#IranPlaneCrash: یوکرینی طیارے پر سوار کینیڈین شہریوں میں نوبیاہتا جوڑے، خاندان، طلبا اور ماہر تعلیم شامل تھے

یوکرین کی بین الاقوامی ایئر لائنز کی پرواز پی ایس 752 میں سوار 176 مسافروں اور عملے کے اراکین میں سے 57 کینیڈا کے شہری تھے۔

یہ فلائیٹ بدھ کے روز ایران کے دارالحکومت تہران سے پرواز بھرنے کے چند ہی منٹ بعد گِر کر تباہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں اس پر سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سنیچر کی صبح ایرانی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اس پرواز کو 'دشمن کا ہدف' سمجھ بیٹھے تھے اور انسانی غلطی کے نتیجے میں فوج نے مسافر طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا تھا۔

ابتدا میں کہا جا رہا تھا کہ اس طیارے پر 63 کینیڈین شہری سوار تھے تاہم بعد ازاں کینیڈا کے وزیر خارجہ نے تصحیح کی کہ پرواز پر 57 کینیڈین شہری سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیے

اس پرواز کو تہران سے یوکرین کے دارالحکومت کیئو جانا تھا اور وہاں سے کنیکٹنگ فلائیٹ کے ذریعے اس طیارے پر سوار 138 افراد کو کینیڈا کے لیے روانہ ہوتا تھا۔

کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کہہ چکے ہیں کہ کینیڈین حکام کے پاس اس نوعیت کے شواہد ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ طیارے کو میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ ایسا 'غیر ارادی' طور پر ہوا ہو گا۔

کینیڈا نے طیارے پر موجود بڑی تعداد میں کینیڈین شہریوں کی موجودگی کے باعث حادثے کی شفاف تحقیق اور تحقیقات میں شمولیت کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس پرواز پر اتنے کینیڈین شہری کیوں سوار تھے؟

کینیڈا میں ایرانی النسل افراد کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق کینیڈا میں دو لاکھ دس ہزار ایرانی نژاد افراد بستے ہیں۔

جبکہ ایرانی طلبا بھی اعلی تعلیم اور ریسرچ کے حصول کے لیے کینیڈا آنا پسند کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بدقسمت طیارے پر سوار کینیڈین شہریوں میں سے زیادہ تر ایرانی نژاد طلبا تھے جو موسم سرما کی چھٹیاں اپنے ملک بیتا کر واپس کینیڈا لوٹ رہے تھے تاکہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

کینیڈا اور ایران کے درمیان کوئی ڈائریکٹ فلائیٹ نہیں ہے۔ اور ایرانی نژاد افراد میں یوکرین کی بین الاقوامی ایئر لائنز کی وہ فلائیٹ کافی مقبول ہے جو تہران سے براستہ کیئو ٹورنٹو جاتی ہے۔

یہ فلائیٹ دوسری پروازوں کی نسبت سستی بھی پڑتی ہے۔

اس طیارے پر 57 کینیڈین شہریوں کے علاوہ، 82 ایرانی، 11 یوکرینی جبکہ سویڈن، برطانیہ، افغانستان اور جرمنی کے شہری بھی سوار تھے۔ یہ پہلا ایسا فضائی حادثہ نہیں ہے جس سے کینیڈا متاثر ہوا ہے۔

گذشتہ برس 18 کینیڈین شہری ایتھوپین ایئر لائنز کی اس پرواز پر سوار تھے جو ایڈس ابابا سے نیروبی جا رہی تھی اور حادثے کا شکار ہوئی۔

کینیڈا نے سنہ 2012 میں تہران میں قائم اپنے سفارت خانے کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ملک سے ایرانی سفارت کاروں کو نکل جانے کا حکم دیا تھا۔

تہران میں ایرانی سفارت خانہ نہ ہونے کے باعث ایرانی نژاد کینیڈین شہری قونصلر سروسز کے لیے اٹلی میں قائم کینیڈین سفارت خانے سے رجوع کرتے ہیں۔

ہلاک ہونے والے شہری کون ہیں؟

طیارے پر سوار کینیڈین شہریوں میں نئے شادی شدہ جوڑے، خاندان، طلبا، پروفیشنلز اور ماہر تعلیم شامل تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں 57 تو کینیڈا کے شہری تھے مگر دیگر افراد جو شہری تو نہیں تھے مگر ان کے پاس کینیڈا میں رہائش کے عارضی اجازت نامے تھے اور اسی بنا پر وہ کینیڈا کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔

ان شہریوں کا تعلق مونٹریال، ٹورنٹو، وانکور، اوٹاوا اور ایڈمونٹون سے تھا۔

دو کینیڈین خاندان ایسے بھی جو اس فلائیٹ پر سوار تھے۔ ان میں اردالان ایبنوڈین حامدی ان کی اہلیہ اور ایک بچہ شامل ہے۔ جبکہ پدرم موسوی، ان کی اہلیہ اور دو بیٹیاں بھی بدقسمت پرواز پر سوار تھیں۔

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر کی عمریں 20 سے 40 سال کے درمیان تھیں مگر ان میں چند بچے بھی شامل تھے۔

کینیڈا بھر میں ہلاک ہونے والے کینیڈین شہریوں کی یاد میں شمعیں روشن کی جا رہی ہیں اور دعائیہ تقریبات کا انتظام کیا جا رہا ہے۔