امریکہ شمالی کوریا سربراہی ملاقات وقت پر ہو گی: ٹرمپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے 12 کو ملاقات پروگرام کے مطابق ہو گی۔ ایک ہفتہ قبل انھوں نے یہ ملاقات منسوخ کر دی تھی۔
ٹرمپ نے یہ اعلان شمالی کوریا کے ایک اعلیٰ مندوب سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد کیا۔
مندوب جنرل کم یونگ چول نے شمالی کوریا کے رہنما کی جانب سے ایک خط صدر ٹرمپ کے حوالے کیا۔
اسی بارے میں
پہلے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ خط بہت دلچسپ ہے، تاہم بعد میں اعتراف کیا کہ ابھی انھوں نے اسے نہیں کھولا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ سنگاپور میں ہونے والی سربراہی ملاقات میں کوریا کی جنگ کے باضابطہ خاتمے پر بات ہو سکتی ہے۔
1950 اور 1953 کے دوران ہونے والی اس جنگ کا خاتمہ صلح سے ہوا تھا لیکن آج تک حتمی امن معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں نامہ نگاروں کو بتایا: 'ہم 12 جون کو سنگاپور میں مل رہے ہیں۔ سب کچھ اچھے طریقے سے طے پا گیا ہے۔
'ہم ان کے لوگوں کو اچھی طرح جان گئے ہیں۔'
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اس اجلاس میں لازمی نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے متنازع ایٹمی پروگرام پر حتمی معاہدہ طے پا جائے۔
'میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ ملاقات میں ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک عمل کا حصہ ہو گا لیکن تعلقات بن رہے ہیں اور یہ بات بہت مثبت ہے۔'
یہ کسی بھی امریکی صدر اور شمالی کوریا کے رہنما کی پہلی ملاقات ہو گی۔ صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگرام سے دست بردار ہو جائے تو وہ اس کی معیشت کو سہارا دیں گے۔
کم جونگ ان نے کہا کہ وہ ایٹمی ہتھیار ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، لیکن ان کے مطالبات واضح نہیں ہیں۔
جنرل کم یونگ چول کون ہیں؟
72 سالہ جنرل کم یونگ چول جنوبی کوریا میں ایک متنازع شخصیت ہیں، اور ماضی میں بین الاکوریائی مذاکرات میں مذاکرات کار کا کردار ادا کر چکے ہیں۔
جب وہ ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ تھے تو ان پر الزام لگایا گیا تھا کہ جنوبی کوریا کے اہداف پر حملوں کے پیچھے وہی تھے، ان میں جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملہ بھی شامل ہے جس میں 46 افراد مارے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان پر 2014 میں سونی پکچرز کی ہیکنگ کا الزام بھی ہے۔
ان تمام واقعات کے نتیجے میں امریکہ نے جنرل کم یونگ چول پر 2010 اور 2015 میں ذاتی پابندیاں لگائی تھیں۔
اطلاعات کے مطابق 2016 میں ’ناقابل برداشت رویے‘ کی وجہ سے سزا دیے جانے کے باوجود جنرل کم یونگ چول اپنی جماعت اور فوج میں اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں، اور جنوبی کوریا میں ہونے والے 2018 کے سرمائی اولمپکس مقابلوں کی اختتامی تقریب شریک شمالی کوریا کے وفد کے سربراہ بھی جنرل کم ہی تھے۔









