میں نے اپنے شوہر کی دوسری شادی کا کیسے پتہ چلایا؟

Maurice and Yve Gibney

،تصویر کا ذریعہYve Gibney

ایو گبنی میرسی سائیڈ میں این ایچ ایس کی ایک نرس ہیں وہ 17 سال تک ایک خوشگوار شادی شدہ زندگی گزارتی رہیں لیکن پھر ان کے شوہر نے ان سے عجیب برتاؤ شروع کر دیا۔ وہ بتا رہی ہیں کہ کس طرح وہ ایک جاسوس بن گئیں اور معلوم کیا کہ ان کے شوہر کی ایک اور زندگی بھی ہے۔

ہم سنہ 1995 میں نائیجیریا کے علاقے لاگوس میں جمعے کی رات کی ایک سوشل کلب میں ملے۔ میں وہاں نرسنگ آفیسر کے طور پر کام کرنے گئی تھی اور وہ ایک تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

ہم فوراً ہی ایک دوسرے کی جانب کشش محسوس کرنے لگے۔

میں نے انھیں اپنا فون نمبر دیا لیکن غلطی سے دوسرا نمبر دے دیا۔ اس لیے کئی ہفتوں تک میں ان سے ملی اور نہ بات ہو سکی۔ پھر ہم ایک دن دوبارہ ٹکرا گئے۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ انھوں نے مجھے فون کرنے کی کوشش کی۔

یہ بھی پڑھیے

میں جلد ہی ان سے متاثر ہو گئی۔ ہم نے تین ماہ بعد شادی کر لی۔ ہم ایک لمبے عرصے تک ایک بندھن میں رہے۔ سب ٹھیک چل رہا تھا۔

دو سال بعد ہمارا بیٹا پیدا ہوا لیکن میرا اس سے پہلے بھی ایک بڑا بیٹا تھا۔ اس کے امتحانات کے وقت میں برطانیہ آئی اور اس کی مدد کی۔ تب بھی مجھے لگا ہماری شادی اچھی جا رہی ہے۔

ہمارا رشتہ چل رہا تھا کیونکہ یہ ہمارے لیے ہر طرح سے مناسب تھا۔ شاید یہ روایتی شادی نہیں تھی کہ جس میں آپ ہر وقت ساتھ رہتے ہیں لیکن یہ ہمارے لیے ٹھیک جا رہی تھی۔

ہم مسلسل رابطے میں تھے۔ ہم روزانہ ایک دوسرے کو پیغامات بھیجتے۔ ہمارے دوست کہتے تھے کہ شاید تم لوگ ساتھ رہنے والوں سے زیادہ رابطے میں رہتے ہو۔

سنہ 2011 میں وہ کام کرنے اومان گئے۔ اس دوران میں برطانیہ میں رہی تاہم ان کا رویہ بدلنے لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کام کے دباؤ کی وجہ سے وہ پہلے کی طرح باقاعدگی سے گھر نہیں آ سکتے۔ وہ کم کم گھر آنے لگے اور دو یا تین ہفتوں کے لیے آنے کی مخالفت کرنے لگے۔

مجھے اس بات پر تو شک نہیں ہوا لیکن اس سے ہمارے رشتے پر اثر پڑنے لگا۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ذہنی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔ انھیں اومان میں رہنے کی پریشانی ہے اور اسی ذہنی دباؤ کے باعث وہ باقاعدگی سے گھر نہیں آ سکتے۔

اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ کا بہانہ کر کے ہمدردی حاصل کرنا چاہتے تھے کیونکہ اس طرح وہ ان چیزوں سے بھی بچ جاتے جنھیں میں آسانی سے نہ جانے دیتی۔

انھیں سنہ 2012 میں کرسمس کے موقع پر گھر آنا تھا۔ 22 دسمبر کو انھوں نے مجھے فون کیا اور کہا ’مجھے لینے ایئر پورٹ مت آنا، میں نہیں آ رہا، میں بہت ذہنی دباؤ ہوں۔ میں کونسلر سے ملا ہوں اس نے مجھے کہا ہے کہ گھر مت جاؤ۔‘

وہ جنوری میں گھر آئے اور اپنے ڈپریشن کے بارے میں بات کرنے سے صاف انکار کر دیا اس کی وجہ سے ہماری تکرار ہو گئی۔ وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ عدالت کے باہر یہ ہماری آخری ملاقات تھی۔

Yve and Maurice Gibney on their wedding day

،تصویر کا ذریعہS & T Bonnar

،تصویر کا کیپشنایو گبنی اور مورس گبنی اپنی شادی کے موقعے پر

انھوں نے ایک گاڑی کرائے پر لی تھی اور اسی میں چلے گئے۔ میرا خیال تھا کہ وہ واپس آئیں گے لیکن وہ نہیں آئے اور نہ فون کا جواب دیا۔

میں کافی پریشان ہوئی اور کار کمپنی سے پوچھ گچھ کی تو وہاں خاتون نے مجھے بتایا کہ وہ گاڑی واپس کر گئے ہیں۔

تب اس نے کہا ’میں انھیں اس وقت سے جانتی ہوں جب انھوں نے پچھلی بار کرسمس کے لیے گاڑی کرائے پر لی۔‘ میں نے بہانے سے مزید سوال کیے تو پتا چلا کہ انھوں نے اس وقت مہنگی گاڑی لی تھی اور اس مرتبہ سب سے سستی۔

تب اس نے کہا ’میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں، انھوں نے وہ گاڑی ویسٹ مڈ لینڈ میں ایک پتے پر رجسٹر کروائی تھی۔` اس نے مجھے وہ پتا دے دیا کیونکہ میں نے اپنے شوہر کی ذہنی حالت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس خاتون کے بغیر تو شاید مجھے اس دوغلے شخص کے بارے میں پتہ بھی نہ چلتا۔ مجھے اس کا شکریہ ادا کرنے کا موقع نہیں ملا۔

میں نے اس پتے کو دیکھا اور اس نمبر پر فون کیا تو یہ وائس میل پر گیا۔

کچھ دوستوں کی مدد سے پتہ چلا کہ اس پتے پر رہنے والا شخص مسقط میں کسی کمپنی کے ساتھ کام کرتا ہے۔

میں نے سوچا یہ یقیناً اومان میں ان کے دوست ہوں گے اور واپس آنے پر ڈپریشن کی وجہ سے وہ گھر آنے کے بجائے یہاں رہ گئے ہوں گے۔

میں نے سوچا ’وہ اتنے ذہنی دباؤ میں ہیں اور کوئی افیئر چلانے اور اسے راز میں رکھنے کی حالت میں نہیں۔‘ میں نے اس بات کو جانے دیا۔

بلآخر میں نے مورس سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر تم گھر میں موجود اپنے بیٹے کو الوداع کیے بنا ہی جا سکتے ہو تو تم اس خاندان کے قابل نہیں ہو۔ اس لیے میں نے طلاق کے لیے کوشش شروع کر دی۔

میں نے اپریل سنہ 2013 میں فیس بک پر ان کی بہنوں کی مسقط میں بنی ایک تصویر بھی دیکھی تھی جن میں ایک بہن نے فیسینیٹر پہن رکھا تھا۔ یہ وہ چیز تھی جس نے مجھے شک میں مبتلا کیا۔

میں نے اپنی دوست سے کہا ’تمہیں نہیں لگتا انھوں نے شادی کر لی ہے۔‘ میں جانتی تھی کہ یہ کتنا مضحکہ خیز لگا تھا اور میری دوست سے ہنستے ہوئے کہا تھا کہ تم ہمیشہ مضحکہ خیز باتیں کرتی ہو۔

مجھے مزید اگلے ایک سال تک کچھ پتہ نہیں چلا۔

میں نے اس نمبر پر دوبارہ کال کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے خود کو کار کمپنی کی اہلکار ظاہر کیا۔ پھر میں نے کہا ’آپ اپنا نام اور ان سے رشتہ بتا سکتے ہیں۔‘

دوسری طرف سے آدمی نے کہا ’میں ان کا برادر نسبتی ہوں۔‘

میں نے دوبارہ فون کیا اب کی بار میں نے اپنی شناخت نہیں بدلی ایک خاتون نے فون اٹھایا۔

میں نے کہا ’مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اس آدمی نے یہ کیوں کہا کہ وہ مورس کا برادرِ نسبتی ہے۔‘ اس خاتون نے کہا ’کیونکہ اس کی شادی میری بہن سے ہوئی ہے۔‘

مجھے یاد ہے جب وہ یہ کہہ رہی تھی تو میں بری طرح کانپ رہی تھی۔ مجھے دوسرے ہاتھ سے فون والے ہاتھ کو تھامنا پڑا۔

میں نے کہا ’کیا یہ مورس گبنی ہی ہیں لیور پول سے؟ میں نے ان کا حلیہ بتایا تو اس نے جواب دیا ہاں وہی ہیں۔ لیکن آپ کون ہیں؟‘

میں نے کہا ’اس کی بیوی۔‘ اور فون کی دوسری جانب مکمل خاموشی چھا گئی۔

Yve Gibney

میں نہیں جانتی کہ میں کیا محسوس کر رہی تھی، انتہا درجے کی بے یقینی سی تھی، وہ میرا شوہر ہوتے ہوئے کسی اور سے کیسے شادی کر سکتا ہے‘۔

تاہم ایک عورت اور ایک ماں ہونے کے ناطے آپ آگے بڑھ جاتے ہیں۔

یقیناً اس مرحلے پر میں یہ نہیں جانتی تھے کہ یہ کیسا تعلق ہے اور وہ کتنے عرصے سے شادی شدہ ہیں اس لیے میں نے اپنے وکیل کو مطلع کیا۔

مورس نے اپنے خاندان کو بتایا تھا کہ ہماری بہت عرصے پہلے طلاق ہو چکی ہے ہے اور میں پاگل عورت ہوں اور ایسی حرکتیں اس لیے کر رہی ہوں کہ مجھے علم ہوا ہے کہ وہ دوسری شادی کر رہا ہے۔

کچھ دن بعد ایک رات میں سو نہیں پا رہی تھی تو میں نے سوچا مجھے اس بارے میں مزید معلومات کرنے چاہئیں۔

میں فیس بک پر گئی وہاں اس عورت کا فیس بک پیج دیکھا۔ وہاں اس کی شادی کی تصاویر تھیں جس میں وہ عروسی لباس میں میرے شوہر کو چوم رہی تھی۔ تب مجھے پتا چلا کہ ان کی شادی مارچ سنہ 2013 میں ہوئی۔

یہ سب دیکھ کر مجھے کیسا لگا یہ میں بیان نہیں کر سکتی۔ میں صدمے میں تھی۔ میں یہ دیکھ رہی تھی اور میں جاتنی تھی کہ یہ وہی ہے۔

ہم عدالت گئے اور میں نے جج سے کہا کہ وہ مورس کو بگمی (دو بیویاں رکھنے والا شخص) قرار دیں اور طلاق کے مقدمے کو معطل کر دیں۔ جج نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے لگتا ہے کہ میرے شوہر نے ایسا کیا ہے تو میں پولیس میں رپورٹ کروں۔ اگلے دن میں نے ایسا ہی کیا۔

انھیں اس جرم میں دو سال کی معطل اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

اس کی دوسری بیوی بھی اس کی متاثرہ تھی کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ وہ ایک طلاق یافتہ مرد ہیں۔

میں نے انھیں عدالتی دستاویزات کے ساتھ ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا ’میں معذرت چاہتی ہوں کہ تم نہ میرے شوہر کے ساتھ شادی کی ہے۔ میں جانتی ہوں کہ جتنا یہ میرے لیے لکھنا مشکل ہے تمہاری لیے پڑھنا بھی اتنا ہی مشکل ہوگا۔‘

وہ کہانی گڑھنے اور حقائق کو بگاڑ کر پیش کرنے کا ماہر تھا اس لیے اس نے اسے قائل کر دیا ہو گا کہ میں ایک پاگل سابقہ بیوی ہوں۔

اس نے اپنا خاندان کیوں تباہ کیا؟ اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو چھ سال سے نہیں دیکھا۔

میں نہیں جانتی کہ اس نے سیدھا سیدھا آ کر یہ کیوں نہیں کہا کہ میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔ اس نے تباہی اور خاندان کو تکلیف دینے کا راستہ کیوں چنا۔ مجھے یہ کبھی پتا نہیں چلے گا۔

طلاق کے حتمی فیصلے کے دن ضلعی جج کو معلوم ہوا کہ عدالت کے ساتھ 56 معاملات میں دھوکہ دہی کی گئی جسے عدالت نے بددیانتی قرار دیا۔

مورس اپنے بینک اکاؤنٹس کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دے پائے۔ انھوں نے اپنی وراثت کی معلومات بھی چھپائیں۔ جو بینک سٹیٹمنٹ انھوں نے دی وہ بھی ان کی نہیں تھیں اور نہ ہی وہ اکاؤنٹ ان کے تھے۔

انھوں نے اپنی تنخواہ کے بارے میں بھی جھوٹ بولا، انھوں نے بار بار جھوٹ بولا۔

اسی کی وجہ سے میں دوبارہ عدالت گئی اور ثابت کیا کہ ہمارے درمیان طے پانے والا سمجھوتہ دھوکہ دہی پر مبنی معلومات پر کیا گیا جس کے بعد جج نے مجھے ہمارے خاندانی گھر میں اس کا حصہ بھی دے دیا۔

عدالتی قوانین میں انصاف کا نظام تو ہے لیکن اسے لاگو کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ عدالت میں غلط بیانی اور دھوکہ دہی کے تمام معاملات کی سزا نہیں دی گئی۔ عدالت نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا جو کہ بہت غلط ہے۔

اس دوسرے مقدمے کی وجہ سے مجھ پر 58 ہزار پاؤنڈ کا قرض چڑھ گیا۔ میں این ایچ ایس کے ساتھ نرس ہوں۔ میرے پاس اتنی رقم نہیں۔ میری تمام قانونی فیس کریڈٹ کارڈز پر ادا ہوئی ہے۔ ضلعی جج نے فیصلے کیا کہ مورس یہ رقم چار دن میں ادا کرے۔ انھوں نے یہ رقم ابھی تک ادا نہیں کی۔

مجھے خوشی ہے کہ وہ ہماری زندگی سے چلا گیا۔ اس شخص سے میں نے پیار کیا اور میرے بچوں نے اسے باپ سمجھ کر محبت کی۔ انھوں نے ہمیں ہر مقام پر دھوکا دیا۔

اب میں اس کے بارے میں کچھ بھی محسوس نہیں کرنا چاہتی۔ میں جھوٹ کہوں گی اگر میں کہوں کہ میں اسے ناپسند نہیں کرتی لیکن میں اس کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی۔

میں اب ایسے شخص سے ملی ہوں جو میرے بیٹوں سے اچھے سے گھل مل گیا ہے۔ وہ بہت اچا انسان ہے اور مجھے خوش رکھتا ہے۔

presentational grey line
BBC Stories logo