صدر ٹرمپ کا مواخذہ: صدر ٹرمپ پر لگائے گئے الزامات امریکی عوام کے خلاف ایک ’خطرناک حملہ‘ قرار

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں ان کا دفاع کرنے والی وکلا کی ٹیم نے اس مقدمے پر اپنا پہلا ردعمل دیتے ہوئے ان (صدر ٹرمپ) کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو امریکی عوام کے خلاف ایک ’خطرناک حملہ‘ قرار دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم کی جانب سے لکھے گئے چھ صفحات پر مشتمل خط میں کہا گیا کہ مواخذے کے آرٹیکلز کوئی بھی جرم عائد کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ سنہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات میں دخل انداز ہونے کی 'شرمناک' کوشش ہے۔
صدر ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے کا باضابطہ آغاز 21 جنوری سے ہو گا۔
صدر ٹرمپ امریکہ کی تاریخ کے تیسرے ایسے صدر ہیں جنھیں مواخذے کی کارروائی کا سامنا ہے۔ صدر ٹرمپ پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور ایوانِ نمائندگان کے کام میں مداخلت کرنے کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ایک 'افواہ' قرار دیا ہے۔
گذشتہ ماہ ایوانِ نمائندگان، جہاں حزبِ اختلاف ڈیموکرٹک پارٹی کی اکثریت ہے، نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری دے دی تھی۔ اب ریپبلکن پارٹی کی اکثریت والی سینیٹ نے فیصلہ کرنا ہے کہ انھیں صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے گا یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے چھ صفحات پر مشتمل اپنے خط میں صدر کے دفاع میں وہ قانونی نکات بتائے ہیں جو ان کے خیال میں اس مقدمے کے ٹرائل میں وہ استعمال کر سکتے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے جمع کروائے گئے مواخذے کے آرٹیکلز ’امریکی عوام کے آزادانہ طور پر اپنے صدر کے انتخاب کے حق پر ایک خطرناک حملہ ہے۔‘
’یہ سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات کو تہہ و بالا کرنے اور سنہ 2020 کے صدارتی انتخابات، جو کہ اب چند ماہ کی دوری پر ہیں، میں دخل اندازی کی ایک غیر قانونی اور شرمناک کوشش ہے۔‘
صدر کی قانونی ٹیم میں کون کون شامل ہے؟

،تصویر کا ذریعہREUTERS AND GETTY IMAGES
آئندہ ہفتے سینیٹ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے مقدمے میں ان کا دفاع سابق صدر بل کلنٹن کے مواخذے کے دوران ان سے تفتیش کرنے والے وکلا کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا دفاع کرنے والے وکلا میں کین سٹار اور رابرٹ رے شامل ہیں جنھوں نے سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے مواخذے کے مقدمے میں ان سے تفتیش کی تھی۔
وکلا کی اس ٹیم میں ایلن درشووتز بھی شامل ہیں جو ماضی میں فٹبال کھلاڑی او جے سمپسنز کے وکیل بھی رہ چکی ہیں۔ یاد رہے کہ سمپسنز پر اپنی اہلیہ اور ان کے دوست کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ اس مقدمے کو ’صدی کا مقدمہ‘ بھی کہا جاتا ہے اور سمپسنز اس مقدمے میں بری ہو گئے تھے۔
وائٹ ہاؤس کے وکیل پیٹ سپولون اور ٹرمپ کے ذاتی وکیل جے سیکیولو وکلا کی اس ٹیم کی قیادت کریں گے۔
وہ وکلا جنھوں نے بل کلنٹن سے تفتیش کی
کین سٹار امریکی محکمہ انصاف کے وہ وکیل ہیں جنھوں نے ’وائٹ واٹر‘ سکینڈل کی تفتیش کی تھی۔ 1980 کی دہائی کے پیٹے میں کھڑے ہونے والے اس سکینڈل کا مرکز دراصل بل اور ہلری کلنٹن کی جانب سے ارکنسز میں کی جانے والی زمین کی خرید و فروخت تھی۔
تاہم اس انکوائری سے آخر کار اس بات کے غیرمتعلقہ شواہد ملے کے کلنٹن کے وائٹ ہاؤس انٹرن مونیکا لیونسکی کے ساتھ تعلقات تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس تفتیش کے نتیجے میں سنہ 1998 میں صدر بل کلنٹن کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے مواخذے کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم کلنٹن کو سینیٹ نے بری کر دیا تھا۔
بعد میں رابرٹ رے نے بطور وکیل کین سٹار کی جگہ لی تھی۔
مونیکا لیونسکی نے جمعے کے روز ٹرمپ کی وکلا کی ٹیم کے اعلان کے تھوڑی دیر بعد ایک ٹویٹ میں کہا کہ: ’یقیناً یہ ’کیا آپ مجھ سے مزاق کر رہے ہیں‘ کہنے والا دن ہے۔‘
سنہ 2016 میں کین سٹار کو بیلور یونیورسٹی کے صدر کے عہدے سے اس وقت ہٹایا گیا تھا جب یہ انکشاف ہوا تھا کہ سکول کی جانب سے اس کے فٹبال کے کھلاڑیوں پر لگے ریپ کے الزامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
انھوں نے بعد میں اس یونیورسٹی سے بطور چانسلر اور قانون کے پروفیسر بھی استعفیٰ دے دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مقدمہ سینیٹ میں چلانے کی قرارداد کی منظوری دے دی ہے۔ اس قرارداد کی حمایت (228) اور مخالفت (193) میں ووٹ کم و بیش ایوان میں پارٹی سیٹوں کے مطابق ہی ڈالے گئے۔
ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پیلوسی کے مواخذے کے آرٹیکلز پر دستخط کرتے کے وقت ان کے ہمراہ ڈیموکریٹک پارٹی کے وہ اراکین موجود تھے جو کہ سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے خلاف استغاثہ کا کردار ادا کریں گے۔
مواخذے کے آرٹیکلز پر دستخط کرنے سے پہلے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نینسی پیلوسی نے کہا ’آج ہم تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ جب مینیجرز ہال پار کر کے جائیں گے، تو ہم تاریخ کا ایک اہم موڑ پار کریں گے، امریکہ کے صدر کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور ایوانِ نمائندگان کے کام میں مداخلت کرنے کی بنا پر مواخذے کے آرٹیکلز بھیجنا۔‘
اس کے بعد مواخدے کے آرٹیکلز سینیٹ کو بھیجے گئے جہاں ریپبلکن سینیٹ لیڈر مچ مکونل نے کہا کہ انھیں جمعرات کی دوپہر آویزاں کیا جائے گا اور پھر ایوانِ بالا میں انھیں پڑھا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
انھوں نے بتایا کہ یہ مقدمہ منگل کے روز شروع ہوگا۔ صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور کانگریس کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔
صدر ٹرمپ اس الزام سے تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے یوکرین کے سربراہ پر گذشتہ سال 25 جولائی کو ایک فون کال کے دوران آئندہ انتخابات میں اپنے ممکنہ ڈیموکرٹک حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا۔
ماضی میں دو امریکی صدور، اینڈریو جانسن اور بل کلنٹن کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوئی جبکہ تیسرے صدر رچرڈ نکسن مواخذے کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی مستعفی ہو گئے تھے۔
امریکہ کی تاریخ میں کسی بھی صدر کو مواخذے کی کارروائی کے نتیجے میں عہدہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے خلاف شروع ہونے والی انکوائری میں نئی روایات جنم لے رہی ہیں۔ یہ پہلا موقع ہو گا جب صدر نے ایوان نمائندگان کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کیا ہے۔
امریکی جمہوری نظام کے ماہرین کی نظر میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
صدر کے مواخذے کے لیے ضروری ہے کہ دو تہائی ممبران اس کی حمایت میں ووٹ ڈالیں جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے اور اس طرح یہ کارروائی وہیں رک جائے گی۔
’صدر ٹرمپ کو سب پتا تھا‘
صدر ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو بالکل صحیح انداز میں معلوم تھا کہ یوکرین پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کریں۔
روڈی جولیانی کے مشیر لیو پرناس نے یہ بات ایم ایس این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔
لیو پرناس کو بھی اس سلسلے میں علیحدہ الزامات کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روڈی جولیانی جو بائیڈن کی مبینہ بدعنوانی کی تحقیق نہیں کر رہے تھے۔
ان کے مطابق ان کاوشوں کا مقصد صدر ٹرمپ کے ممکنہ ڈیموکریٹک حریف کو نقصان پہنچانا تھا۔ لیو پرناس نے ان الزامات کے سلسلے میں اپنی اور روڈی جولیانی کے درمیان پیغامات کو بطور ثبوت حکام کے آگے پیش کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
مواخذہ ہے کیا؟
اس معاملے میں 'مواخذے' کا مطلب ہے کہ صدر کے خلاف الزامات کانگرس میں لائیں جائیں جو ان کے خلاف مقدمے کی بنیاد بنیں گے۔
امریکی آئین کے مطابق 'صدر کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے اس صورت میں ہٹایا جا سکتا ہے جب انہیں بغاوت، رشوت ستانی، کسی بڑے جرم یا بد عملی کی وجہ سے سزا دینا درکار ہو۔'
مواخذہ کی کارروائی ایوانِ نمائندگان سے شروع ہوتی ہے اور اس کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس کا مقدمہ سینیٹ میں چلتا ہے۔
یہاں صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور امریکی تاریخ میں یہ سنگ میل کبھی عبور نہیں ہوا۔
کس کا مواخذہ کیا گیا؟
اگرچہ کئی مواقع پر مواخذے کی دھمکیاں ملتی رہیں لیکن آج تک دراصل صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا۔
ماضی قریب میں صدر بل کلنٹن جو کہ بیالیسویں امریکی صدر تھے جن کا انصاف کی راہ میں حائل ہونے، مونیکا لیونسکی کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں جھوٹ بولنے اور مبینہ طور پر انہیں بھی جھوٹ بولنے پر اکسانے کے الزام میں مواخذہ ہوا۔
ایوان نے پہلے الزام پر 228 میں سے 206 ووٹوں کے ساتھ مواخذے کی حمایت کی جبکہ دوسرے الزام پر 221 میں سے 212 لوگوں نے حمایت کی۔
یہ بھی خیال رہے کہ دسمبر 1998 میں بل کلنٹن کی بطور صدر توثیق کی شرح 72 فیصد تھی۔
تاہم جب 1999 میں یہ معاملہ سینیٹ تک پہنچا تو حکم نامہ کی منظوری کے لیے دو تہائی حمایت حاصل نہ کر سکا۔
اس وقت ایک تجزیے میں بی بی سی نے لکھا 'صدر کو ہٹانے کی اپنی بے قراری میں انھوں نے یہ سوچنا ترک نہیں کیا کہ کیا ان الزامات کو ثابت کیا جا سکے گا؟'

،تصویر کا ذریعہReuters
مواخذہ مشکل کیوں ہے؟
کسی امریکی صدر کو ان کے عہدے سے ہٹانا مشکل اس لیے ہے کہ اس کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی منظوری چاہیے۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ماہرِ قانون جانتھن ٹرلی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ایوانِ نمائندگان (ایوانِ زیریں) میں صرف ایک سادہ اکثریت چاہیے۔ ڈیموکرٹس کے زیرِ کنٹرول ایوانِ نمائندگان بالکل ایک صدر کا جو کہ ریپلکن ہیں، باآسانی مواخذہ کر سکتے ہیں اگر وہ جرم ثابت کر لیں۔'
اس کے بعد سینیٹ (ایوانِ بالا) صدر پر ایک مقدمہ چلاتی ہے جس میں سزا کی صورت میں انھیں عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے مگر اس کے لیے سادہ اکثریت کافی نہیں۔
پروفیسر ٹرلی کا کہنا ہے کہ 'اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ ریپبلیکن اکثریت والی سینیٹ صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹائے جب آپ کو ایک بھاری اکثریت چاہیے۔'
صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ کی دو تہائی اکثریت یعنی 100 میں 67 سینیٹرز کی حمایت چاہیے۔
تاہم کیونکہ 53 سینیٹر اس وقت ریپبلکن ہیں، اس بات کا امکان بہت کم ہے ان کی کوئی بڑی تعداد صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ ڈالے گی۔
تاریخ میں صرف دو امریکی صدور کا مواخذہ ہوا ہے، 1868 میں اینڈریو جانسن اور 1998 میں بل کلنٹن مگر دونوں کو سینیٹ سے بری کر دیا گیا۔











