سپین اور پرتگال کے بعض علاقوں میں گرمی کی شدید لہر جاری ہے اور درجہ حرارت 44 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
،تصویر کا کیپشنیورپی ملک سپین اور پرتگال گرمی کی شدید لہر کی لپیٹ میں ہیں اور حکام نے شہریوں کی صحت کے حوالے سے وراننگ جاری کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسپین کے جنوبی شہر قرطبہ میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا۔ ہمسایہ ملک پرتگال نے چار خطوں کے لیے اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔دونوں ممالک میں خبردار کیا گیا ہے کہ گرم موسم کے نتیجے میں جنگلوں میں آگ لگنے کا خدشہ ہے۔
،تصویر کا کیپشنسپین کے محکمۂ موسمیات کے ایک ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ موسمی حالات غیر معمولی ہیں۔انھوں نے خبردار کیا کہ غیر معمولی درجہ حرارت کے نتیجے میں شہریوں کی صحت کو بہت زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسپین کے شہر قرطبہ، اشبیلیہ اور طلیطلہ پیر کو گرمی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جبکہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 44 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا توقع ہے۔
،تصویر کا کیپشناشبیلیہ میں لوگوں نے گرمی سے بچنے کے لیے دریا کا رخ کیا اور وہاں نہاتے رہے جبکہ حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ انھیں دن میں کم از کم تین لیٹر پانی پینا چاہیے اور گرم خوراک کھانے سے پرہیز کریں۔
،تصویر کا کیپشنگرمی کی لہر پھیلنے کے خدشے سے فرانس اور برطانیہ میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔
،تصویر کا کیپشنسال 2003 میں یورپ میں گرمی کی شدید لہر کے نتیجے میں 70 ہزار افراد مارے گئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنفرانس کے وزیرِ ماحولیات سگولینی رائل کا کہنا ہے کہ’ میرے خیال میں گرمی کی حالیہ لہر کے اثرات 2003 جیسے ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت ہم اس کے لیے تیار نہیں تھے۔‘