خواتین کے سر منڈوانے سے وگ کی تجارت پھلتی پھولتی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مذہبی عقیدہ کبھی کبھی کاروبار میں مددگار ثابت ہو جاتا ہے۔ ہندوؤں کا یہ عقیدہ کہ منڈن، ( یعنی بالوں کا عطیہ) بھی دیا جا سکتا ہے، اس کی ایک مثال ہے۔
ہندو عقیدے کے مطابق کوئی منّت یا مراد پوری ہونے پر بالوں کا نذارنہ بھی پیش کیا جا سکتا ہے جس کے لیے خواتین بھی اپنا سر منڈوا دیتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کے تروتھتانی مندر میں خواتین بڑی تعداد میں اپنی منت پوری ہو جانے کے بعد اپنا سر منڈوا دیتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست تمل ناڈو سے جو بال برآمد کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک چوتھائی بال وہ ہوتے ہیں جن کا مندروں میں نذارنہ پیش کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ریاست کے مختلف مندر منڈن سے جمع ہونے والے بالوں کی نیلامی کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیلامی سے حاصل ہونے والے بالوں کو کمپنیاں صاف صفائی کرنے کے بعد ان کی وگ تیار کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان بالوں سے تیار ہونے والی وگوں کو امریکہ، افریقہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں فروخت کے لیے اچھی قیمتوں پر باہر بھیجا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک تخمینے کے مطابق ہاتھوں سے ایک وگ کو بنانے میں ایک ماہ کا وقت بھی لگ سکتا ہے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'راج ہیئر انٹرنیشنل' نامی کمپنی کینسر کے مریضوں کو وگ بطور عطیہ فراہم کرتی ہے۔ یہ کمپنی تقریبا 56 ممالک میں وگوں کو برآمد بھی کرتی ہے۔
خواتین اور بچوں کے سر منڈوانے سے حاصل ہونے والے بالوں کا کافی بڑا حصہ وگ بنانے کے کام آتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images







