دریائے نیل کے پانی کی بےعزتی کرنے پر مصری گلوکارہ کے خلاف مقدمہ

،تصویر کا ذریعہAFP
مصر میں ایک معروف گلوکارہ کو اشتعال آمیز معلومات پھیلانے کے الزام کے حوالے سے مقدمے کا سامنا ہے کیونکہ انھوں نے کہا کہ دریائے نیل سے پانی پینے سے انسان بیمار ہو سکتا ہے۔
شرین عبد الوحاب کے خلاف یہ مقدمہ ایک ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد عائد کیا گیا ہے جس میں ایک کانسرٹ میں ان سے ’مشربتش من نیلحہ‘ گانے کی فرمائش کی جا رہی ہے۔
اس فرمائش کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نیل سے پانی پینے سے مجھے بیماری لگ جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایوان پیجیے۔ وہ بہتر ہے۔‘ ایوان منرل واٹر کی ایک مشہور کمپنی ہے۔
منگل کے روز مصری موسیکاروں کی ایک تنظیم نے 37 سالہ گلوکارہ پر ’پیارے مصر کا بےجا مذاق اڑانے‘ کی وجہ سے پابندی عائد کر دی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور وہ گلوکارہ کو تب تک گانے کی اجازت نہیں دے گی جب تک وہ حکام کے سامنے پیش ہو کر ان کے سوالوں کے جواب نہیں دیتیں۔
گلوکارہ نے بعد میں اپنے ’بیوقوف مذاق‘ کے لیے معافی مانگی۔ یہ واقعہ متحدہ عرب امارات میں ایک سال قبل پیش آیا تھا۔
’میرے پیارے مصر اور مصر کے فرزندان، میں آپ سے دل کی گہرائیوں معافی مانگتی ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم بدھ کے روز ریاستی اخبار الاحرام کے مطابق شرین عبد الوحاب کو 23 دسمبر کو قاہرہ میں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔
اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مصری ریاست کو بدنام کیا اور ملک میں سیاحت کے فروغ کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ریاستی ٹی وی اب ان کے گانے نہیں نشر کرے گا۔










