اسرائیل نے ’جذبہ خیر سگالی‘ کے تحت دو شامی قیدیوں کو رہا کر دیا

اسرائیل

،تصویر کا ذریعہIDF

،تصویر کا کیپشنلبنان کی وادی بقاع میں 11 جون 1982 کو اسرائیلی اور شامی افواج کے مابین سلطان یعقوب کی لڑائی میں لاپتہ ہونے والے پانچ اسرائیلی فوجیوں میں سارجنٹ بومیل شامل تھے۔

1980 کی دہائی سے لاپتہ ہونے والے اسرائیلی فوجی کی لاش کی منتقلی کے بعد اسرائیل نے 'سفارتی خیر سگالی' کے طور پر دو شامی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

امریکی نژاد ٹینک کمانڈر، سارجنٹ فرسٹ کلاس زچہریا بومیل سن 1982 کی لبنان جنگ کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کی باقیات کو اپریل 2019 میں روس کی مدد سے اسرائیل واپس بھیجا گیا تھا۔

شام اور اسرائیل جو حالت جنگ میں ہیں کے زیر قبضہ فوجیوں کی لاشوں کی وطن واپسی شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔

آزاد ہونے والے دونوں شامی باشندے شام کی گولان ہائٹس کے ایک گاؤں ڈروز کے رہائشی تھے۔ گولان ہائٹس پر سنہ 1967 کے مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے بعد سے اسرائیل کا قبضہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امل ابو صلاح ایک شامی شہری کے قتل کے الزام میں سات سال اور آٹھ ماہ کی سزا بھگت رہے تھے۔ انھیں 2023 میں رہا کیا جانا تھا۔

جبکہ مکت سوڈکی 2015 سے غداری، جاسوسی، دہشت گردی کی حمایت اور ایک شدت پسند تنظیم سے رابطے کے الزامات کے تحت 11 سال قید کی سزا بھگت رہے تھے۔

اس سے قبل وہ 27 سال قید کی سزا گزارنے کے بعد سنہ 2012 میں جیل سے رہا ہوئے تھے۔

روس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسنہ 2017 میں، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاھو نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ان فوجیوں کی باقیات تلاش کرنے میں مدد کی درخواست کی تھی

زچہری بومیل کون تھے؟

لبنان کی وادی البقاع میں 11 جون 1982 کو اسرائیلی اور شامی افواج کے مابین لڑائی میں لاپتہ ہونے والے پانچ اسرائیلی فوجیوں میں سارجنٹ بومیل شامل تھے۔

کئی برسوں کے بعد گرفتار شدہ دو فوجی، شام اور متحدہ فلسطینی عسکریت پسند گروہ فلسطینی جنرل کمانڈ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے میں زندہ واپس آئے تھے۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے ان کو ڈھونڈنے کی کوششوں کے باوجود سارجنٹ بومیل اور دو دیگر سارجنٹ لاپتہ رہے تھے۔

تین دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران تینوں فوجیوں کے ٹھکانوں اور حالات کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ممکن ہے وہ لڑائی میں زندہ بچ گئے اور انھیں گرفتار کر لیا گیا ہو۔

سنہ 2017 میں، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ان فوجیوں کی باقیات تلاش کرنے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ روس شام میں جاری خانہ جنگی میں شام کی حکومت کی وفادار قوتوں کی حمایت کر رہا ہے۔

روسی فوج کے ایک ترجمان نے گذشتہ برس کہا تھا کہ سارجنٹ بومیل کی باقیات کو بالآخر 'شام میں مخصوص مقام' پر تلاش کر لیا گیا ہے۔