پاکستان اور برطانیہ کے درمیان لٹی دولت واپس لانے کے لیے معاہدہ

،تصویر کا ذریعہEPA
برطانوی وزیرِ داخلہ ساجد جاوید نے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان بدعنوانی کے خاتمے کے لیے انصاف و احتساب کی شراکت کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی وزیر نے اتوار کے روز اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’بدعنوانی پر قابو پانا دونوں ملکوں کی ترجیح ہے، اور میں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے جس کے بعد ہم نے طے کیا ہے کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان انصاف و احتساب کی نئی شراکت شروع کی جائے۔‘
ساجد جاوید نے مزید کہا کہ ’ہم لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی کے سول فنڈ بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے 'آج سے ہم ایک نیا برطانوی مندوب برائے انصاف و احتساب تعینات کر رہے ہیں۔ یہ سینیئر پوزیشن کا اہلکار ہو گا جو دونوں ملکوں کے درمیان آپریشنل تعاون میں مدد دے گا۔‘
وزیراعظم کے مشیر شہزاد اکبر اس عہدے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’سنگل پوائنٹ کانٹیک پرسن‘ ہو گا جس کی تقرری سے ملک بدری، منی لانڈرنگ، اور دوسرے منظم جرائم کے خلاف تیزرفتاری سے کام کیا جا سکے گا۔'
ساجد جاوید نے کہا کہ ’انصاف کے میدان میں تعاون کے سلسلے ہم نے مجرموں کے دوطرفہ تبادلے کے معاہدے کی تجدید کا بھی فیصلہ کیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے قیدیوں کو اپنے اپنے خاندانوں کے قریب سزا کاٹنے کا موقع ملے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے ساتھ مل کر پہلے ہی کام شروع کیا جا چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل ساجد جاوید نے بی بی سی کے نامہ نگار سکندر کرمانی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ بدعنوانی کے مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے اور احتساب سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔
انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں بی بی سی کے سکندر کرمانی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہی۔
برطانوی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان برطانیہ کے لیے بہت اہم ملک ہے۔ یہ ان ممالک میں شامل ہے جن کے ساتھ ہمارے نہایت اہم باہمی تعلقات ہیں۔‘
تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا وزارتِ داخلہ کا ذمہ دار ہونے کے ناطے میرا خیال ہے کہ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں جن میں احتساب بھی شامل ہے۔ ہم خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
’خاص طور پر جب سے ہم نئے برطانوی قوانین میں نئے اقدامات کو منظور کیا ہے اس کی مدد سے ہم دنیا کے کسی بھی حصے سے آئے افراد کو احتساب کے عمل کا حصہ بنا سکتے ہیں۔‘
ساجد جاوید کا کہنا تھا کہ ’ہم بدعنوانی کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں چاہے کہیں بھی ہوں ہم اس بارے میں پاکستان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے یقیناً تعاون، معلومات اور انٹیلیجنس کا تبادلہ ضروری ہے اور ہم اس کے لیے کوشاں ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم پاکستان سمیت کسی بھی کے ساتھ اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کو تیار ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMOFA
حوالگی کے معاہدے کی کوشش
برطانوی وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا: ’پاکستان اور برطانیہ نے ماضی میں کچھ لوگوں کو ایک دوسرے کے حوالے کیا ہے اور اس کے لیے ایک باقاعدہ درخواست کا طریقۂ کار موجود ہے۔ یہ ایک منفرد معاملہ ہے اور میں اس کا احترام کرتا ہوں۔‘
’ایک راستہ ہے کہ ہم مجرموں کی حوالگی سے متعلق باقاعدہ معاہدہ کریں اور میں اس بارے میں پاکستانی حکومت سے بات کروں گا۔‘
واضح رہے کہ پاکستان کو مطلوب متعدد اہم شخصیات جن میں متحدہ قومی موومنٹ کے سابق قائد الطاف حسین سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اور سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار شامل ہیں اس وقت لندن میں قیام پذیر ہیں۔
پاکستانی نژاد برطانوی وزیرِ داخلہ ساجد جاوید کا کہنا تھا: ’آج کے برطانیہ میں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ پاکستانی ہیں یا افریقی یا یہودی یا آپ کہیں سے بھی آئے ہوں۔ اگر آپ اپنی بھرپور کوشش کریں گے تو آپ سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔‘
ساجد جاوید نے پیر کو پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات بھی کی ہے۔
اس سلسلے میں پاکستانی دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی تعاون کے امور پر تبادلہِ خیال کیا جن میں علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، منظم جرائم، تارکین وطن، انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ اور اثاثوں کی واپسی کے معاملات زیرِ بحث آئے۔











