بورس جانسن: ’برطانوی قوم میں ایک نیا جذبہ بیدار کریں گے‘

بورس جانسن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبورس جانسن برطانیہ کی حکمران کنزرویٹیو پارٹی کے نئے سربراہ منتخب ہو گئے

برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی کے سربراہ کے لیے ہونے والے انتخابات میں بورس جانس بانوے ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر اپنی جماعت کے سربراہ منتخب ہو گئے ہیں اور اسی کی بنا پر وہ بدھ کو برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کی حیثیت سے بدھ کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

مزید پڑھیے:

منگل کی صبح جماعت کے سربراہ کے انتخاب کے نتائج کے اعلان کے مطابق ان کے مد مقابل وزیر خارجہ جرمی ہنٹ نے 46656 ووٹ حاصل کیے۔

بورس جانسن نے انتخاب کے نتائج کے بعد اپنے مختصر خطاب کا آغاز اپنی پیش رو تھریسامے کو خراج تحسین پیش کرنے سے کیا اور کہا کہ تھریسامے کی کابینہ میں خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات تھی۔

انہوں نے کہا وہ ملک کو ایک نئی توانائی بخشیں گے۔

’ہم 31 اکتوبر تک بریگزٹ کا مرحلہ مکمل کر لیں گے اور ایک نئے جذبے کے ساتھ تمام نئے مواقعوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ایک مرتبہ پھر خود پر بھروسہ کریں گے، ایک سوئی ہوئی بڑی طاقت کی طرح پھر سے بیدار کریں گے اور خود پر اعتماد بحال کریں گے۔`

حکمران جماعت کے اکابرین اور ممبران سے سربراہ کی حیثیت سے اپنے پہلے خطاب میں بورس جانسن نے وعدہ کیا کہ وہ بریگزٹ حاصل کریں گے، ملک کو متحد کریں گے اور لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن کو شکست دیں گے۔

مستعفی ہونے والے وزیر اعظم تھریسامے نے بورس جانسن کو مبارک بار پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت کی پچھلی نشستوں پر بیٹھ کر بورس جانسن کی بھر پور حمایت کریں گی۔

کنزرویٹیو جماعت میں اہل ووٹ کی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے قریب تھی جس میں سے 87 اعشاریہ چار فیصد ممبران نے ووٹ ڈالے۔

یاد رہے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) پر کسی معاہدے میں پہنچنے میں ناکامی کے بعد تھریسامے نے 24 مئی کو اپنے عہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد حکمران جماعت کنزرویٹیو جماعت میں نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل شروع ہوا تھا۔

مختلف مراحل میں ہونے والے اس انتخاب کی ابتدا میں دس امیدوار پارٹی کے سربراہ کے عہدے کے لیے سامنے آئے تھے لیکن آخری مرحلے تک پہنچتے پہنچتے صرف دو امیدوار وزیر خارجہ جرمی ہنٹ اور سابق وزیر خارجہ بورس جانسن میدان میں رہے گئے۔