کریڈٹ سوئس بینک کے تین سابق بینکاروں کو دو ارب ڈالرز کی ’فراڈ سکیم‘ میں گرفتار کرلیا گیا

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی حکام نے کہا ہے کہ کریڈٹ سوئس کے تین سابقہ بینکاروں کو موزمبیق میں ایک فراڈ سکیم میں دو ارب ڈالرز کے گھپلے میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سوئس بینک کے ان بینکاروں کو لندن میں گرفتار کیا گیا تھا اور لندن ہی کی ایک عدالت نے انھیں ضمانت پر رہا کردیا ہے۔ امریکہ نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ ان بینکاروں کو امریکہ کے حوالے کرے۔
مزید پڑھیے:
اس سکیم میں موزمبیق کے سرکاری صنعتی اداروں اور کمپنیوں کو قرضہ دیا گیا تھا۔
اسی سلسلے میں دو مزید گرفتاریاں ہوئیں ہیں جن میں موزبیق کے سابق وزیرِ خزانہ بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی پراسیکیوٹرز نے نیو یارک کی ایک عدالت میں سوئس بینک کے اینڈریو پیئرز، سُرجن سنگھ اور ڈٹالینا سبیوا کے خلاف امریکہ کے انسدادِ رشوت ستانی کے قوانین کی خلاف ورزی کی سازش، منی لانڈرنگ اور سیکیورٹی فراڈ کے الزامات عائد کیے ہیں۔
پراسیکیوٹرز نے موزمبیق کے وزیرِ خزانہ مینئول چانگ اور ان کے درمیان مذاکرات کار، ژاں بوستانی، پر بھی موزمبیق کی صنعتوں کیلئے ان دو ارب ڈالرز قرضوں کی سکیم میں سے بیس کروڑ ڈالرز کی خطیر رقم کہیں اور منتقل کرنے کا الزام لگایا ہے۔
ان افراد کے خلاف فردِ جُرم میں عائد کیا گیا ہے کہ ایک مالیاتی سلسلے کے ذریعے سنہ 2013 سے لے کر سنہ 2016 کے درمیان انھوں نے تقریباً دو ارب ڈالرز کے قرضے موزمبیق منتقل کیے جن کی ضمانت موزمبیق کی حکومت نے دی تھی۔
فردِ جُرم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سازش میں ملوث ملزموں نے اس دوران سرمایہ کاروں سے فراڈ کیا۔
فردِ جُرم کے مطابق، انھوں نے سمندری اور ساحلی ترقی کے منصوبے تشکیل دیے تاکہ بین الاقوامی سرمایہ کار اس میں سرمایہ کاری کریں، لیکن یہ منصوبے صرف دکھانے لیے تھے جبکہ ان کا اصل مقصد اپنی جیبیں بھرنا تھا۔ اس لیے انھوں نے ’جان بوجھ کر ان قرضوں کے ایک حصے سے بیس کروڑ ڈالرز اپنے آپ کو کمیشنز اور موزمبیق کی حکومت کے اہلکاروں کو رشوت دینے کیلئے دوسرے کھاتوں میں منتقل کیے۔‘
دوسری جانب سوئس بینک نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بینک کے جن تین سابق اہلکاروں جن کے خلاف امریکی حکام نے فردِ جُرم عائد کی ہے، وہ بینک کے ’اندرونی کنٹرول‘ کے نظام سے موزمبیق کی حکومت کے معاملے میں دھوکہ دہی کرتے رہے۔
تاہم سوئس بینک ان اپنے ان سابق بینکاروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اِن سابق اہلکاروں نے بینک کے اندرونی نظام کار کو ’ذاتی منافع کیلئے اور بینک سے اپنی ان سرگرمیوں کو چُھپانے کیلئے‘ ناکام بنا دیا تھا۔








