منی لانڈرنگ: برطانیہ میں زیر تفتیش پاکستانی جوڑا گرفتاری کے بعد رہا

،تصویر کا ذریعہNCA
برطانیہ کے قومی ادارے این سی اے کے بین الاقوامی کرپشن یونٹ نے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے الزام میں ملوث سیاسی روابط رکھنے والے ایک پاکستانی جوڑے کو گرفتاری کے بعد رہا کرنے کی تصدیق کی ہے۔
این سی اے کی جانب سے جاری تحریری پریس ریلیز میں اس پاکستانی جوڑے کا نام تو نہیں بتایا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ ان دونوں میاں بیوی کی عمریں چالیس اور تیس کے پیٹے میں ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو، ایف آئی اے کی مدد شامل تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے بھی برطانیہ اور پاکستان کے درمیان بدعنوانی کے خاتمے کے لیے انصاف و احتساب کی شراکت کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔
مزید پڑھیے
ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ مل کر پہلے ہی کام شروع کیا جا چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس پاکستانی جوڑے کو برطانیہ کے علاقے سرے سے گرفتار کیا گیا۔ اس کی 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ مالیت کی جائداد کو قبضے میں لے لیا گیا۔
پریس ریلیز کے مطابق بظاہر ان کا کوئی حقیقی ذریعہ آمدن نہیں تھا۔
تفتیش کے بعد اس جوڑے کو رہا کر دیا گیا ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ابھی زیر تفتیش ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی وزیر نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ 'بدعنوانی پر قابو پانا دونوں ملکوں کی ترجیح ہے، اور میں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے جس کے بعد ہم نے طے کیا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان انصاف و احتساب کی نئی شراکت شروع کی جائے۔'
ساجد جاوید نے مزید کہا کہ 'ہم لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی کے سول فنڈ بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے 'آج سے ہم ایک نیا برطانوی مندوب برائے انصاف و احتساب تعینات کر رہے ہیں۔ یہ سینیئر پوزیشن کا اہلکار ہو گا جو دونوں ملکوں کے درمیان آپریشنل تعاون میں مدد دے گا۔'
وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر اس عہدے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ 'سنگل پوائنٹ کانٹیک پرسن' ہو گا جس کی تقرری سے ملک بدری، منی لانڈرنگ، اور دوسرے منظم جرائم کے خلاف تیزرفتاری سے کام کیا جا سکے گا۔'
ساجد جاوید نے کہا کہ 'انصاف کے میدان میں تعاون کے سلسلے ہم نے مجرموں کے دوطرفہ تبادلے کے معاہدے کی تجدید کا بھی فیصلہ کیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے قیدیوں کو اپنے اپنے خاندانوں کے قریب سزا کاٹنے کا موقع ملے گا۔'








