’ایران کے ساتھ تعلقات میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا‘

فلپ ہیمنڈ سنہ 2003 کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیرخارجہ ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنفلپ ہیمنڈ سنہ 2003 کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیرخارجہ ہیں

برطانوی سیکریٹری خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن اسے ’پھونک پھونک کر قدم رکھنا‘ ہو گا۔

انھوں نے یہ بیان تہران میں ایرانی صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات سے قبل دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عدم اعتماد کے ورثے‘ کے باوجود ایران ’انتہائی اہم‘ ہے اور اسے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا۔

فلپ ہیمنڈ نے بی بی ریڈیو فور کے پروگرام ٹوڈے کو بتایا کہ دونوں ممالک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف بھی اکٹھے کام کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اتوار کو تہران میں چار سال بعد برطانوی سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

سنہ 2011 میں ایران پر برطانیہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کی وجہ سے برطانوی سفارت خانے پر مظاہرین نے حملہ کر دیا تھا، جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم برطانوی حکومت نے گذشتہ برس یہ اشارہ دیا تھا کہ اس کا ارادہ ہے کہ تہران میں برطانوی سفارت خانہ پھر سے کھول دیا جائے۔

فلپ ہیمنڈ سنہ 2003 کے بعد ایران کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیرخارجہ ہیں۔

سنہ 2011 میں ایران پر برطانیہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کی وجہ سے برطانوی سفارت خانے پر مظاہرین نے حملہ کردیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2011 میں ایران پر برطانیہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کی وجہ سے برطانوی سفارت خانے پر مظاہرین نے حملہ کردیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ ایران اور برطانیہ کے تعلقات کی ایک ’مشکل تاریخ‘ رہی ہے لیکن تعلقات میں تواتر بہتری آئی ہے اور سفارت کاری کا دوبارہ آغاز ’ایک سمجھ دارانہ قدم‘ ہے۔

’ہمیں احتیاط سے چلنا ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی گہری وراثت پائی جاتی ہے، اور کئی ایسے معاملات ہیں جہاں ہماری پالیسی میں فرق پایا جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں بات چیت نہیں کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمیں افغانستان اور یورپ کے درمیان افیون کی ترسیل کی روک تھام کے لیے آنکھیں ملانا ہوں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے متنازع معاملات بشمول ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آنکھیں بند نہیں کیں بلکہ برطانیہ ایسے معاملات پر ایران پراس وقت تک دباؤ نہیں ڈال سکتا جب تک ملک کے سربراہان کے ساتھ کھل کر بات چیت نہیں ہوتی۔

ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کے حوالے سے انھوں نے تسلیم کیا کہ کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا تاہم ’آپ کو کوئی رائے قائم کرنا ہوتی ہے۔‘

اتوار کو تہران میں چار سال بعد برطانوی سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناتوار کو تہران میں چار سال بعد برطانوی سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا گیا

’میرا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ایران ماضی میں کچھ کرتا رہا ہے یا نہیں کرتا رہا، حکومت اور ایرانی عوام کو اس نتیجے پر پہنچنا چاہیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ غیرقانونی جوہری پروگرام ایران کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہوگا۔‘

خیال رہے کہ سنہ 2011 میں تہران کے جوہری پروگرام کے خلاف ایران پر برطانیہ کی سخت پابندیوں کی حمایت کے رد عمل میں ایران نے برطانیہ کے سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا۔

اس کے جواب میں برطانیہ نے بھی ایرانی سفارت خانے کو بند کر دیا تھا لیکن حسن روحانی کے منتخب ہونے اور ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے گذشتہ سال جون میں وہاں دوبارہ سفارت خانہ کھولنے کی تجویز دی تھی۔

سنہ 2013 میں برطانیہ اور ایران نے سفارتی تعلقات کے لیے اپنے اپنے نمائندوں کو مقرر کیا۔ گذشتہ برس جون میں تکنیکی مسائل کے باعث تہران میں برطانوی سفارت خانے کو کھولنے کی تجویز کو موخر کرنا پڑا تھا۔