’الطاف حسین کے خلاف شواہد فراہم کیے جائیں‘

،تصویر کا ذریعہPA
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے برطانیہ سے متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین کے خلاف تحقیقات کے دوران حاصل کیے گئے شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ بات حکومتِ پاکستان کی جانب سے حکومت برطانیہ کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہی گئی ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے بھیجے جانے والے مراسلے میں الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں منی لانڈرنگ کے مقدمے کے خاتمے پر تشویش بھی ظاہر کی گئی ہے۔
سکاٹ لینڈ یارڈ نے گذشتہ سال 13 اکتوبر کو تصدیق کی تھی کہ منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین سمیت چھ افراد کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس وقت سکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ تمام ثبوتوں کی تحقیقات کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ اس نتیجے پر پہنچی کہ اس بات کے ناکافی ثبوت ہیں کہ 2012 اور 2014 کے درمیان ملنے والی پانچ لاکھ پاؤنڈ کی رقم جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی تھی یا یہ کہ اس رقم کو غیر قانونی کاموں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزارتِ داخلہ کے مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں الطاف حسین کے خلاف جو مقدمات درج ہیں ان میں پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ برطانیہ میں حاصل کردہ شواہد حکومتِ پاکستان کو بھی فراہم کیے جائیں۔
وزارتِ داخلہ نے برطانوی حکومت سے منی لانڈرنگ کے مقدمات کے خاتمے کے فیصلے پر نظرِثانی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں پاکستانی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ شواہد کو زیرِ غور لایا جائے۔







