میں شادی بچانے کے لیے ’تابعدار بیوی‘ بن گئی

،تصویر کا ذریعہKathy Murray
کیلی فورنیا کی باسی کیتھی مرے کہتی ہیں کہ انھوں نے جب اپنے شوہر کو کنٹرول کرنے کی کوشش چھوڑ دی تو وہ اپنی شادی بچانے میں کامیاب ہو گئیں۔
اپنے آپ کو حقوقِ نسواں کی علمبردار کہنے کے باوجود وہ متنازع کتاب ’دا سرینڈرڈ وائف‘ کی ترغیب بھی دیتی ہیں اور اس پر خود بھی عمل کرتی ہیں۔ اس کتاب میں خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو ہر بات پر تنگ کرنا بند کریں اور ان کے ساتھ زیادہ عزت سے پیش آئیں۔
کیتھی مرے اپنی کہانی کچھ اس طرح بیان کرتی ہیں:
جب میری پہلی شادی ہوئی تو 26 سال کی عمر تک میری طلاق ہو چکی تھی۔ 32 سال کی عمر میں نے دوسری شادی کی مگر جلد ہی میں نے خود کو اپنے شوہر کے ساتھ شدید لڑتے ہوئے پایا۔
ہماری لڑائی کی اصل وجہ اکثر یہ ہوتی تھی کہ میرے خیال میں میرا شوہر بچے پالنے کے بارے میں بالکل بے وقوف ہے۔ ہم پیشوں کے بارے میں بھی لڑتے تھے۔ یہاں تک کہ ہماری اس بات پر بھی لڑائی ہو جاتی تھی کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کتنی مرتبہ سوئیں۔
میں ایک نجی سکول میں چیف فنانس افسر تھی اور اپنے بچوں کے سکول پر رضاکارانہ طور پر بھی کچھ وقت دیتی تھی۔ میرا شوہر ایک تعمیراتی کمپنی میں سیلزمین کا کام کرتا تھا۔ مگر میں گھر کی ’بریڈ ونر‘ یعنی فیملی کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ تھی اور میں ایسے برتاؤ کرتی تھی جیسے میں فیملی کی حاکم ہوں۔
میں کسی کو بھی نہیں بتاتی تھی کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ ہر وقت لڑتی رہتی ہوں۔ میں شرمندہ اور غصے میں تھی۔
میرا شوہر اکثر ٹی وی ہی دیکھتا یا ہمارے پالتو جانوروں کے ساتھ کھیلتا رہتا تھا اور ادھر میں اس کی جانب سے میری ضرویات کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے غصے میں چیختی رہتی تھی۔ مردوں کو تو صرف ہم بستری چاہیے ہوتی ہے نا؟ مگر میرے شوہر کو وہ بھی نہیں چاہیے تھی۔ یہ بہت برے دن تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جتنا میں اپنے شوہر کو بتاتی کہ وہ کیسا ہونا چاہیے، وہ اتنی ہی کم کوشش کرتا تھا۔ پھر میں اسے زبردستی کونسلنگ کے لیے لے گئی۔ وہ بھی کام نہ آیا۔
پھر میں اکیلی کونسلنگ کے لیے گئی اور وہاں اپنے شوہر کی شکایات لگاتی رہتی تھی۔ ہزاروں ڈالروں کے خرچے کے بعد میں نے خود کو ایک بار پھر طلاق کے قریب پایا۔
میں روئی، چیخی چلائی، لڑی، اور یہی امید کرتی رہی کہ وہ ٹھیک ہو جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ میں نے ورزش کر کے اپنا وزن کم کیا اور دوسرے مرد مجھے توجہ دینے لگے۔ مگر مجھے پتہ تھا کہ میں اس کا کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتی تھی، اسی لیے میں ہمیشہ خود کو مظلوم سمجھتی تھی۔

،تصویر کا ذریعہKathy Murray
میں اپنی شادی ختم کرنے والی تھی جب میں نے کتاب ’دا سرینڈرڈ وائف‘ اٹھائی۔ دیکھیں سکول میں تو آپ کو نہیں بتایا جاتا کہ ایک کامیاب شادی کیسے چلانی ہے اور میری زندگی میں دیگر خواتین بھی اپنے راز نہیں بتا رہی تھیں۔
میری شادی کی ناکامی میں میرا بھی ہاتھ ہے، اس احساس نے میری آنکھیں کھول دیں اور میری انا کو دھچکہ لگا۔ مگر اس آگہی میں طاقت تھی۔
مجھے خبر بھی نہیں تھی کہ میں اپنے شوہر کی بےعزتی کرتی تھی یا کہ میں اسے کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی تھی یا اس پر طنز کرتی تھی۔
میں سمجھتی تھی کہ میں منطقی اور مددگار ہوں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ مردوں کے لیے عزت آکسیجن کی طرح ہوتی ہے، اسی لیے میرا شوہر میرے ساتھ سونے کا بھی خواہاں نہیں تھا۔
میں وہ دن کبھی نہیں بھولوں گی جب پہلی بار میں نے اپنے شوہر سے بدتمیزی کے لیے معافی مانگی یا بچوں کے سامنے اسے درست کرتی تھی۔ یا وہ دن جب میں نے اسے اپنی مرضی سے کچھ کرنے دیا جبکہ ماضی میں میری اس بارے میں بہت سخت رائے تھی کہ وہ کیا کرے۔
میں نے اپنے شوہر کو اس بات کی عادت ڈال دی تھی کہ وہ مجھ سے ہر بات کی اجازت لے۔ اور پھر میں یہ شکایت کرتی تھی کہ وہ خود کوئی فیصلے نہیں کرتا!
میں نے اپنے شوہر کے فیصلوں کا کنٹرول چھوڑ دیا اور اس کے بجائے اپنی خوشی پر توجہ دینے لگی۔ میں اس کی ماں کم اور ساتھی زیادہ ہو گئی۔
ہماری لڑائی کم سے کم ہونے لگی اور میرا شوہر کبھی میرا ہاتھ پکڑنے کے لیے یا مجھے بوسہ دینے کے لیے میرے قریب آنے لگا۔
مجھے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ اپنی خوشی کی میں خود ذمہ دار ہوں۔ میں سمجھتی تھی کہ میرے شوہر کو مجھے خوش کرنا چاہیے۔
عورتیں مجھ سے پوچھتی ہیں کہ کیا میرا انداز خود کو بے وقوف بنا لینا یا تابعدار بیوی بنانا ہے۔ میں کہتی ہوں میں عورتوں کے حقوق کی علمبردار ہوں۔ اس لڑائی میں ہتھیار ڈال دینے کا مطلب ہے کہ مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آپ اپنے علاوہ کسی اور کو بدل نہیں سکتے۔ اور یہ ایک احساس آپ کو اور زیادہ طاقتور بناتا ہے۔








