اسرائیل فلسطین تنازع: ’ایئر بی این بی نے اسرائیلی بستیوں کو اپنی فہرست سے نکال دیا‘

ائیر بی این بی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

عارضی رہائش حاصل کرنے کی سہولت فراہم کرنے والی امریکی کمپنی ایئر بی این بی کا کہنا ہے کہ وہ مقبوضہ اردن میں اسرائیلی بستیوں کے تمام گھروں کو اپنی ویب سائٹ سے خارج کر دے گی۔

ایئر بی این بی کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ یہ بستیاں ’اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی جڑ‘ ہیں۔

فلسطینیوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل نے اسے ’شرم ناک‘ قرار دیا ہے اور قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی ہے۔

غربِ اردن میں قائم یہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں تاہم اسرائیل اس سے اختلاف کرتا ہے۔

اس سے قبل فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایئر بی این بی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب انھوں نے مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلیوں بستیوں میں گھروں کو کرائے پر دینے کے لیے اپنی فہرستوں میں شامل کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں!

ایئر بی این بی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’امریکی قانون ایئر بی این بی جیسی کمپنیوں کو ان علاقوں میں کاروبار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

اسی دوران عالمی برادری میں یہ آواز اٹھائی جانے لگی کہ ’کمپنیوں کو یہاں کاروبار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے خیال میں کمپنیوں کو ان زمینوں سے فائدہ نہیں حاصل کرنا چاہیے جہاں سے لوگوں کو بے دخل کیا گیا ہے۔‘

غرب اردن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنغرب اردن میں اسرائیلی بستی معاليه ادوميم کا ایک منظر

اس کے بعد بی این بی کا کہنا تھا کہ ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہم مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی آبادیوں کو اپنی فہرست سے نکال دیں جو کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی جڑ ہیں۔‘

فلسطین لبریشن آگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل صائب اریقات نے کہا ہے کہ یہ ’ایئر بی این بی کے لیے اہم تھا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرتے کہ اسرائیل ایک مقبوضہ طاقت ہے اور غرب اردن میں اسرائیلی آبادکاری، بشمول مشرقی یروشلم، تمام غیر قانونی ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔‘

تاہم اسرائیلی وزیرسیاحت یاریف لیفین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس کے جواب میں امریکی عدالتوں میں ایئر بی این بی کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں ان بستیوں میں کرائے کے لیے جگہ فراہم کرنے والوں کی مدد کر سکتا ہے۔

اسرائیلی آبادکاروں کی نمائندگی کرنے والی یشا کونسل نے ایئربی این بی پر ’ایک سیاسی سائٹ‘ کا الزام عائد کہا ہے کہ اور ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’یا تو یہودی مخالفت یا دہشت گردی کے آگے ہتھیار ڈالنے یا ان دونوں کا نتیجہ ہے۔‘

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائیٹس واچ ان بستیوں میں ایئر بی این بی کے کاروبار سے متعلق اپنی ایک رپورٹ جاری کرنے والی ہے۔