کینیڈا: سکھ رہنما جگمیت سنگھ جو اب ’کِنگ میکر‘ ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک بار پھر عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس بار وہ اکثریت سے دور ہیں۔
جسٹن ٹروڈو کو دوبارہ وزیر اعظم بننے کے لیے دوسری جماعتوں سے حمایت کی ضرورت ہے اور وہ جگمیت سنگھ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
جگمیت سنگھ کی سربراہی میں نیو ڈیموکریٹک پارٹی کو 24 نشستیں ملی ہیں اور ان کی پارٹی کے ووٹوں کی شرح 15.9 فیصد ہے۔
یہ انتخاب ٹروڈو کی لبرل پارٹی کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ تاہم پیر کی رات پارٹی والوں نے سکون کا سانس لیا۔
جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی کو 338 نشستوں والے ہاؤس آف کامنز میں 157 نشستیں ملی ہیں تاہم وہ اکثریت سے 20 سیٹیں دور ہیں۔
ہندوستانی نژاد رہنما جگمیت سنگھ نے منگل کو 'کِنگ میکر' کے کردار سے متعلق اپنے موقف کو واضح کیا۔ انھوں نے کہا 'مجھے امید ہے کہ ٹروڈو اس بات کا احترام کریں گے کہ اب یہاں اقلیت کی حکومت ہے، اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اب مل کر کام کرنا ہوگا‘۔
این ڈی پی کے رہنما جگمیت سنگھ نے اقلیتی حکومت کے قیام کی صورت میں پہلے ہی اپنی پارٹی کی ترجیحات بتا دی تھیں۔
اس میں قومی فارماکیئر منصوبے کی حمایت، رہائش میں سرمایہ کاری، طلباء کے قرضوں کے مسائل سے نمٹنے، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے بلوں کو کم کرنا، کلائمیٹ ایکش اور کینیڈا کے دولت مند لوگوں پر ٹیکس میں اضافہ شامل ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہReuters
جگمیت سنگھ کون ہیں؟
نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ جگمیت سنگھ لبرل پارٹی کے لیے بہت اہم ہوگئے ہیں۔ تاہم اس بار این ڈی پی کی نشستیں 39 سے کم ہو کر 24 رہ گئ ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ نئی حکومت میں جگمیت سنگھ کا کردار بہت اہم ہوگا۔
دسمبر 2013 میں ہندوستان نے جگمیت سنگھ کو امرتسر آنے کے لیے ویزا نہیں دیا تھا۔
جگمیت سنگھ کینیڈا میں ساؤتھ اونٹاریو سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق پنجاب کے ضلع برنالہ کے ٹکریوال گاؤں سے ہے۔ ان کا کنبہ 1993 میں کینیڈا چلا گیا تھا۔
جگمیت ہندوستان میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے بارے میں ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ جگمیت نے 1984 کے فسادات کو ریاستی سرپرستی میں ہونے والا فساد قرار دیا تھا۔
سنہ 2013 میں جب ہندوستانی حکومت نے انھیں ویزا دینے سے انکار کردیا تو انھوں نے ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا 'میں 1984 کے فسادات سے متاثرہ افراد کو انصاف دلانے کی بات کرتا ہوں، لہذا ہندوستانی حکومت مجھ سے ناراض ہے۔ 1984 کا فساد دو جماعتوں کے مابین فساد نہیں تھا بلکہ ریاست کا سپانسر شدہ قتل عام تھا۔'
کینیڈا میں سکھوں کا غلبہ
رقبے کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کینیڈا میں انڈین نژاد بڑی تعداد میں آباد ہیں جن میں سکھ مذہب کے ماننے والوں کی آبادی کافی ہے۔
سکھوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب جسٹن ٹروڈو نے اپنی پہلی کابینہ تشکیل دی تو اس میں چار سکھ وزراء کو شامل کیا گيا تھا۔
سکھوں کے ساتھ رواداری کے لیے کینیڈا کے وزیر اعظم کو جسٹن 'سنگھ' ٹروڈو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
سنہ 2015 میں جسٹن ٹروڈو نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنی کابینہ میں جتنی تعداد میں سکھوں کو جگہ دی ہے اتنی ہندوستان کی کابینہ میں بھی نہیں ہے۔
کینیڈا میں انڈین نژاد افراد کے اثر و رسوخ کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سنہ 2015 میں ہندوستانی نژاد 19 افراد کو ہاؤس آف کامنز کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ ان میں سے 17 کا تعلق ٹروڈو کی لبرل پارٹی سے تھا۔
لیکن جب جسٹن ٹروڈو اپنے اہل خانہ کے ساتھ سنہ 2018 کے اوائل میں ہندوستان کے دورے پر گئے تو ان کا دورہ تنازعات کا شکار ہو گیا۔ ان کا سات روزہ دورہ ہندوستان اور غیر ملکی میڈیا میں بھی زیر بحث رہا۔
یہ کہا گیا تھا کہ ’کینیڈا میں خالصتان بنانے کے خواہشمند باغی گروپ سرگرم ہیں اور جسٹن ٹروڈو کو ایسے گروہوں سے ہمدردی ہے‘۔
غیر ملکی میڈیا نے کہا کہ ’حالیہ برسوں میں کینیڈا اور ہندوستان کی حکومت کی جانب سے شمالی امریکہ میں آزاد خالصتان کی حمایت میں اضافے کی وجہ سے تناؤ میں اضافہ ہوا ہے‘۔
کہا جاتا ہے کہ سکھ علیحدگی پسندوں سے ہمدردی کی وجہ سے ہی ہندوستان نے ٹروڈو کے دورے پر سرد مہری کا اظہار کیا تھا۔ تاہم ہندوستان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا تھا۔ بی جے پی کے رہنما شیشادری چاری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’کینیڈا کی حکومت نے واضح کردیا ہے کہ ان کی حکومت خالصتانیوں کے خلاف ہے‘۔
کینیڈا میں کتنے سکھ ہیں؟
کینیڈا میں تقریباً پانچ لاکھ سکھ آباد ہیں۔
آخر کینیڈا میں سکھوں کی آبادی میں اتنا اضافہ کیسے ہوا کہ کینیڈا کی کسی بھی حکومت کے لیے سکھ اتنے اہم ہیں؟
کینیڈا کی آبادی مذہب اور نسل کی بنیاد پر کافی مختلف النوع ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں کینیڈا کی کل آبادی میں اقلیتوں کی تعداد 22.3 فیصد تھی۔
جبکہ سنہ 1981 میں کینیڈا میں اقلیتی آبادی محض 4.7 فیصد تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق 2036 تک اقلیتت برادریاں کینیڈا کی کل آبادی کا 33 فیصد ہوجائیں گی۔
واشنگٹن پوسٹ' سے کینیڈا کانفرنس بورڈ کے سینیئر ریسرچ مینیجر کریم ایل اصل نے کہا 'کسی بھی تارک وطن کے لیے کینیڈا بہترین ملک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مہاجروں کو بھی مواقع فراہم کرتا ہے اور لوگ کامیابی حاصل کرتے ہیں‘۔










