ہوائی کے آتش فشاں کی ڈرامائی تصاویر کے پیچھے کیا سائنس ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اوائل مئی میں ہوائی کے ایک فعال آتش فشاں سے یکایک لاوا ابل پڑا۔ اس کے بعد سے وہاں سے مسلسل گیس نکل رہی ہے جس کی شاندار تصاویر لی گئی ہیں۔
دو ہفتے بعد آتش فشاں اب تک فعال ہے۔ آکسفرڈ یونیورسٹی کے ماہرینِ آتش فشاں ٹیمسن ماتھر اور ڈیوڈ پائل بتا رہے ہیں کہ ان تصاویر کے پیچھے کیا سائنس کارفرما ہے۔
تخلیق و تباہی
کلاؤیا آتش فشاں ہوائی کے جزیرہ بگ آئی لینڈ کا سب سے فعال آتش فشاں ہے۔ یہاں 1983 سے وقتاً فوقتاً لاوا نکلتا رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہUSGS / Getty Images
یہاں سے بہہ نکلنے والا لاوا 144 مربع کلومیٹر کا علاقہ تک پھیل گیا ہے اور سمندر میں 443 ایکڑ نئی زمین پیدا ہو گئی ہے۔
2016 کے بعد سے اب تک لاوا نے 215 عمارتوں کو تباہ کیا ہے اور 14 کلومیٹر سڑک اس کے نیچے آ گئی ہے۔
لاوا جھیل
2008 میں کلاؤیا سے گیس کے بادل نکلے۔ آنے والے مہینوں میں یہاں ایک جھیل وجود میں آ گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہUSGS / Getty Images
مارچ اور اپریل میں لاوے کی سطح بلند ہو گئی اور یہ کناروں سے بہنے لگا۔ دو ہفتے بعد لاوا نظر آنا بند ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کلاؤیا کا لاوا دنیا کا گرم ترین لاوا ہے۔ آتش فشاں کے دہانے سے نکلنے کے بعد یہ جلد ہی جم جاتا ہے اور اس پر ایک پپڑی آ جاتی ہے۔
تاہم اندر سے یہ اب بھی گرم اور متحرک رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
جوں جوں گرم لاوا آگے بہتا ہے، سرد لاوا کے ٹکڑے اس کے ساتھ بہنے لگتے ہیں، اور اس کی شکل پتھروں کے بےترتیب ڈھیر کی طرح ہو جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بعض جگہوں پر لاوا لال رنگ کا ہوتا ہے اور اترائی پر بہتے ہوئے ہر چیز کو جلاتا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ماہرینِ ارضیات 1922 سے کلاؤیا پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لاوا زمین کے مرکز سے اوپر اٹھتا ہے اور پھر زیر زمین نالیوں میں بہتا رہتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
زمین کے نیچے بہتے ہوئے لاوا زمین کی سطح کو کئی جگہوں پر چٹخ دیتا ہے، جہاں سے گرم گیسیں نکلتی رہتی ہیں۔ اگر سطح کمزور ہو تو وہاں سے لاوا بھی پھٹ کر نکل سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
دھماکہ دار مرغولے
لاوا زیرِ زمین پانی سے مل کر بھاپ پیدا کرتا ہے جو زمین سے نکل کر فضا میں بلند ہو جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک ہوائی کے ایسٹ رفٹ زون سے 17 شگاف پیدا ہوئے ہیں جن سے خطرناک لاوا، گرم گیسیں اور بھاپ خارج ہوئے ہیں۔
ان گیسوں میں سلفر ڈائی آکسائیڈ بھی شامل ہے جو سانس کی تکالیف کا باعث بن سکتی ہے اور ان لوگوں کی علامات میں اضافہ کر سکتی ہے جو دمے کا شکار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
آتش فشاں کی فعالیت کا درجہ بدلتا رہتا ہے اور اس کا پہلے سے اندازہ لگانے بےحد مشکل ہوتا ہے۔
.









