دریائے نیل پر افریقہ کا سب سے بڑا ڈیم کسی جنگ کا پیش خیمہ تو نہیں؟

.ym

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرینیسنس ڈیم ایتھوپیا کے لیے قومی افتخار کی علامت بن چکا ہے
    • مصنف, بیسلیو مُتاہی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز، نیروبی

دریائے نیل پر پن بجلی کے لیے ایک بہت بڑے ڈیم کے منصوبے پر ایتھوپیا اور مصر کے درمیان ایک عرصے سے جاری تنازعے کے حل کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور واشنگٹن میں شروع ہونے کو ہے۔

گذشتہ برس اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے 15 جنوری 2010 کی حتمی تاریخ مقرر کی گئی تھی، لیکن پچھلے ہفتے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا تازہ ترین دور بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔

جب ایتھوپیا کا ’گرینڈ رینیسنس ڈیم‘ کا منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچ جائے گا تو یہ براعظم افریقہ میں پانی سے بجلی پیدا کرنے والا سب سے بڑا پلانٹ ہوگا۔

شمالی ایتھوپیا کے پہاڑی علاقے میں، جہاں سے دریائے نیل میں گرنے والا ایک دریا نکلتا ہے، اس پر اس ڈیم کی تعمیر 2011 میں شروع ہو گئی تھی۔ دریائے نیل کا 85 فیصد پانی اسی دریا سے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن اس میگا ڈیم کے منصوبے سے مصر اور ایتھوپیا کے درمیان ایک بہت بڑا جھگڑا شروع ہو گیا اور سوڈان بھی اس جھگڑے میں پھنس چکا ہے۔ مصر اور سوڈان میں اس ڈیم کے حوالے سے جھگڑا اتنی شدت اختیار کر گیا تھا کہ کچھ لوگوں کو خدشہ ہو چلا تھا کہ دونوں ملکوں میں جنگ نہ ہو جائے۔ اب امریکہ دونوں کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور آئندہ واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

یہ ڈیم اتنا متنازعہ کیوں ہے؟

اس تنازعہ کی سب سے بڑی وجہ یہاں ایک بہت بڑے ڈیم کی تعمیر ہے جس سے مصر کو خدشہ ہے کہ اس سے افریقہ کے طویل ترین دریا کا کنٹرول ایتھوپیا کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔

اگرچہ بجلی پیدا کرنے کے لیے بنائے جانے والے ڈیم سے پانی کی مقدار پر فرق نہیں پڑتا، لیکن جس رفتار پر ایتھوپیا اس ڈیم کو پانی سے بھرنا چاہتا ہے، اس سے مصر میں داخل ہونے سے پہلے دریائے نیل کا بہاؤ کم ہو جائے گا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایتھوپیا 74 ارب مربع میٹر کے اس ڈیم کو جتنا آہستہ آہستہ بھرے گا، مصر میں دریائے نیل کے پانی کی سطح میں کمی اسی قدر کم ہو گی، لیکن اگر ایتھوپیا اسے جلد از جلد بھرنا چاہے گا تو مصر کے لیے مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ایتھوپیا اس ڈیم کو چھ سال میں بھرنا چاہتا ہے۔

گذشتہ برس ستمبر میں ایتھوپیا کے وزیرِ آب سلیشی بکیلی نے کہا تھا کہ ’ ہمارا منصوبہ یہ ہے کہ اسے اگلے سال موسم برسات سے بھرنا شروع کر دیں اور ہم دسمبر 2020 تک دو ٹربائنز میں سے بجلی پیدا کرنا شروع کر دیں۔‘

لیکن مصر کی تجویز تھی کہ اس کام کو زیادہ عرصہ دیا جائے تاکہ دریا میں پانی کی سطح یکدم نہ گرے، خاص طور پر ڈیم کو بھرنے کے آغاز میں پانی کی سطح تیزی سے نہ گرے۔

اسی اختلاف کی وجہ سے مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے درمیان ڈیم کو بھرنے کے حوالے سے ہونے والے تین طرفہ مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے اور اب اب امریکہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ ثالث کا کردار ادا کرے۔

پچھلے ہفتے ہونے والے مذاکرات کے بعد مسٹر سلیشی نے الزام لگایا تھا کہ مصر معاہدہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

ایتھوپیا کے وزیر آب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایتھوپیا کے وزیر آب کہتے ہیں وہ جولائی سے ڈیم کو بھرنا شروع کر دیں گے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میں نہیں سمجھتا کہ جب مصری یہاں آئے تو وہ کسی معاہدے پر متفق ہونے کے لیے آئے تھے۔‘

’وہ اپنے ساتھ ایک نیا منصوبہ لیکر آئے کہ ڈیم کو کب بھرنا چاہیے۔ اس نئے منصوبے کے تحت ڈیم کو بھرتے بھرتے 12 سے 21 سال کا عرصہ لگ جائے گا۔‘

’یہ ٹائم ٹیبل کسی بھی لحاظ سے قابلِ قبول نہیں ہے۔‘

تاہم دوسری جانب، مصر کے وزیرِ آب محمد عبدالعطائی کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ڈیم کو بھرنے کے ٹائم ٹیبل سمیت تمام معاملات پر تمام فریقوں نے ایک دوسرے کی بات کو سمجھ لیا ہے۔

مصر اتنا پریشان کیوں ہے؟

پانی کے لیے مصر کا 90 فیصد انحصار دریائے نیل پر ہے اور وہ ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ اس کے ہاں پانی کی کمی ہے اور دریائے نیل میں پانی کا بہاؤ اس کے لیے زندگی موت کا سوال ہے۔

سنہ 1929 (اور پھر سنہ 1959 میں ہونے والے ایک اور) معاہدے کے تحت دریائے نیل کے تقریباً تمام پانی کے حقوق مصر اور سوڈان کو دیے گئے تھے۔ نوآبادیاتی دور کی اس دستاویز میں مصر کو ویٹو کی طاقت بھی دی گئی تھی جس کے تحت اگر مصر کو پانی میں کمی کا خدشہ ہو تو وہ ان ممالک میں کسی بھی منصوبے کو رد کر سکتا تھا جہاں سے دریائے نیل مصر میں داخل ہونے سے پہلے گزرتا ہے۔

ماضی کے ان معاہدوں میں کسی بھی ایسے ملک کی پانی کی ضروریات کے لیے کوئی رعایت نہیں رکھی گئی تھی جو اس معاہدے کا حصہ نہیں تھا۔ ان ممالک میں ایتھوپیا بھی شامل ہے جہاں سے نیلا نیل یا ’نیلِ ارزق‘ گزرتا ہے جو آ گے جا کر دریائے نیل میں گر جاتا ہے، اور دریائے نیل کا زیادہ تر پانی نیلِ ارزق سے آ رہا ہے۔

ایتھوپیا کا کہنا ہے کہ اسے کئی عشروں پرانے معاہدوں میں جکڑنا غلط ہے، اور اسی لیے اس نے مصر سے بات کیے بغیر مارچ 2011 میں ڈیم کی تعمیر شروع کر دی تھی۔ یہ وہی وقت تھا جب مصر میں عرب سپرِنگ کی تحریک شروع ہوئی تھی۔

اسوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشندریائے نیل مصر کے شہر اسوان میں سے گزرتا ہے جو قاہرہ سے 920 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے

اور پھر گذشتہ برس ستمبر میں صدر عبدالفتح السیسی سے منسوب یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ اگر سیاسی ہلچل کی وجہ سے مصر کی توجہ بٹی نہ ہوتی تو ایتھوپیا اس منصوبے پر کبھی بھی کام شروع نہ کر پاتا۔

مصر کہ بڑی پریشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اگر دریائے نیل میں پانی کی سطح گر جاتی ہے تو جھیل ناصر میں پانی کی سطح متاثر بھی ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ مصر اپنی بجلی کی زیادہ تر ضروریات اسوان ڈیم سے پورا کرتا ہے جو جھیل ناصر سے ذرا نیچے تعمیر کیا گیا ہے۔

ایتھوپیا کہتا ہے کہ مصر نے ماضی میں معاہدے کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ مذکورہ ڈیم کو اسوان ڈیم سے جوڑنا چاہیے۔

مسٹر سلیشی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے مصر کو وضاحت سے بتایا تھا کہ ’دونوں ڈیموں کو آپس میں جوڑنا مشکل‘ ہو گا۔

ان کے بقول ’اس کے بعد مصری اپنے موقف سے تھوڑے پیچھے ہٹ گئے تھے، لیکن کسی حد تک وہ اسی مسئلے کو آج دوبارہ لیکر آ گئے ہیں۔‘

اس کے علاوہ مصر کو یہ خدشہ بھی ہے کہ ڈیم بننے سے اس پانی میں بھی کمی آ جائے جو وہ دریائے نیل سے اپنے شہریوں کو پینے کے لیے مہیا کرتا ہے۔ مصری شہریوں کے لیے پینے کے پانی کا تقریباً واحد ذریعہ دریائے نیل ہی ہے۔

اس کے علاہ، اگر پانی کی سطح بہت کم ہو جاتی ہے تو نہ صرف دریائے نیل پر آمد ورفت متاثر ہو گی بلکہ وہ کسان بھی متاثر ہوں گے جو آبپاشی کے لیے اسی دریا پر انحصار کرتے ہیں۔

ایتھوپیا اتنا بڑا ڈیم کیوں چاہتا ہے؟

چار ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والا یہ ڈیم ایتھوپیا کے اس خواب کا دل ہے جس کے تحت وہ اپنے ہاں صنعتی انقلاب لانا چاہ رہا ہے۔ جب یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا تو اندازہ ہے کہ اس سے ایک دو نہیں بلکہ چھ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔

ایتھوپیا کو بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے کیونکہ اس کی 65 فیصد آبادی کو ابھی تک بجلی کی سہولت حاصل نہیں ہے۔

اس ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی سے نہ صرف اس کے تمام شہریوں کو یہ سہولت حاصل ہو جائے گی بلکہ ایتھوپیا ہمسایہ ممالک کو بجلی فروخت بھی کر سکے گا۔

دریائے نیل

اس کے علاوہ یہ ڈیم ایتھوپیا کے لیے قومی خو مختاری کی علامت بھی ہے۔

اس ڈیم کے منصوبے کا انحصار بیرون ملک سے امداد پر نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ایتھوپیا نے سرکاری بانڈز جاری کیے ہیں اور نجی مالی اداروں اور تنظیموں سے بات چیت کر رکھی ہے۔

اسی لیے ایتھوپیا دوسرے ممالک کی طرف سے اس معاملے میں کوئی رائے دینے کو اپنے معاملات میں دخل اندازی سمجھتا ہے اور اس پر تنقید کرتا ہے۔

کسی اور کو بھی فائدہ ہوگا؟

جی ہاں، اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ اس ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی سے سوڈان، جنوبی سوڈان، کینیا، جبوتی اور اریٹیریا بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔

ڈیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایتھوپیا کو توقع ہے کہ ڈیم کی تعمیر 2020 میں مکمل ہو جائے گی

ان میں سے زیادہ تر ممالک کو بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ سوڈان کو اس کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ڈیم بننے سے دریائے نیل کے پانی میں بہاؤ سارا سال ایک جیسا رہے گا اور اسے ان بڑے سیلابوں سے بھی چھٹکارا حاصل ہو جائے گا جو تقریباً ہر دوسرے سال اگست ستمبر میں آتے ہیں۔

اس مسئلے پر جنگ بھی چھڑ سکتی ہے؟

کئی لوگ اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر یہ تنازعہ ختم نہیں ہوتا تو اس میں الجھے ہوئے ملکوں کے درمیان جنگ بھی ہو سکتی ہے۔

سنہ 2013 میں یہ اطلاعات بھی تھیں کہ مصر کے سیاستدانوں کی ایک ریکارڈنگ بھی موجود ہے جس میں وہ ڈیم بنانے کی صورت میں ایتھوپیا کے خلاف مختلف جارحانہ اقدامات کی تجاویز دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ صدر السیسی کے حوالے سے بھی سننے میں آیا تھا کہ انہوں نے دریائے نیل کے پانیوں پر مصر کے حق کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا کہا تھا۔

پچھلے سال اکتوبر میں ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ابی احمد نے ارکان پارلیمان سے کہا تھا کہ ’کوئی طاقت‘ ایتھوپیا کو یہ ڈیم بنانے سے نہیں روک سکتی۔

پچھلے ہی سال بین الاقوامی تنازعات پر نظر رکھنے والی تنظیم انٹرنیشنل کرائسِز گروپ نے خبردار کیا تھا کہ ’ڈیم پر جاری یہ تنازع ملکوں کو جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔‘

اس معاملے میں امریکہ کے شامل ہو جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورت حال کتنی گھمبیر ہے اور اسے سلجھانا کتنا ضروری ہو گیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے مدد کی بات اس وقت ہؤیی جب صدر السیسی نے صدر ٹرمپ سے درخواست کی وہ بات چیت کو آگے بڑھانے میں مدد کریں۔ شروع میں ایتھوپیا نے اس حوالے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا۔

امریکہ کے اپنے دو اتحادی ممالک کے درمیان جنگ سے یہ معاملہ عالمی سطح پر اہمیت اختیار کر سکتا ہے کیونکہ اس سے کروڑوں لوگوں کی زندگی داؤ پہ لگ سکتی ہے۔

اور واشگنٹن انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس قسم کی جنگ سے نہرِ سویز اور ہورن آف افریقہ کے سمندری راستوں سے ہونے والی عالمی تجارت کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

اب کیا ہوگا؟

اس حوالہ سے اگلا قدم یہ ہوگا کہ متعلقہ ممالک کے آبی وسائل کے وزراء، اپنے وزرائے خارجہ کی مدد سے 15 جنوری سے پہلے کسی معاہدے پر متفق ہونے کی کوشش کریں گے۔

مذاکرات اور معاہدہ طے کرنے کے لیے اس نظام الاوقات کا فیصلہ نومبر میں اس وقت ہوا تھا جب امریکی وزیر خزانہ اور عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپاس کی ملاقات ہوئی تھی۔

اس ٹائم ٹیبل کے تحت اس تنازع میں گھرے ہوئے مرکزی ممالک کے نمائندے ایک مرتبہ پھر واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔

ایتھوپیا کے وزیر آب کے بقول ’ اس معاملے میں تین ملکوں کی رضامندی ضروری ہے۔ شق نمبر 10 یہ نہیں کہتی کہ فیصلہ کسی ایک ملک کی خواہش کے مطاق ہو سکتا ہے۔‘

صدر ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہUS PRESIDENT'S OFFICE

،تصویر کا کیپشنصدر ٹرمپ پر امید ہیں کہ وہ امریکہ کے دو اتحادیوں میں تصفیہ کرا لیں گے

اور اگر تمام فریق 15 جنوری تک کسی معاہدے پر متفق نہیں ہوتے تو مذاکرات کار کسی دوسرے ثالث سے مصالحت کرانے کے درخواست کریں گے یا اس معاملے کو اپنے اپنے ملک کے سربراہوں کے حوالے کر دیں گے۔

مسٹر سلیشی کے بقول ’ہمارے لیے سب سے بہتر یہ ہوگا کہ ہم اپنی رپورٹ اپنے رہنماؤں کو بھیج دیں، کیونکہ وہ ہو سکتا وہ اس مسئلے کو حل کر لیں۔‘

گذشتہ اتوار کو ایتھوپیا کے وزیر اعظم نے جنوبی افریقہ کے صدر سے کہا تھا کہ وہ بھی یہ مسئلہ حل کرانے میں مدد کریں۔

مسٹر ابی کا کہنا تھا کہ ’ افریقن یونین کے آئندہ چیئرمین ہونے کے ناطے، مسٹر رامفوسا اس مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کر سکتے ہیں۔‘