لارڈ نذیر احمد پر جنسی زیادتی کی فرد جرم عائد

لارڈ نذیر احمد

،تصویر کا ذریعہUK Parliament

ساؤتھ یارکشائر پولیس نے برطانیہ کی پارلیمان کے دارلعمرا کے رکن لارڈ نذیراحمد پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ نذیراحمد کو غیراخلاقی دست درازی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

ساؤتھ یارکشائر کی پولیس نے 61 سال نذیر احمد کے علاوہ محمد فاروق اور محمد طارق کے خلاف بھی جنسی زیادتی کےالزام عائد کیے ہیں۔

تینوں افراد کو انیس مارچ کو شیفلڈ میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے

سابق لیبر لارڈ نذیر احمد پاکستان میں پیدا ہوئے اور 1969 میں اپنے خاندان کے ہمراہ روڈہرہم میں منتقل ہوئے جہاں اس کے والد ایک سٹیل فیکٹری میں کام کرتے تھے۔

نذیر احمد نے 1975 میں 18 برس کی عمر میں لیبر پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 1990 میں پہلی بار روڈھرہم کونسل کے ممبر منتخب ہوئے۔ نذیر احمد پہلے ہاؤس آف لارڈ کے پہلے مسلمان رکن بنے جب وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے انھیں ہاؤس آف لارڈ کا ممبر نامزد کیا۔