برطانوی وزیرِاعظم ٹریزا مے عدم اعتماد سے بچ گئیں، ’اب وقت منظور شدہ بریگزٹ پر عملدرآمد کرنے کا ہے‘

مے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبرطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اپنی قیادت کو چیلنج کیے جانے کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کریں گی

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اپنی جماعت سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اب وقت لوگوں کے ووٹ سے منظور شدہ بریگزیٹ پر عملدرآمد کرنے کا ہے۔

بدھ کو برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے اپنی ہی جماعت کنزرویٹو پارٹی کی جانب سے پیش کردہ عدم اعتماد کی درخواست کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہیں اور انھیں 117 کے مقابلے میں 200 اراکین نے اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔

اب ان کی قیادت کو ایک سال تک چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شمار کے بعد وزیرِاعظم نے بیان میں کہا کہ انھوں نے اپنے خلاف ووٹ کرانے والے اراکانِ پارلیمان کے خدشات کو سنا ہے اور جمعرات کو یورپی یونین کے اجلاس میں بریگزٹ معاہدے میں تبدیلیوں کے لیے کوشش کریں گی۔

بریگزٹ کے بارے میں مزید پڑھیے

برطانوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ملک کو یورپی اتحاد سے نکالنے پر عمل درآمد میں وہ مجوزہ معاہدے پر یورپی اتحاد سے مزید قانونی اور سیاسی یقین دہانیاں حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ متعدد ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیا اور تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک کے لیے مل کر کام کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے خلاف ووٹ کرانے والے اراکانِ پارلیمان کے خدشات کو سنا ہے اور جمعرات کو یورپی یونین کے اجلاس میں بریگزٹ معاہدے میں تبدیلیوں کے لیے کوشش کریں گی۔

مسز مے نے اعتماد کا ووٹ 83 ووٹوں کی برتری سے حاصل کیا۔ 63 فیصد کنزرویٹو پارٹی کے ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 37 فیصد نے ان کی مخالفت کی۔

ان کی جماعت کنزرویٹو پارٹی کے 48 اراکین نے ان کی قیادت کو چیلنج کرتے ہوئے ان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی درخواست دے دی تھی۔

1922 کمیٹی کے نام سے معروف کنزرویٹو پارٹی کی پارلیمانی کمیٹی کے چئیرپرسن سر گراہم بریڈی کو کنزرویٹو پارٹی کے 48 ارکانِ پارلیمان سے خط ملے جس میں ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی درخواست کی گئی۔

پارٹی کے قوانین کے مطابق اگر پارٹی کے 15 فیصد اراکین چئیرپرسن سے درخواست کریں تو پارٹی کے سربراہ کے خلاف ووٹنگ کی جا سکتی ہے۔

اس سے پہلے بدھ کی صبح اپنی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اپنی قیادت کو چیلنج کیے جانے کا بھرپور طریقے سے مقابلہ کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کو اس وقت تبدیل کرنا ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے۔ نئے لیڈر کے پاس بریگزٹ کے معاملے پر گفتگو کرنے کے لیے وقت نہیں ہوگا اور ان کے قیادت سنبھالنے کے بعد پہلا کام آرٹیکل 50 کو بڑھانے یا واپس لینے کے بارے میں ہو گا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنے سے ہم صرف اپنے درمیان مزید دراڑیں پیدا کر رہے ہیں ایک ایسے موقعے پر جب ہمیں اپنے ملک کی خاطر متحد رہنا ہوگا۔‘

ٹریزا مے کی قیادت کو کیے جانے والا یہ چیلنج اسی طرح کا چیلنج ہے جیسا کہ آج سے 28 سال قبل نومبر 1990 میں سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی قیادت کو ان کی سیاسی جماعت کی حامیوں نے مائیکل ہیسلٹائن کی قیادت میں چیلنج کیا تھااور اس کے نتیجے میں جان میجر کنزرویٹو پہلے پارٹی کے سربراہ اور پھر وزیراعظم بنے تھے۔

بریگزٹ کے باعث تنقید

برطانیہ کی جانب سے جون 2016 میں یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے کے بعد ٹریزا مے نے جولائی 2016 میں برطانیہ کی وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن انھیں بریگزٹ کے حوالے سے کیے جانے والے منصوبوں پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز برطانیہ اور یورپین یونین کے درمیان بریگزیٹ معاہدے کی برطانوی پارلیمنٹ سے توثیق کرنے کے لیے ووٹنگ ہونا تھی لیکن وزیرِ اعظم نے ووٹنگ موخر کر دی اور تاحال ووٹنگ کے لیے کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اس سے پہلے حکمران جماعت کے درجنوں ارکان بریگزٹ معاہدے کی مخالفت کا اعلان کر چکے تھے۔ اگر ایسی صورت میں اس پر پارلیمان میں ووٹنگ ہوتی تو لیبر، سکاٹش نیشنل پارٹی، اور لبرل ڈیموکریٹس کامیاب ہو جاتے۔

مے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

لیبر پارٹی نے پہلے ہی سے اعلان کر رکھا تھا کہ اگر بریگزٹ معاہدے پر ٹریزا مے کو شکست ہوئی تو وہ دارالعوام میں ان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی تحریک لائیں گے۔

اگرچہ ٹوری پارٹی میں بغاوت کی وجہ سے کئی لوگ کہہ رہے تھے کہ ووٹنگ ملتوی کر دی جائے گی لیکن پیر کی صبح تک وزیرِ اعظم مے اور ان کے ساتھی کا کہنا تھا کہ وہ ہر حال میں بریگزٹ معاہدے پر ووٹنگ کرائیں گے۔

ووٹنگ کا عمل کیسے کام کرتا ہے؟

ٹریزامے

کنزرویٹو پارٹی کی 1922 کمیٹی پہلے وقت کا تعین کرتی ہے جس کے بعد ٹوری پارٹی کے ممبران جماعت سے دو اراکین کو چنتے ہیں جن کو بقیہ پارٹی ووٹ کرتی ہے۔

ووٹنگ کے سلسلے کے بعد سب سے کم رینکنگ والا فرد باہر ہو جاتا ہے اور آخر میں دو لوگ رہ جاتے ہیں۔

اس موقع پر پارٹی فاتح کے لیے ووٹنگ کرتی ہے۔ آخری دو ممبران اپنے اپنے حق میں بقیہ اراکین کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہیں جو کہ ووٹنگ کی ڈیڈ لائن سے قبل کیا جاتا ہے۔

اگر اس موقع پر صرف ایک امیدوار ہو تو شخص پارٹی کی قیادت سنبھال لیتا ہے اور اسے ووٹنگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔