لاکھوں اسرائیلی فلسطینی علاقوں میں کیوں رہتے ہیں: یہودی بستیوں کے تنازع کے حوالے سے چند اہم سوالات

یہودی بستیاں

،تصویر کا ذریعہAFP

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعات میں اہم ترین معاملہ غربِ اردن اور مشرقی یروشلم جیسے فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کا ہے۔

بین الاقوامی برادری کے نزدیک اسرائیل کا اپنے شہریوں کو ان علاقوں میں بسانا، جس پر اس نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کیا تھا، غیر قانونی ہے۔

امریکہ اب تک اس عالمی رائے سے متفق تھا اور اس نے ہمیشہ ان بستیوں کو ’ناجائز‘ قرار دیا تھا، مگر گذشتہ پیر کو یہ موقف تبدیل ہو گیا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ اب غربِ اردن میں اسرائیلی آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف تصور نہیں کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ان کا کہنا تھا کہ ’ان بستیوں کے قیام کو بین الاقوامی قوانین کے مخالف کہنا کار آمد نہیں رہا ہے۔ اس سے امن کے عمل میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘

ادھر فلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ ان تمام بستیوں کی ختم کیا جائے کیونکہ ان کی ایک ایسے خطے پر موجودگی جس پر وہ دعویدار ہیں مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کے خواب کو پورا نہیں ہونے دے گی۔

فلسطینیوں نے امریکی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے اس اعلان سے بین الااقوامی قوانین کے جنگل راج میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے امریکہ کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے تاریخی غلطی کو درست کیا ہے۔

بی بی سی کی مشرقِ وسطیٰ امور کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف امن کے عمل کے لیے قانونی فریم ورک کمزور ہوگا (جیسے کہ فلسطینی قومی حقوق اور حقِ خود ارادیت) بلکہ اس سے یہودی بستیوں کو مزید پھیلانے کی مہم میں زور پکڑے گی۔

مندرجہ ذیل وہ چند اہم سوالات ہیں جو آپ کو اسرائیلی فلسطینی تنازع کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں۔

یہودی بستیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہودی بستیاں کیا ہیں؟

یہ بستیاں اسرائیل کی جانب سے ان علاقوں میں یہودیوں کی آبادکاری ہے جن پر اس نے 1967 میں مشرقِ وسطیٰ کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کیا تھا۔

ان میں غربِ اردن اور مشرقی یروشلم شامل ہیں جن پر اردن کا کنٹرول تھا اور گولان کی پہاڑیاں ہیں جو کہ شام کا حصہ تھیں۔

یہاں آباد ہونے والوں میں سے کچھ لوگ مذہبی وجوہات کی بنا پر یہاں آئے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ خطے خدا نے یہودیوں کو دیا تھا۔

دیگر افراد یہاں منتقل اس لیے ہوئے ہیں کیونکہ یہاں ہاؤسنگ انتہائی سستی ہے۔

یہ بستیاں کہاں ہیں؟

اسرائیلی بستیوں کا مطالعہ کرنے والی تنظیم ’پیش ناؤ‘ کے مطابق اس وقت مغربی کنارے میں 132 بستیاں اور 113 آؤٹ پوسٹ ہیں جو بغیر اجازت کے بنائی گئیں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ ان میں 413000 لوگ رہتے ہیں اور یہ تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم میں 13 بستیاں ہیں جہاں 215000 افراد مقیم ہیں۔

اسرائیل نے غزہ پٹی اور جزیرہ نما سینا میں بھی بستیاں بنائی تھیں تاہم اب انھیں ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ علاقہ اسرائیل نے 1967 میں مصر سے چھینے تھے۔

ان کے علاوہ گولان کے پہاڑی علاقے میں بھی درجنوں بستیاں ہیں۔

مصنوعی طور پر بنائی گئی بستیاں مغربی کنارے میں تقریباً دو فیصد جگہ لیتی ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان بستیوں کے قیام سے منسلک چیزیں جیسے زرعی زمین اور سڑکیں کہیں زیادہ جگہ لیتی ہیں اور ان کے لیے بھاری فوجی موجودگی درکار ہوتی ہے۔

فلسطینی عورت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ بستیاں اتنی اہم کیوں ہیں؟

ان بستیوں کا مستقبل اسرائیلی فلسطینی تنازع کا ایک اہم ترین ایشو ہے اور ان پر اختلافِ رائے کی وجہ سے متعدد بار امن مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔

یہ بستیاں فلسطینیوں کے لیے صرف اس لیے مسئلہ نہیں ہیں کہ وہ ان کی زمین قابو کیے ہوئے ہیں، بلکہ یہ عام شہریوں کے لیے آمد و رفت میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہیں کیونکہ ان کے لیے سینکڑوں روڈ بلاک اور چیک پوائنٹ لگائے جاتے ہیں تاکہ بستیوں اور اسرائیل کو عسکریت پسندوں سے بچایا جا سکے۔

مگر ایک اور سوال بھی ہے: فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے اور مشرقیِ یروشلم میں بستیوں کی وجہ سے وہ کبھی بھی ایک عملی فلسطینی ریاست کا خواب پورا نہیں کر سکیں گے۔

انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل یستیوں کے حوالے سے تمام تر کارروائیاں روکے پھر ہی وہ مذاکرات پر دوبارہ راضی ہوں گے۔

اسرائیل کہتا ہے کہ فلسطینی بستیوں کے معاملہ کو براہِ راست مذاکرات نہ کرنے کے لیے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اسرائیل یہ بھی کہنا ہے کہ 1993 کے اوسلو کے اسرائیلی فلسطینی معاہدے کے تحت ان بستیوں کے مستقبل کا معاملہ حتمی حیثیت کے مذاکرات تک ملتوی کیا جانا تھا۔

صدر ٹرمپ کے دور میں کیا تبدیل ہوا ہے؟

دو لفظوں میں کہیں تو بہت کچھ۔

جنوری 2017 میں اپنی صدارت کے اغاز سے ہی ڈونلڈ ٹرمپ بستیوں کے معاملے پر اپنے پیش رو صدر اوباما کے مقابلے میں بہت زیادہ نرم رویہ رکھا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے تک امریکہ ان بستیوں کو ناجائز قرار دیتا تھا تاہم انھیں غیر قانونی نہیں کہتا تھا۔ یہ موقف ان کا 1980 میں کارٹر انتظامیہ سے چلا آ رہا ہے۔

اسرائیلی

،تصویر کا ذریعہAFP

دسمبر 2016 میں اقوام متحدہ کی ایک قرارداد میں کہا گیا کہ ان بستیوں کا کوئی قانونی جواز نہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تاہم ماضی میں اس حوالے سے اقوام متحدہ کے آئین کے باب چھ کے تحت لائی گئی قراردادوں کی طرح اس قرارداد کی بھی کوئی قانونی بندش نہیں ہے۔

18 نومبر 2019 کو امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ امریکی موقف بدل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہودی بستیوں کا قیام ویسے تو بین الاقوامی قوانین کے خلاف نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے مشرقی بیت المقدس اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کر کے کئی دہائیوں پرانی امریکی پالیسی بھی بدلی ہے جس پر فلسطینی انتہائی برہم ہیں اور اس سے یہ بستیاں اور بھی زیادہ محفوظ ہو جاتی ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم اس سے ایک قدم اور آگے گئے ہیں اور انھوں نے مغربی کنارے میں تمام اسرائیلی بستیوں کے ساتھ ساتھ اردن وکی وادی اور شمالی بحرِ مردارکو اسرائیل میں شامل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس پر کوئی منفی امریکی ردعمل نہیں سامنے آیا۔

میڈیا رپوٹس کے مطابق یہ سب صدر ٹرمپ کے امن پلان سے مطابقت رکھتا ہے۔

فلسطینیوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل نے بستیوں پر اپنی خودمختاری بڑھا دی تو امن مذاکرات ختم کر دیے جائیں گے۔

غزہ کی پٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تو کیا بستیوں پر معاہدہ ناممکن ہے؟

ایسا ہونے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

کئی سالوں تک اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ امن کے لیے ’تکلیف دہ‘ حد تک سمجھوتہ کرنے کو تیار ہے۔ ان الفاظ کو عام طور پر مقبوضہ علاقوں سے واپسی سمجھا جاتا تھا۔

ماضی میں اسرائیل نے سنائی کے علاقے اور غزہ میں چار چھوٹی یہودی بستیاں ختم بھی کیں تھیں۔

اگرچہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ موجودہ بستیوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ امن مذاکرات کے حتمی مراحل میں کیا جائے گا مگر اب وہاں پہنچنا ہی بہت مشکل معلوم ہوتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے اپنا موقف سخت تر کر لیا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی یہودی بستیوں کو ختم نہیں کریں گے۔ اور اگر انھوں نے اپنے پلان کے مطابق انھیں اسرائیل کا حصہ بنا لیا تو اسرائیل کی طرف سے تو یہ معاملہ ہی ختم تصور کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل

،تصویر کا ذریعہAFP

کیا یہ بستیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں؟

اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس سمیت زیادہ تر عالمی برادری ان بستیوں کو غیر قانونی مانتے ہیں۔

اس کی بنیاد 1949 کی چوتھی جنیوا کنونشن ہے جس کے تحت کسی بھی علاقے کے لوگوں سے اس خطے کا کنٹرول کوئی قابض طاقت حاصل نہیں کر سکتی۔

تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کنونشن غربِ اردن پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ تکنیکی بنیادوں پر یہ علاقہ مقبوضہ نہیں ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس خطے میں صرف اس لیے موجود ہے کیونکہ اسے ایک دفاعی جنگ لڑنا پڑی تھی اور اس نے غربِ اردن کا کنٹرول کسی قانونی خودمختار ریاست سے نہیں لیا تھا۔

اس کا کہنا ہے کہ یہودی آبادکاری کا قانونی حق 1922 میں لیگ آف نیشنز کے مینڈیٹ فار فلسطین میں ہے جسے اقوام متحدہ کے چارٹر میں محفوظ کیا گیا ہے۔