گوئٹے مالا: آتش فشاں فیو گو‘ سے 62 افراد ہلاک، سرچ آپریشن جاری

گویٹے مالا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیوفیمیا گرسیا کا تعلق متاثرہ علاقے لوس لوٹس سے ہے وہ بہت مشکل سے اپنی جان پچا پائیں

گوئٹے مالا میں حکام کا کہنا ہے کہ فیوگو آتش فشاں کے پھٹنے کے سبب کم از کم 62 افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ آتش فشاں دارالحکومت گوئٹے مالا سٹی کے 40 کلومیٹر جنوب مغرب میں پھٹا ہے جہاں اب سپاہی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آگ بھجانے والے عملے کی مدد کر رہے ہیں۔

حکام نے ہزاروں افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں بھجوایا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آتش فشاں جس نے راکھ کو آسمان کی جانب 10 کلومیٹر اوپر تک پھیلا دیا تھا اب اس کا زور ٹوٹ چکا ہے۔

آتش فشاں کے نتیجے میں گہرے سیاہ دھویں کے بادل اور گرم ہوا چل رہی تھی جس میں گرم سیال مادے بھی شامل تھے۔ اس نے وہاں موجود علاقے کو بھی متاثر کیا۔

آتش فشاں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنہم فقط یہی کر سکتے تھے کہ اپنے خاندان کے ساتھ بھاگ نکلیں اور ہم اپنا مال اسباب سب کچھ گھر میں چھوڑ گئے۔ اب خطرہ ٹل گیا ہے۔ میں اپنے گھر دیکھنے آیا تھا۔ سب کچھ تباہ ہو گیا ہے: مقامی شخص

یوفیمیا گرسیا کا تعلق متاثرہ علاقے لوس لوٹس سے ہے وہ بہت مشکل سے اپنی جان پچا پائیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت وہ دکان پر جانے کے لیے ایک تنگ راستے سے گزر رہی تھیں۔ اگرچہ انھیں اپنے دونوں بچے تو مل گئے ہیں لیکن وہ اب اپنی دو بیٹیوں اور پوتے اور خاندان کے دیگر افراد کو تلاش کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’میں جانا نہیں چاہتی، مجھے واپس جانا ہےایسا کچھ نہیں جو میں اپنی خاندان کو بچانے کے لیے کر سکوں۔‘

ایفرین گونزالیز ایل روڈیو سے اپنی بیوی اور ایک سالہ بیٹی کے ساتھ جان بچا کر آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بیچھے گھر میں ان کے چار اور دس سال کے دو بیٹے رہ گئے ہیں۔

مقامی رہائشی ریکارڈو کہتے ہیں کہ وہ بھی اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

’ہم فقط یہی کر سکتے تھے کہ اپنے خاندان کے ساتھ بھاگ نکلیں اور ہم اپنا مال اسباب سب کچھ گھر میں چھوڑ گئے۔ اب خطرہ ٹل گیا ہے۔ میں اپنے گھر دیکھنے آیا تھا۔ سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔‘

آگ بھجانے والے عملے کے اہلکار روڈی شاویز کا کہنا ہے کہ ہم علاقے چھوڑنے ہی والے تھے کہ ہمیں معلوم ہوا کہ ایک اور خاندان بھی اپنے گھر میں موجود ہے۔

آتش فشاں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنآتش فشاں کے بعد امدادی کارکن لاشوں کو تلاش کر رہے ہیں

ہم نے ان کی لاشوں کو باہر نکالا۔ کسی نے کہا کہ یہ علاقہ بہت خطرناک ہے تو ہم جلدی سے وہاں سے نکل آئے لیکن خدا کا شکر ہے کہ ہم جس مقصد کے لیے وہاں گے تھے وہ پورا ہوا اور ہم نے ان لوگوں کی لاشوں کو وہاں سے نکال لیا۔‘

امدادی ادارے سے وابستہ جارج لوئس نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ساتھی پہاڑ پر لاپتہ افراد کو تلاش کر رہے تھے تو انھیں لگا کہ آتش فشاں میں اچانک بہت تیزی آگئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مجھے اچانک لگا کہ کوئی چیز میرے ہیلمٹ سے ٹکرائی ہے لیکن وہ بارش نہیں بلکہ پتھر تھا۔

آتش فشاں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہنگامی امدادی اداروں کے ہمراہ فوجی اہلکار بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں

’دن کے وقت رات دس بجے جیسا گھپ اندھیرا تھا راکھ کے ہم تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنی واپسی کا آغاز کر چکے تھے۔‘

خیال رہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 1974 کے بعد سے یہ سب سے بڑا آتش فشاں کا پھٹنا ہے۔