دؤاد ابراہیم سے تعلق کا الزام، برطانیہ میں گرفتار پاکستانی تاجر کے ریمانڈ میں توسیع

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ساجد اقبال
- عہدہ, بی بی سی، لندن
لندن کی ایک عدالت نے انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار کراچی کے کاروباری شخص جابر صدیق موتی کے ریمانڈ میں چار ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔
منگل کو مقدمے کی سماعت کے دوران جابر موتی جیل سے وڈیو لنک کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
عدالت نے اُن کی شناخت سے متعلق چند سوالات کے بعد جج نے انھیں مزید چار ہفتے کے لیے جیل میں رکھنے کا حکم جاری کیا۔
جابر موتی کے وکیل ٹوبی کیڈمین نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس موقع پر ضمانت کی درخواست نہیں دے رہے لیکن ممکن ہے کہ وہ 25 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں اپنے موکل ان کی ضمانت کی نئی درخواست دائر کریں۔
مزید جانیے
جابر موتی کو 17 اگست کو لندن میٹروپولیٹن پولیس کے ایکسٹراڈیشن یونٹ نے پیڈنگٹن میں واقع ایک فائیو سٹار ہوٹل سے گرفتار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن میں ان کی گرفتاری امریکی تحقیقاتی ادارے کی درخواست پر ہوئی تھی اور انھیں گرفتار کر کے ڈسٹرکٹ جج کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔
21 اگست کو ان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران کراؤن پراسیکیوشن سروس کی نمائندگی کرتے ہوئے استغاثہ کی وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ جابر موتی داؤد ابراہیم کی سربراہی میں کام کرنے والے کرائم سنڈیکیٹ ڈی کمپنی کے سینئیر رکن ہیں، جو دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ، منی لانڈرنگ اور بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث ہے۔
انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ایف بی آئی سنہ 2012 سے ڈی کمپنی کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ڈی کمپنی کی قیادت پاکستان میں موجود ہے اور اس کے سمگلنگ روٹ جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جابر موتی کی شمار ڈی کمپنی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے جو اس کمپنی کے سربراہ داؤد ابراہیم کو براہراست رپورٹ کرتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں میں ان کی نمائندگی کرتے ہیں۔
جابر موتی کے وکیل ٹوبی کیڈمین نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل کراچی کے ایک کامیاب بزنس مین ہیں اور اچھے کردار کے مالک ہیں۔ وکیل نے کہا کہ جابر کے پاس برطانیہ کا دس سال کا ویزہ ہے اور ماضی میں امریکہ بھی جا چکے ہیں۔
وکیل کیڈمین نے کہا کہ ان کے موکل کسی بھی مالیت کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے اور ضمانت کے لیے سخت سے سخت شرائط قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم ڈسٹرکٹ جج مارگوٹ کولمین نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انھیں ضمانت دی گئی تو وہ ملک سے فرار ہو جائیں گے۔

،تصویر کا ذریعہPTI
کورٹ کے سامنے ناکافی شواہد سے متعلق جابر موتی کی دلیل کا حوالہ دیتے ہوئے جج کولمین نے کہا کہ امریکہ ایک جمہوری ملک ہے اور دونوں ملک باہمی اعتماد کی بنیاد پر امور سرانجام دیتے ہیں۔ جج نے کہا کہ ’اگر انھوں نے کہا کہ ان کے پاس ان الزامات سے متعلق ثبوت ہیں تو میں ان کے اس دعوے کو اسے طرح قبول کرتی ہوں جیسے اسے بیان کیا گیا ہے۔‘
برطانیہ کے صحافتی حلقوں میں جابر موتی کی لندن سے گرفتاری کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ اب تک انڈرورلڈ داؤد ابراہیم کے معاملے کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ معاملے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
انڈیا کا دعویٰ ہے کہ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم حملوں میں مطلوب داؤد ابراہیم پاکستان میں مقیم ہیں جبکہ پاکستان اس دعوے کی ہمیشہ تردید کرتا آیا ہے۔ تاہم اس بار داؤد ابراہیم سے متعلق الزام انڈیا کی طرف سے نہیں آیا بلکہ جابر موتی کو گرفتار کرنے کی درخواست امریکی تحقیقاتی اداروں نے کی ہے۔
دوسری جانب برطانوی محکمہ خزانہ 16 اگست کو ان افراد اور اداروں سے متعلق اپنے فہرست کی تجدید کی ہے جن کے خلاف مالی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس فہرست میں داؤد ابراہیم کا نام بھی شامل ہے اور پاکستان کے شہر کراچی میں ان کے تین ایڈریس بھی دیے گئے ہیں۔









