکو نے کہا ہے کہ غمزدہ خاندان اور پوی قوم کے لیے یہ بچھڑ جانے والوں کو تکریم دینے کا موقع ہے۔

یہ طیارہ ایک ایسے وقت میں مار گرایا گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان سخت تناؤ والی کیفیت پائی جاتی تھی۔ امریکہ کی طرف سے ایران کے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر تین جنوری کو میزائل سے حملے کیے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے ایرانی فوج کی جانب سے طیارے کو مار گرانے کو ناقابل معافی غلطی قرار دیا اور یہ وعدہ کیا کہ زمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مظاہروں کے بعد پاسداران انقلاب نے اس واقعے پر معافی بھی مانگی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جمعے کو کہا ہے کہ ’کچھ (عناصر) اس واقعے کو ہمارے عظیم جنرل (قاسم سلیمانی) کی شہادت کو پس منظر میں لے جانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘