ایتھوپیا میں وزیر دفاع سمیت نصف حکومتی عہدوں پر خواتین تعینات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایتھوپیا کے وزیر اعظم ایبی احمد نے وزارتِ دفاع سمیت نصف حکومتی عہدوں پر خواتین کو تعینات کر دیا ہے۔
وزیر دفاع کا عہدہ ملک میں انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور یہ خاتون رہنما عائشہ محمد کو دیا گیا ہے۔
پارلیمانی پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں ایبی احمد نے کہا: ’خواتین کم بد عنوان ہوتی ہیں اور وہ ملک میں امن اور استحکام لانے میں مدد کریں گی۔‘
روانڈا کے بعد، ایتھوپیا دوسرا افریقی ملک ہے جہاں وزرا میں نصف خواتین ہیں۔
ایبی احمد نے 28 سے 20 سے وزرا کی تعداد کم کردی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایبی احمد نے اس سال اپریل میں ملک کے وزیراعظم کے بعد کئی اصلاح پسند اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے دو برس کے لیے پڑوسی ملک ایرٹریا کے ساتھ متعدد جھڑپوں کو بھی ختم کر دیا ہے۔
ایبی احمد نے ملک کی معیشت پر حکومتی گرفت کو کم کیا اور ہزاروں سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا۔
عائشہ محمد کو ملک کی پہلی خاتون دفاع وزیر بنا دیا گیا ہے۔ وہ اس سے پہلے وزیرِ تعمیرات رہ چکی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پارلیمان کی سابق سپیکر مفیریت کامل، ملک کی پہلے وزیر برائے امن ہوں گی۔ ملک کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے علاوہ، وفاقی پولیس کا انتظام بھی ان کے پاس ہوگا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اقوامِ متحدہ میں ایتھوپیا کے نائب مستقل نمائندے مہلی ہیلو نے نئے وزرا کی فہرست ٹویٹ کی۔
ایبی احمد نے کہا ہے کہ ان کے اصلاحاتی پروگرام کو جاری رکھنا چاہیے تاکہ ملک کو افراتفری کا شکار بنانے والے ادارتی اور اسٹریٹجک مسائل حل ہوسکیں۔
انھوں نے کہا کہ خواتین نے ملک میں امن اور استحکام لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ خواتین کم بدعنوان ہیں اور ان کے کام کا احترام کرتے ہیں اور تبدیلی کے راستے پر آگے بڑھ سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
42 سالہ ایبی احمد اپریل میں ایتھوپیا کے وزیر اعظم کے غیر متوقع استعفی کے بعد ملک کے نئے وزیراعظم بنے تھے۔
یہ سب اورومو نامی برادری کی جانب سے تین سالہ احتجاج کے بعد عمل میں جسے اس کے بقول یساسی اور معاشی پسماندگی کا شکار بنایا گیا۔
ایبی خود بھی ارومو قبیلے سے ہیں اور ان کی جانب سے ’زخم بھرنے کے لیے‘ اعتماد اور اتحاد کی اپیل کا ایتھوپیا میں خیر مقدم کیا گیا۔









