فلسطین: ’یہودی بستیوں پر امریکی بیان جنگل راج کی توثیق ہے‘

بستیاں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنفلسطینی کافی عرصے سے ان بستیوں کو ہٹانے کا مطالبے کر رہے ہیں

فلسطینیوں نے امریکہ کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غربِ اردن میں یہودی بستیاں غیرقانونی نہیں ہیں۔

فلسطینیوں نے امریکہ کے بیان کی مذمت کی ہے کہ اُس نے چار دہائی پرانے اپنے اِس مؤقف کو تبدیل کر دیا کہ غربِ اردن میں یہودی بستیاں بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔

چیف مذاکرات کار سائب ارکات کا کہنا تھا کہ امریکہ کے اس اعلان سے بین الااقوامی قوانین کے جنگل راج میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

تاہم اسرائیلی وزر اعظم بین یامن نتن یاہو نے امریکہ کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے تاریخی غلطی کو درست کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

واضح رہے کہ پیر کے روز امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکہ غربِ اردن میں اسرائیلی آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف تصور نہیں کرتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ غربِ اردن کی حیثیت کا فیصلہ کرنا اسرائیلیوں اور فلسطینیوں پر منحصر ہے۔

سائب اراکات

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپی ایک اور کے سیکرٹری جنرل سائب اراکات نے امریکہ کے اعلان کی مذمت کی ہے

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ مؤقف سابق امریکی صدر اوباما کی رائے کے برعکس ہے۔

اقوامِ متحدہ کا مؤقف ہے کہ الااقوامی قوانین کے تحت یہودی بستیاں غیر قانونی ہیں۔ سنہ 1967 میں مشرقِ وسطی کی جنگ کے دوران اسرئیل نے جس زمین پر قبضہ کیا تھا اس پر یہ یہودی بستیاں بنائی گئی ہیں۔

مائک پومپیو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمائک پومپیو کا کہنا ہے کہ غربِ اردن میں اسرائیلی آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف نہیں ہیں

فلسطینی عرصے سے ان بستیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں جہاں تقریباً چھ لاکھ یہودی آباد ہیں۔

فلسطین کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں یہودیوں کی موجودگی کے سبب ان کے مطابق مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا قیام تقریباً ناممکن ہے۔

اسرائیل نے غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں 140 یہودی بستیاں قائم کی ہیں جنھیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی کہا جاتا ہے جبکہ اسرائیل اس سے متفق نہیں ہے۔

یہودی بستیاں

،تصویر کا ذریعہAFP

یہودی بستیوں کا تنازع کیا ہے؟

غرب اردن اور اس میں بنائی گئی یہودی بستیوں کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیلی فلسطینی تنازعہ کی تہہ تک جاتا ہے اور اسے امن عمل میں ایک اہم رکاوٹ مانا جاتا ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران غرب اردن، مشرقی یروشلم، غزہ اور شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس نے مشرقی یروشلم کو تو سنہ 1980 اور گولان کی پہاڑیوں کو سنہ 1981 میں عملاً اپنا حصہ بنا لیا تھا تاہم اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر قبول نہیں کیا گیا تھا۔

ان بستیوں میں تقریباً چھ لاکھ یہودی آباد ہیں۔

یہودی بستیاں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ ان تمام بستیوں کی ختم کیا جائے کیونکہ ان کی ایک ایسے خطے پر موجودگی جس پر وہ دعوے دار ہیں مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کے خواب کو پورا نہیں ہونے دے گی۔

امریکی مؤقف کیا رہا ہے؟

1978 میں صدر کارٹر کی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ یہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں تاہم 1981 میں صدر ریگن نے کہا تھا کہ ان کی رائے میں یہ بستیاں از خود غیر قانونی نہیں ہیں۔

کئی دہائیوں تک امریکی ان بستیوں کو ’ناجائز‘ کہتا رہا تاہم انھیں غیر قانونی کہنا سے اجتناب کرتا رہا، اور ساتھ ساتھ اسرائیل کو اقوام متحدہ میں مزاحمتی قراردادوں کا نشانہ نہیں بننے دیا۔

تاہم اوباما انتظامیہ نے اپنے آخری دور میں امریکی روایتی موقف کے برعکس 2016 میں اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کو ویٹو نہیں کیا جس کے تحت اقوام متحدہ نے اسرائیل کو ان غیر قانونی بستیوں کو ختم کرنے کے لیے کہا تھا۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ صدر ٹرمپ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے اور وہ صدر ریگن کی رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔