ایران: برطانیہ، فرانس کو تیل کی فروخت بند

امریکہ اور یورپی ممالک ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنامریکہ اور یورپی ممالک ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

ایران نے برطانیہ اور فرانس کو تیل کی فروخت روکنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کی وزارتِ تیل کے ایک اہلکار علی رضا راہبر سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے فرانس اور برطانیہ کو تیل کی فروخت روک دی ہے۔

امریکی کی طرف سے ایران پر پابندیوں کے فیصلے کے بعد یورپی یونین نے بھی پہلی جولائی سے ایران سے تیل کی خریداری روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔امریکہ اور یورپی ممالک ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ جوہری توانائی کا حصول اس کا حق ہے اور وہ اس سے دستبردار نہیں ہو گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

ایرانی وزارتِ تیل کے ترجمان کے مطابق ایران تیل اپنے نئے خریداروں کو بیچے گا۔

بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار پیٹر بائلز کا کہنا ہے کہ ایرانی فیصلے سے برطانیہ اور فرانس کی معیشت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں ممالک پہلے ہی بہت کم مقدار میں ایران سے تیل خرید رہے ہیں۔

فرانس اپنی ضرورت کا صرف تین فیصد تیل ایران سے خریدتا ہے جبکہ برطانیہ کی ایران سے خریداری اس سے بھی کم ہے۔

اس سے پہلے ایرانی ذرائع ابلاغ پر ایسی خبریں بھی نشر ہوئی تھی کہ ایران نے یورپی ممالک، سپین، یونان ، ہالینڈ، پرتگال اور اٹلی کو بھی تیل کی ترسیل روک دی ہے لیکن بعد میں ان خبروں کی تردید کی دی گئی۔

سپین اور یونان بھاری مقدار میں تیل ایران سے خریدتے ہیں۔ یورپی یونین کے ممالک ایران کے تیل کی پیدوار کا بیس فیصد حصہ خریدتے ہیں۔