پومپیو-سلمان ملاقات: خاشقجی کی گمشدگی پر سعودی عرب پر دباؤ بڑھ رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کی ہے اور صحافی جمال خاشقجی کے معاملے پر سعودی عرب پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
خیال رہے کہ خاشقجی کو آخری مرتبہ استنبول میں سعودی سفارتخانے میں دو ہفتے قبل دیکھا گیا تھا۔
ترکی کا خیال ہے کہ سعودی عرب نے اپنے ایجنٹس کی مدد سے خاشقجی کو قتل کر دیا ہے۔
امریکی میڈیا میں یہ کہا جا رہا ہے کہ شاید سعودی اس بات کو ماننے کی تیاری کر رہے ہیں کہ مسٹر خاشقجی کو سعودی ایجنٹس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کے دوران مارے گئے۔
استنبول میں سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کے بعد پہلی مرتبہ ترک حکام نے اس عمارت کی تلاشی لی ہے۔
منگل کی صبح ترکی کی پولیس کو عمارت سے باہر نکلتے دیکھا گیا تھا۔
ترک حکام کا دعویٰ ہے کہ خاشقجی کو سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا ہے جبکہ سعودی حکام تاحال اس الزام کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کی سعودی بادشاہ شاہ سلمان سے ملاقات کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی بارے میں

،تصویر کا ذریعہAFP /Getty
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو سعودی عرب کے شاہ سلمان کے ساتھ فون پر اس معاملے پر بات کی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ جمال خاشقجی کی گشمدگی کے پیچھے کچھ 'بدمعاش قاتل' بھی ہو سکتے ہیں۔
شاہ سلمان سے بات کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی حکومت اس بات سے بالکل لاعلم ہے کہ خاشقجی کے ساتھ کیا ہوا۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا ’میں نے سعودی عرب کے شاہ سلمان سے بات کی ہے لیکن انھوں نے اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا کہ ’ہمارے سعودی شہری‘ کے ساتھ کیا ہوا۔
انھوں نے کہا کہ وہ اس سوال کے جواب کے لیے ترکی کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ میں فوری طور پر سعودی عرب کے بادشاہ سے ملنے کے لیے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو روانہ کر رہا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency / Getty
دوسری جانب سعودی صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں آخری بار دیکھے جانے کے بعد ترکی کی پولیس کو پہلی بار سعودی قونصل خانے کے اندر رسائی دی گئی ہے۔
ترک پولیس سعودی حکام کے قونصل خانے کے اندر جانے کے ایک گھنٹے بعد عمارت میں داخل ہوئی۔
تاہم صحافیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ترک اہلکاروں کے عمارت میں داخلے سے چند گھنٹے قبل صفائی کے عملے کو اندر جاتے دیکھا۔
صحافی رجیب سویلو نے ٹویٹ کی ترکی کی پولیس کی معائنے کے لیے آمد سے قبل سعودی قونصل خانے میں ایک مشکوک پیش رفت یہ ہوئی کہ اس عمارت کے اندر صفائی کرنے والے ملازموں کو جاتے دیکھا گیا جہاں خاشقجی غائب ہوئے تھے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ادھر امریکی میڈیا میں آنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت شاید خاشقجی کی دوران تفتیش ہلاکت کا اعتراف کر لے۔
عربی چینل الجزیرہ نے ترکی کے اٹارنی جنرل کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا ہے۔
ترکی کے حکام کے خیال میں جمال خاشقجی کو دو ہفتے قبل قونصل خانے میں سعودی ایجنٹوں نے قتل کر دیا تھا، تاہم سعودی عرب اس کی تردید کرتا ہے۔
جمال خاشقجی سعودی حکومت کے ناقدین میں سے تھے جو استنبول میں سعودی قونصل خانے سے دو اکتوبر سے لاپتہ ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
سعودی عرب پر مکمل وضاحت فراہم کرنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ پیر کو سعودی عرب کے شاہ سلمان نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا: ’شاہ سلمان نے جمال خاشقجی کے معاملے میں سرکاری پراسیکیوٹر کو استنبول میں مشترکہ ٹیم کی معلومات کی بنیاد پر اندرونی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔‘
گذشتہ ہفتے ترکی نے جمال خاشقجی کی گمشدگی کی تحقیقات کرنے کے لیے مشترکہ ٹیم تشکیل دینے کی سعودی تجویز کو قبول کر لیا تھا۔
یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب بہت سی بڑی کاروباری شخصیات رواں ماہ سعودی عرب میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت سے انکار کا کہہ رہی ہیں۔
جے پی مورگن، جیمی ڈیمون ان سرکردہ شخصیات میں شامل ہیں جنھوں نے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تلاشی کیسے لی گئی؟
ترکی میں سعودی قونصل خانے کی تلاشی کے لیے ترک عملہ عمارت میں داخل ہوا تاہم صحافیوں نے اس سے چند گھنٹے قبل صفائی کرنے والے عملے کو قونصل خانے کے اندر جاتے دیکھا۔
سعودی عرب نے گذشتہ ہفتے ترک حکام کو عمارت کی تلاشی لینے کی اجازت دی تھی لیکن اس کا کہنا تھا کہ یہ صرف سطحی چھان بین ہو گی تاہم ترکی نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا تھا۔
صباح اخبار کا کہنا ہے کہ تحقیقات کرنے والے لومینل نامی کیمیکل کے ساتھ تلاشی لینا چاہتے تھے۔ اس کیمیکل سے خون کے نشان تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ انھیں اس کی اجازت ملی یا نہیں۔
حکام کے مطابق سعودی شاہ سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے درمیان اتوار کو ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ ہوا، جس میں انھوں نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔










