ترکی روس معاہدہ: امریکی صدر ٹرمپ کا ترکی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ترکی پر نو روز قبل شمالی شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرنے پر عائد کی گئی پابندیاں ختم کر رہا ہے۔
ان کا یہ فیصلہ روس کے شام کی سرحد پر جنگ بندی میں توسیع کے لیے فوج کی تعیناتی پر ترکی کے ساتھ معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت روسی اور شامی افواج اس بات کی نگرانی کریں گی کہ کرد فورسز وہاں سے فوری نکل جائيں۔
ترکی نے کرد افواج کے خلاف کارروائی کا آغاز رواں ماہ کے شروع میں صدر ٹرمپ کے شمالی شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے غیر متوقع اقدام کے بعد کیا تھا۔
امریکی صدر نے وائٹ ہاوس سے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ ’اس طویل خون آلود سرزمین پر کسی اور کو لڑنے دیا جائے۔‘
ڈیموکریٹس اور ریپبلکن دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کے شام سے اچانک فوجی انخلا کے فیصلے پر شدید تنقید کی تھی۔ کیونکہ ترکی کی جانب سے نشانہ بنائے جانے والے کرد اس خطے میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ کے کلیدی حلیف تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ترکی نے امریکہ کے جانب سے شام سے فوجیوں کے انخلا کے اعلان کے چند دن بعد 9 اکتوبر کو کرد ملیشیا (وائے پی جی) جسے وہ دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر کا کیا کہنا تھا؟
امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز خطاب میں اعلان کیا کہ ’پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں جب تک کہ کچھ ایسا نہ ہو جس پر ہمیں تشویش ہو۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ترک حکومت نے امریکی انتظامیہ کو شام میں فوجی کارروائی روکنے سے متعلق یقین دلایا ہے کہ وہ شام میں مستقل طور پر جنگ بندی برقرار رکھے گا۔
واضح رہے کہ ترکی اپنی سرحد سے متصل 32 کلو میٹر تک کے شامی علاقے کو 'سیف زون' بنا کر ترکی میں موجود کم و بیش 20 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو وہاں ٹھہرانا چاہتا ہے۔ ترکی کا مطالبہ ہے کہ کرد جنگجو شمالی شام کی 32 کلومیٹر کی حدود سے باہر چلے جائیں اور یہ علاقہ 'سیف زون' کہلا سکے۔
بعدازاں امریکی وزیر خزانہ نے تصدیق کی کہ 14 اکتوبر کو ترکی کی وزارت دفاع اور توانائی کے ساتھ ساتھ ملک کے تین اعلیٰ عہدیداروں پر عائد پابندیاں ختم کردی گئیں ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ وہ تیل کی تنصیبات کے تحفظ کے لیے شام کے کچھ حصوں میں فوج کی ایک 'چھوٹی تعداد' تعینات رکھیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
انھوں نے ترکی پر بھی زور دیا کہ وہ شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا عہد کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ جہادی گروہ شام کے کسی بھی علاقے کو دوبارہ حاصل نہیں کرے گا۔
تجزیہ کار جوناتھن مارکس کا تجزیہ
دفاعی و سفارتی امور کے تجزیہ کار جوناتھن مارکس نے اس پر تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ صرف امریکی سفارتکاری ہی تھی جس نے شام میں ترک فوجی کارروائیوں کو روک دیا اور کرد جانوں کو بچانے کے لیے ایک پائیدار معاہدہ طے کیا ہے۔
دوسروں کو یہ ایک مختلف حقیقت نظر آسکتی ہے کہ روس اور ترکی نے معاہدہ کیا اور اس پورے واقعے کو اس نظر سے دیکھا گیا کہ واشنگٹن نے اپنے کرد اتحادیوں کو چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی۔
یہ پریس کانفرنس سفارتی حقائق کے بارے میں نہیں تھی بلکہ انتخابی مہم کے لیے تھی۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے سفارتی تباہی کو سیاسی فائدے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
انھیں امید ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بیکار جنگوں کے خاتمے سے انھیں سیاسی طور پر فائدہ ہوگا۔ جنھیں مشرق وسطیٰ کے پاؤڈر کیگ کی اذیت ناک تفصیل کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں ہے۔
لیکن جہاں تک اس خطے میں امریکہ کے پائیدار اسٹریٹجک مفادات کی بات ہے تو اس کا کوئی ذکر نہیں تھا۔
ترکی اور روس کے معاہدے میں کیا تھا؟

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی اور روس کرد فورسز کو ترکی کے ساتھ شام کی سرحد سے دور رکھنے کے معاہدے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ دونوں ممالک نے اس معاہدے کو تاریخی معاہدہ قرار دیا ہے۔ یہ معاہدہ ترکی کی جانب سے کرد افواج کو سرحد سے دور رکھنے اور اس علاقے میں ایک 'سیف زون' قائم کرنے کے لیے جاری جنگ میں تعطل کے دوران طے پایا ہے۔
اس معاہدے کے تحت روسی اور شامی افواج اس بات کی نگرانی کریں گی کہ کرد فورسز وہاں سے فوری نکل جائيں۔
تاہم کردوں کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ خیال رہے کہ ترکی کرد جنگجوؤں کو دہشت گرد کہتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت آئندہ ہفتے ترکی اور روس کا سرحد کی مشترکہ نگرانی کا منصوبہ ہے۔
اس معاہدے کا اعلان منگل کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور روسی میزبان ولادی میر پوتن کے درمیان بحر اسود کے شہر سوچی میں چھ گھنٹے کی بات چیت کے بعد کیا گیا۔
خیال رہے کہ امریکہ نے ترکی سے جو جنگ بندی کرائی تھی اس کی مدت منگل کی شام کو ختم ہونے والی تھی اور ترکی نے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ پھر سے کرد جنگجوؤں کے خلاف حملے شروع کر دیں گے۔
لیکن ترکی نے کہا کہ 'اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔'

،تصویر کا ذریعہReuters
سوچی میں کس چیز پر رضامندی ہوئی؟
اپنے حملے میں ترکی نے اپنے 'سیف زون' بنانے کی کوشش میں راس العین اور تل ابیض شہر کے درمیان 120 کلومیٹر لمبی پٹی پر قبضہ کر لیا جس میں وہ کرد فوجیوں کو نکال کر وہاں 20 لاکھ پناہ گزینوں کی باز آبادکاری چاہتا ہے۔
معاہدے کے تحت روس نے ترک فوج کو وہاں رہنے اور اس علاقے کا مکمل کنٹرول رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
کرد جنگجوؤں کو بدھ کی دوپہر سے 150 گھنٹے دیے گئے ہیں کہ وہ سرحد سے 30 کلومیٹر دور پیچھے ہٹ جائيں یعنی کہ منبج کے مشرق میں دریائے فرات کے تقریباً تمام حصے کو خالی کرکے عراق کی سرحد کی طرف چلے جائیں۔
مزید پڑھیے
روسی اور شامی فوج فوری طور پر وہاں پہنچے گی تاکہ وہ انخلا کی نگرانی کر سکے۔ اس میں کرد کی وسیع آبادی والا علاقہ قامشلی شامل نہیں ہے اور فوری طور پر تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں کہ وہاں کیا ہوگا۔
29 اکتوبر کو جب 150 گھنٹے کی معیاد پوری ہو جائے گی اس کے بعد ترکی اور روس کی فوج وہاں مشترکہ گشت کرے گی۔ اس علاقے کو ترکی کے حملے والے علاقے کے ’مشرق و مغرب‘ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کرد فورسز کو منبج اور تل رفعت کے علاقے سے بھی 'نکال دیا جائے گا'۔ تل رفعت منبج سے 50 کلو میٹر مغرب میں واقع ہے اور یہ دونوں علاقے آپریشن والے علاقے کے باہر آتے ہیں۔
کرد فورسز اور رہنماؤں نے فوری طور پر اس پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے کہ آیا وہ اسے تسلیم کریں گے بھی یا نہیں۔
شام کے صدر بشار الاسد نے شام میں بیرونی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن کرملن کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر پوتن کا شکریہ ادا کیا اور 'کام کے نتائج کو اپنی مکمل حمایت کے اظہار کے ساتھ شام اور ترک سرحد پر روسی فوجی کے ساتھ شامی سرحدی گارڈز کی تعیناتی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔'

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
ہم یہاں کس طرح پہنچے؟
شمالی شام میں گذشتہ چار سالوں کے دوران دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکی قیادت والے اتحاد نے کرد کی قیادت والی فوج پر بھروسہ کیا ہے لیکن اس میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) کے جنگجوؤں کی اکثریت ہے جسے ترکی دہشت گرد تنظیم کہتا ہے۔
دو ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ شام سے اپنی فوج واپس بلا رہے ہیں۔ اس کے فوراً بعد ترکی نے کردوں کے خلاف حملہ کر دیا۔
سرحد کے پاس موجود روسی فوج نے تشویش کا اظہار کیا کہ شام کے علاقے پر بیرونی تجاوزات بڑھ رہی ہیں۔
گذشتہ ہفتے امریکی درخواست پر ترکی نے حملے بند کرنے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ 'ترکی کے قبضے والے سیف زون سے وائی پی جی فورسز کا انخلا ہو سکے۔'
امریکی اہلکاروں کی جانب سے چھوٹی موٹی جھڑپ کی بات کہے جانے کے باوجود مجموعی طور پر جنگی بندی پر عمل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس کی قیمت کیا رہی؟
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں میں شام کے شمال مشرقی علاقے سے پونے دولاکھ افراد کو جن میں 80 ہزار بچے شامل ہیں اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس علاقے میں 30 لاکھ افراد آباد ہیں۔
برطانیہ میں شام کے متعلق انسانی حقوق کی آبزرویٹری (ایس او ایچ آر) کے مطابق جنگ میں 254 کرد جنگجوؤں کے علاوہ، 196 ترکی کی حمایت والے شامی باغی اور سات ترکی فوجی کے ساتھ 120 شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ترکی کے حکام کا کہنا ہے کہ ترکی کے علاقے میں وائی پی جی کے حملے میں بھی 20 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔











