نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں حملہ ’دہشت گردی‘ ہے یا ’قتل عام‘؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
- مصنف, ثنا آصف
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
نیوزی لینڈ میں دو مساجد پرحملوں کی جہاں دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے وہیں اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد اس بات پر بحث کر رہی ہے کہ جب حملہ آور سفید فام ہو تو اسے دہشت گرد کی بجائے مسلح حملہ آور کیوں کہا جاتا ہے؟ صارفین یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ سفید فام حملہ آور ہونے یا مسلمانوں کے مرنے کے صورت میں ایسے واقعات کو دہشت گردی کے بجائے قتل عام کیوں قرار دیا جاتا ہے؟
یہ بھی پڑھیے
دہشتگردی یا قتل عام
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے اپنے بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملے 'دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔' آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ ماریسن نے بھی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشت گردی‘ ہی قرار دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد کا بھی یہ ہی کہنا ہے کہ حملہ آور چاہے سفید فام ہے لیکن اس نے جو کیا وہ دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ صارفین نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹس پر لفظ دہشت گرد کی وضاحت شئیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور اس حملے کو دہشت گردی ہی کہا جائے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
چند صارفین نے تو میڈیا کی جانب سے اس واقعے کی کوریج پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور مسلمان نہیں تھا، اس لیے عالمی میڈیا اس کے لیے دہشت گرد کی بجائے مسلح حملہ آور جیسے الفاظ کا استعمال کر رہا ہے جو کسی منافقت سے کم نہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ایک صارف نے نیوزی لینڈ حکومت اور سیکورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ اب مسلمانوں کے لیے محفوظ ملک نہیں رہا ہے۔
حملے کی ویڈیو
سوشل میڈیا پر کرائسٹ چرچ حملے کی ویڈیوز بھی گردش کررہی ہیں۔ نیوزی لینڈ میں فیس بک کی ترجمان نے سی این این کو بتایا ہے کہ اس حملے کی ویڈیوز کو فیس بک سے ہٹا دیا گیا ہے۔
کئی صارفین کا بھی یہ ہی خیال ہے کہ ایسی کسی بھی ویڈیو کو شئیر کرنے سے مرنے والوں کے لواحقین کی دل آزاری ہو گی۔ چند صارفین کے مطابق حملہ آور دراصل ان ویڈیوز کے ذریعے توجہ حاصل کرنا چاہتا ہے لہذا حملے کی فوٹیج شئیر کر کے اس کے مقاصد کو کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
نیوزی لینڈ پولیس نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر درخواست کی ہے کہ حملے کی فوٹیج کو شئیر نہ کیا جائے۔ نیوزی لینڈ پولیس کے مطابق وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی ویڈیوز کو ہٹانے کو کوشش بھی کر رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
صارفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ حملہ واضح کرتا ہے کہ دہشت گرد صرف مسلمان ہی نہیں،بلکہ سفید فام بھی دہشتگرد ہو سکتا ہے اور مسلمان بھی دنیا بھر میں دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایک صارف نے یہ بھی لکھا ہے کہ سفید فام حملہ آور کو ذہنی معذور کہنے کی بجائے دہشت گرد کہا جائے اور معصوم مسلمانوں کے قتل عام کو روکا جائے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 8
ایک صارف نے کہا کہ اس حملے سے پہلے نیوزی لینڈ کا شمار دنیا کے محفوظ ترین ملکوں میں کیا جاتا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 9









