ایران کا برطانیہ پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

نازنین زاغری

،تصویر کا ذریعہNAZANIN ZAGHARI-RATCLIFFE

،تصویر کا کیپشنبرطانیہ نے 100 سال بعد اپنے کسی شہری کو سفارتی تحفظ فراہم کیا ہے

ایران نے برطانیہ پر تہران جیل میں قید برطانوی نژاد ایرانی خاتون نازنین زاغری ریڈکلف کو سفارتی تحفظ دینے پر بین الاقوامی قوانین کو توڑنے کا الزام عائد کیا ہے۔

برطانیہ میں ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ ایران ان کی دوہری شہریت تسلیم نہیں کرتا اور انھوں نے نازنین زاغری کو صرف ایرانی شہری قرار دیا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ ردعمل برطانیہ کے وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے نازنین زاغری کو سفارتی تحفظ دینے کا کہا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ایران نازنین زاغری راکلف بین الاقوامی قوانین کے تحت طبی اور مالی مدد فراہم کرنے میں ناکام ہوا ہے۔

برطانیہ کی جانب سے نازنین کو باضابطہ طور پر سفارتی تحفظ دینا انتہائی غیر معمولی اقدام ہے.

سنہ 2016 میں جاسوسی کے الزام میں دی گئی پانچ سالہ قید کی سزا کے خلاف نازنین زاغری احتجاجاً بھوک ہڑتال پر تھیں۔ وہ ان الزامات کو مسترد کرتی ہیں۔

یہ بھی پرھیے!

برطانیہ کی جانب سے ان کو سفارتی تحفظ دینے کا مطلب ہے کہ اب ان کے مقدمے کو باضابطہ طور پر دونوں ریاستوں برطانیہ اور ایران کے درمیان قانونی تنازع کے طور پر لیا جائے گا۔

نازنین

،تصویر کا ذریعہAndrew Milligan/PA Wire

،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نازنین کو رہا کروانے میں 'جادو کی چھڑی' کا کام تو نہیں کرے گا لیکن 'یہ ایک اہم سفارتی قدم تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ پوری دنیا کو ثابت کرے گا کہ نازنین بے گناہ ہیں' اور انھوں نے ایران کو اشارہ دیا کہ 'ان کا رویہ انتہائی غیرمناسب ہے۔'

برطانیہ میں ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ 'بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔'

جبکہ برطانوی وزیر خارجہ نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نازنین کو سفارتی تحفظ دینے کے فیصلے سے ایران کو 'سخت پیغام دیا ہے۔

ایران کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ' آپ کے برطانیہ کے ساتھ اختلافات ہو سکتے ہیں، مگر بنیادی طور پر یہ ایک بے گناہ، حساس، بیمار اور سہمی ہوئی عورت ہے۔ آپ کے برطانیہ سے جو بھی اختلافات ہیں ان کی قیمت اس کو ادا نہیں کرنی چاہیے۔'

ایران پر پابندیاں لگانے، عالمی عدالت میں بلانے یا اس کے سفیر کو طلب کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'یہ تمام چیزیں ممکن ہیں مگر ہم اس معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں۔'

ایران کی جانب سے برطانیہ پر بین الاقوامی قوانین توڑنے کے الزام پر برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں اس ملک سے 'ایسے ہی منفی ردعمل کی توقع رکھتا ہوں۔'

نازنین

،تصویر کا ذریعہ Andrew Milligan/PA Wire

انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ 100 برسوں میں کسی برطانوی شہری کو سفارتی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا۔

ایران نے دوہری شہریت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے لہذا برطانیہ کی جانب سے نازنین کی نمائندگی کے حق کو بھی نہیں تسلیم کرتا۔

سفارتی تحفظ کو بین الاقوامی قوانین میں ایک غیر معمولی قانونی طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ ریاستیں اس کا استعمال اپنے ان شہریوں کے لیے کر سکتیں ہیں جن کے حقوق کسی دوسرے ملک میں پامال کیے گئے ہو۔

تاہم یہ اس سفارتی استشنیٰ سے بہت مختلف ہے جو سفیروں کو کسی بھی قانونی چارہ جوئی سے تحفظ اور محفوظ راستہ فراہم کرتا ہے۔

بی بی سی کہ سفارتی امور کے نامہ نگار جیمز لانڈیل کے مطابق اب نازنین کی نئی قانونی حثیت ایران کو اس بات پر مجبور نہیں کرے گی کہ وہ ان سے کیسا برتاؤ کریں۔ تاہم برطانیہ کو یہ اجازت فراہم کرے گا کہ وہ بڑے بین الاقوامی فورمز جیسا کہ اقوام متحدہ پر ان کے مقدمے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر سکے۔