کینیڈا شدید گرمی کی لپیٹ میں، ہیٹ ویو سے 33 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
کینیڈا کا جنوبی صوبے کیوبک ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو کے سبب اب تک 33 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
گرمی کی شدید لہر گذشتہ ہفتے شروع ہوئی ہے اور اب درجہ حرارت 35 ڈگری تک پہنچ گیا ہے جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے۔
گرمی کے سبب ہر روز ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور بدھ کو ہیٹ ویو سے 17 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ جمعرات کو ہلاک ہونے والوں کی تعداد 33 ہو گئی ہے۔
گذشتہ کئی دہائیوں میں حالیہ گرمی کی لہر شدید ترین ہے۔
حکام نے لوگوں سے کہا ہے کہ سخت گرم موسم میں وہ زیادہ سے زیادہ پانی پیئں اور سایہ دار جگہ پر رہیں۔
مونٹریال کے میئر کا کہنا ہے کہ 'ہم ہر وہ اقدام کر رہے جو ہم کر سکتے ہیں۔'
شہر میں لوگوں کے لیے سوئمنگ پولز اور ایئرکنڈیشن مقامات کھول دیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
میئر نے بتایا کہ اُن کے عملے نے گھر گھر جا کر 15 ہزار اُن افراد کو تلاش کیا جنھیں مدد کی ضرورت تھی۔
صرف مونٹریال شہر میں 12 افراد ہیٹ ویو سے ہلاک ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویو سے سب سے زیادہ متاثر بچے اور ضعیف افراد ہوئے ہیں۔
محکمۂ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گرمی سے ہلاک ہونے والے افراد کی اکثریت کے پاس ایئر کنڈیشن کی سہولت نہیں تھی اور اُنھیں صحت کے مسائل کا بھی سامنا تھا۔
رواں سال کے دوران مونٹریال میں اوسطً درجہ حرارت معمول کے 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے کہیں زیادہ ہے۔
کینیڈا کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ جمعے سے گرمی کی شدت میں کمی آنے کا امکان ہے







