امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے فوری طور پر زرعی اجناس پر محصولات کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر امریکی زرعی اجناس پر درآمدی محصولات کو کم کرے۔
ایک ٹوئٹر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ درخواست اس لیے کر رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس معاملے پر بہت احسن انداز میں مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے چین سے تجارتی تنازعات پر جاری مذاکرات میں پیش رفت کی خاطر امریکہ درآمد کی جانے والے مزید چینی مصونوعات پر محصولات میں یکم مارچ سے مزید اضافے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ ایک طویل عرصے سے چین کے تجارتی طریقہ کار پر اعتراض کرتے آئے ہیں اور انھوں نے امریکہ درآمد کی جانے والے چینی مصنوعات پر ڈھائی سو ارب ڈالر کے درآمدی ڈیوٹی عائد کر دی تھی۔
چین نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکہ سے چین درآمد کی جانے والی اشیاء پر ایک سو دس ارب ڈالر کی ڈیوٹیاں لگا دی تھیں جن میں امریکہ میں پیدا ہونے والی زرعی اجناس شامل تھیں۔ دونوں ملکوں کی طرف سے ان اقدامات نے ایک تجارتی جنگ کی شکل اختیار کر لی تھی اور انھیں دنیا کی تاریخ میں سب سے سنگیں قرار دیا جا رہا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2

گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ نے یہ کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ طے ہونے کے بہت قریب ہے۔ انھوں نے کہا کہ واشنگٹن میں ہونے والے سربراہی مذاکرات میں کافی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی تھی۔
امریکہ اب چینی صدر ژئی جی پنگ کے ساتھ امریکی ریاست فلوریڈا میں ایک اور سربراہی ملاقات کا انتظام کر ہے جبکہ یکم مارچ سے امریکہ میں درآمد کی جانے والی چینی مصنوعات اور خام مال پر محصولات کی شرح دس فیصد سے بڑھا کر پچیس فیصد کی جانی تھیں۔
عالمی منڈیوں پر دنیا کی دو بڑی معاشی طاقت کے درمیان تجارتی جنگ سے منفی اثرات پڑ رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عالمی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا تھا کہ امریکی اور چین کے درمیان تجارتی جنگ سے دنیا پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے اور دنیا میں غربت میں اضافہ ہو گا۔









