ترکی کا شام میں زمینی کارروائی کا آغاز، صدر ٹرمپ کی مذمت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی جانب سے کرد پیش مرگہ فورسز پر شمال مشرقی شام میں کیے جانے والے حملے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’غلط اقدام‘ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ حملہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس خطے سے امریکی فوجوں کو نکالنے کے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔ تاہم اس اقدام کو دراصل حملے کی اجازت کے حربے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
انقرہ کا کہنا ہے کہ اس نے سرحدی علاقے میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے تاہم کردوں کا کہنا ہے کہ حملے میں شہری علاقوں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ادھر ترک وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی کے بعد اب زمینی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدا میں آرٹلری اور جنگی طیاروں کے ذریعے شامی سرحد پر کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے بدھ کو اعلان کیا تھا کہ ترکی کی فوج نے شمالی شام میں اپنی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس کی وجہ سے امریکی حمایت یافتہ کرد پیش مرگہ فورسز کے ساتھ اُن کی براہ راست جھڑپیں بھی ہو سکتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ترکی اِس علاقے میں ایک محفوظ زون بنانا چاہتا ہے جہاں کرد ملیشیا کا وجود نہ ہو اور جہاں ترکی آنے والے تقریباً 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو رکھا جائے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی کی اِس فوجی کارروائی سے پہلے متنازع طور پر امریکی فوج کو علاقے سے نکال لیا تھا لیکن یہ بھی کہا تھا ترکی کو معاشی نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
شام میں دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے میں کرد پیش مرگہ فورسز امریکہ کی اہم اتحادی رہی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کے اس اقدام کی عالمی برادری کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے۔ یورپی یونین نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ حملہ بند کرے۔
امریکہ کی حامی کرد فورسز نے اس حملے کے خلاف مزاحمت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
کرد فورسز ان جیلوں کی بھی حفاظت کرتی ہیں جہاں دولت اسلامیہ کے ہزاروں جنگجوؤں اور اُن کے رشتے داروں کو رکھا گیا ہے۔ اب یہ بھی واضح نہیں کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو اِن جیلوں کی حفاظت کیسے ہو گی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ترک صدر نے کہا کہ اس مشن کا مقصد ’جنوبی سرحد پر دہشت گردوں کی راہداریوں کو بننے سے روکنا اور علاقے میں امن لانا ہے۔ انھوں نے شام کی علاقائی جغرافیائی سالمیت کو محفوظ کرنے اور اس کے مکینوں کو دہشت گردوں سے آزاد کروانے کا عزم کیا۔
مزید پڑھیے
بتایا گیا ہے کہ ترکی کی جانب سے فضائی حملوں اور آرٹلری فائر کے نتیجے میں بہت سے دیہات اور گاؤں نشانہ بنے۔ راس العین نامی قصبے اور تل ابیاد کے مکین علاقے سے نکل مکانی کر رہے ہیں
شام کے حالات پر کام کرنے والے ادارے سرئین آبزرویٹری گروپ کے مطابق اب تک کم ازکم آٹھ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
بدھ کو رات گئے ترک وزارت دفاع نے کہا کہ ترک اور شامی باغیوں کے اتحادی فرات میں داخل ہو گئے ہیں۔
ترکوں کے حامی ایک گروہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا حملے کا آغاز تل ابیاد تھا۔ ".
اس سے پہلے صدر ٹرمپ کی جانب سے ترکی اور شام کی سرحد پر تعینات کئی درجن امریکہ فوجیوں کے انخلا پر کرد قیادت والی سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے کڑی تنقید کرتے ہوئے اِس فیصلے کو 'پیٹھ میں چھرا گھونپنے' کے مترادف قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ کے فیصلے پر اُن کے ریپبلیکن اتحادیوں نے بھی نکتہ چینی کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت شام میں تقریباً ایک ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جن میں سے دو درجن کے قریب فوجیوں کو ترکی سے متصل سرحدی علاقے سے واپس بلایا گیا ہے۔
ترکی شام کے اس علاقے میں کرد پیشمرگاہ فورسز کے خلاف عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ وہ کرد پیشمرگاہ کو ایک دہشت گرد گروہ سمجھتا ہے اور اسے اپنی سرحد سے ہٹانا چاہتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ اعلان اتوار کی شب وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کیا گیا تھا جو امریکی صدر ٹرمپ اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے درمیان ایک کال کے بعد جاری کیا گیا۔
پیر کو ترکی کی وزارتِ دفاع نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’کارروائی کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔‘ پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محفوظ علاقے کا قیام شامیوں اور خطے میں امن کے لیے ’ضروری‘ ہے۔
ترک صدر کہہ چکے ہیں کہ ان کا مقصد سرحدی علاقوں میں کرد افواج سے لڑائی اور ترکی میں قیام پذیر 36 لاکھ شامی پناہ گزینوں میں سے 20 لاکھ کے لیے وہاں ایک محفوظ علاقہ بنانا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
تاہم وائٹ ہاؤس کے اعلامیے کے اجرا کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں ترکی کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے حدود سے تجاوز کیا تو وہ اس کی معیشت کو تباہ کر دیں گے اور ایسا وہ ماضی میں کر چکے ہیں۔
گذشتہ برس امریکہ نے ترکی کے ساتھ تعلقات میں تلخی آنے کے بعد کچھ ترک اشیا پر تجارتی ڈیوٹی میں اضافہ کیا تھا اور ترک حکام پر پابندیاں بھی لگائی تھیں۔
اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں برس جنوری میں بھی دھمکی دی تھی کہ اگر ترکی نے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد کرد فورسز پر حملہ کیا تو امریکہ ’ترکی کو معاشی طور تباہ‘ کر دے گا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجوں کا انخلا اور کرد فوجوں کو چھوڑنا ترکی کی جانب سے ان پر حملے اور دولت اسلامیہ کے دوبارہ اٹھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
وائٹ ہاؤس اور کریملن کا کیا کہنا تھا؟
امریکی اعلامیے کے مطابق امریکہ شام کے شمال مشرقی علاقوں میں مستقبل قریب میں ترکی کی عسکری کارروائی میں رکاوٹ نہیں بنے گا تاہم امریکی فوجیں اس عسکری کارروائی کا نہ تو ساتھ دیں گی اور نہ ہی اس میں حصہ لیں گی اور کیونکہ امریکی فورسز نے دولتِ اسلامیہ کی علاقائی خلافت کو شکست دے رکھی ہے اس لیے امریکی فورسز اس علاقے میں موجود نہیں ہوں گی۔‘
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’امریکی حکومت نے بار ہا فرانس، جرمنی اور دوسرے یورپی ممالک کو دولتِ اسلامیہ کے ان جنگجوؤں کو واپس لینے کا کہا جن میں سے متعدد ان ہی ممالک سے آئے تھے تاہم انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے دوران تقریباً 2500 غیر ملکی جنگجوؤں کو پکڑا گیا تھا اور امریکہ چاہتا ہے کہ انھیں یورپ کے حوالے کیا جائے۔
ادھر روسی صدر کے ترجمان دمیتری پیشکوو نے کہا ہے کہ روس کو امید ہے کہ ترکی شام کی علاقائی اور سیاسی سالمیت کا احترام کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ ’شام کی علاقائی سالمیت کا احترام شام میں موجود مسائل اور دیگر معاملات کے حل کے لیے نقطۂ آغاز ہے۔‘
انھوں نے امید ظاہر کی کہ ’ترک ساتھی تمام حالات میں سب سے پہلے علاقائی سالمیت کے احترام کے اصول پر کاربند رہیں گے۔
اعلامیے کا پسِ منظر
ترک صدر کے آفس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کے صدور نے اگلے ماہ واشنگٹن میں ملنے کی حامی بھری ہے تاکہ شمالی شام ایک ’محفوظ زون’ بنانے کے حوالے سے بات کی جا سکے۔
ترکی چاہتا ہے کہ وہ 20 لاکھ شامی پناہ گزینوں کو اس زون میں منتقل کر دے۔ اس وقت ترکی میں تقریباً 36 لاکھ شامی باشندے مقیم ہیں۔
اس اعلامیے کے مطابق صدر اردگان نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ انھیں ’امریکی فوج اور سکیورٹی بیوروکریسی کی دونوں ممالک کے درمیان اگست میں شام کی سرحد پر بفر زون کے قیام کے معاہدے کی تکمیل میں ناکامی‘ پر مایوسی ہوئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
خیال رہے کہ دسمبر میں صدر ٹرمپ نے شام سے امریکی فوجوں کے انخلا کا اعلان کیا تھا تاہم انھیں کرد اتحادیوں کی جگہ ترک عسکری حملے کی حمایت پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اس اعلان کے بعد امریکہ کے وزیرِ دفاع جم میٹس نے احتجاجً استعفیٰ دے دیا تھا اور اس وقت کے قومی سکیورٹی مشیر جان بولٹن کی جانب سے کردوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے گئے تھے۔
ترکی نے دو مرتبہ اس طرح کی عسکری کارروائی میں حصہ لیا ہے۔ پہلی مرتبہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف سنہ 2016 میں اور دوسری مرتبہ وائی پی جی کے خلاف سنہ 2018 میں تاکہ شامی باغی شمالی شام میں علاقے پر قبضہ کر سکیں۔
ترکی وائی پی جی کو دہشتگرد کیوں سمجھتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی وائی پی جی کو کردستان ورکرز پارٹی کی ایک شاخ سمجھتا ہے جس نے پچھلی تین دہائیوں سے ترکی میں کردش خود مختاری کے حوالے سے آواز اٹھائی ہے۔
تاہم وائی پی جی نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
ماضی میں ترکی نے امریکا کو وائی پی جی کی حمایت کرنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔









