ایران: برطانوی نژاد آسٹریلوی خاتون ڈاکٹر کائلی مور گلبرٹ کی گرفتاری کی تصدیق

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران میں حراست میں لیے جانے والی برطانوی نژاد آسٹریلوی خاتون کی شناخت میلبرن یونیورسٹی میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی ماہر کائلی مور گلبرٹ کے نام سے ہوئی ہے۔
آسٹریلیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ کائلی مور کو پہلے ہی ’ کئی مہینوں` تک ایسے الزامات کے تحت حراست میں رکھا گیا جو واضح نہیں ہیں۔
ڈاکٹر کائلی مور گلبرٹ تیسری غیر ملکی شہری ہیں جنھیں حالیہ عرصے کے دوران ایران میں گرفتار کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کائلی مور گلبرٹ کو دس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آسٹریلوی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں ان کے خاندان کا کہنا ہے ’انھیں یقین ہے کہ کائلی کی محفوظ واپسی کا بہترین ذریعہ سفارتی چینلز ہیں۔`
دوسری جانب آسٹریلوی حکومت نے منگل کو دو دیگر آسٹریلوی باشندوں کی مارک فرکن اور جولی کنگ کے نام سے شناخت کی ہے، ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ بھی ہیں اور انھیں بھی ایران میں حراست میں لیا گیا ہے۔
دونوں ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنے سفر کو بلاگ کر رہے تھے اور اطلاعات کے مطابق انھیں دس ہفتے قبل تہران کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم خیال ہے کہ ان دونوں کی گرفتاری کا تعلق ڈاکٹر مور گلبرٹ سے نہیں ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان تینوں افراد کو تہران کے ایون نامی قید خانے میں رکھا گیا ہے جہاں برطانوی نژاد ایرانی خاتون نازنین زاغری ریڈکلف جاسوسی کے الزامات کے تحت سنہ 2016 سے جیل میں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہNAZANIN ZAGHARI-RATCLIFFE
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ ماریس پین نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ حکومت ایک ہفتے سے زائد عرصے سے انھیں بازیاب کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا ’حکومت یہ بات یقینی بنانے کی کوششیں کر رہی ہے کہ ان کے ساتھ بین الاقوامی قوانین کے مطابق منصفانہ انسانی سلوک کیا جائے۔‘
یونیورسٹی آف میلبرن کی ویب سائٹ پر موجود ڈاکر مور گلبرٹ کے پروفائل کے مطابق وہ اسلامی علوم کی لیکچرار ہیں اور عرب ریاستیں ان کے کام کا محور ہیں۔
برطانوی اخبار ٹائمز کا کہنا ہے کہ اگرچہ مور گلبرٹ کے خلاف عائد کیے جانے والے الزامات کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے تاہم ایران میں جاسوسی کے الزامات کے تحت دی جانے والی سزا معمول کے مطابق دس برس قید ہوتی ہے۔
یہ صورت حال مغرب اور ایران کے مابین بڑھتے ہوئے تنازعے کے درمیان سامنے آئی ہے اگرچہ آسٹریلیا کی وزیر خارجہ ماریس پین نے کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کے معاملات سفارتی تناؤ سے متعلق نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں حالیہ برسوں کے دوران کئی ایسے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کے پاس ایرانی اور غیر ملکی یعنی دوہری شہریت تھی۔
حالیہ مہینوں میں ایک دوسرے کے تیل بردار بحری جہاز پکڑنے کے معاملے پر برطانیہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔










