نائجیریا: کھانسی کا ایک شربت کیسے نشے کے عادی تیار کر رہا ہے

جب بی بی سی کی نامہ نگار رونا میئر کا بھائی کھانسی کا شربت کو نشے کے طور پر استعمال کرنے کا عادی ہو گیا تو انھوں نے اس شخص کا سراغ لگایا اور تحقیقات شروع کیں جو افیون سے بنی اس دوا کو لاگوس کی سڑکوں پر بیچا کرتا تھا۔ ان کی یہ تحقیقات انھیں ملک میں مجرموں کی زیر زمین دنیا میں لے گئیں اور اس سے وبا کی صورت میں پھیلنے والے اس نشے کا انکشاف ہوا جو ملک بھر میں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کر رہا ہے۔
جنید حسن کہتے ہیں کہ یہاں سکول جانے والے بہت سے بچے جیسے ہی اس دوا کو چکھتے ہیں وہ پھر دینے والے سے مزید کی طلب کرتے ہیں۔
میں اس کا ذاتی طور پر مشاہدہ کر چکی تھی۔ میرے علاقے لاگوس کی مکین ایک 14 سالہ نائجیرین لڑکی اس کی عادی ہو چکی ہے۔ اس کے والدین بہت پریشان ہیں اور انھیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اس کی مدد کیسے کریں۔

میرا اپنا بھائی بھی کوڈین کف سیرپ کے نشے میں مبتلا ہے۔ جب میرے والد مارے گئے تو سٹرابری کے ذائقے میں افیون سے بنے اس سیرپ کو پینے کا عادی ہو گیا۔
دکھ، ڈپریشن اور پرسکون رہنے کی خواہش وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر نائجیریا کے بہت سے لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔
’سیرپ پارٹیز میں نوجوان اسے کسی مشروب میں ڈال کر پی لیتے ہیں یا پھر براہ راست ہی اپنے حلق میں اتار لیتے ہیں۔
شمالی نائجیریا میں بایوراج فارماسوٹیکل کمپنی کوڈین سے بنے کف سیرپ بایولین کو بنانے اور سپلائی کرنے والی سب سے بڑی لائسنس یافتہ کمپنی ہے۔ جنید حسن المعروف بابا ابیجی وہاں کام کرتے ہیں۔
یہ ان چند کمپنیوں کے ملازمین میں شامل ہیں جنھیں حالیہ مہینوں میں بی بی سی نے غیر قانونی سودے کرتے ہوئے خفیہ طور پر فلمایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوا کو بنانا اور پینا غیر قانونی نہیں ہے لیکن اس کو ڈاکٹر کی تجویز کے بغیر دیا جانا یا غیر لائسنس شدہ دوا ساز کمپنی کا اس کو بنانا اور سپلائی کرنا قانونی نہیں۔

جنید حسن نے حکام کی نظڑ سے بچ کر اس دوا کو بیچنے کا طریقہ کار بتاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اس دوا کے ایک ہزار کارٹن لینا چاہے گا تو ہم اسے رسید نہیں دیتے۔
اگرچہ یہ طریقہ کار اور کرپشن بایوراج کمپنی کی پالیسی میں نہیں لیکن یہ بلیک مارکیٹ میں اس سیرپ کی تعداد بڑھانے میں مدد دے رہا ہے۔
جب ہم نے بایوراج کمپنی کو اطلاع دی کہ جنید حسن غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ہمارے پاس اس کا ثبوت ہے تو تحریری جواب ملا کہ کمپنی صرف قانونی طور پر کوڈین کف سیرپ بیچتی ہے اور جنید حسن نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور یہ کہ کمپنی کے چیئرمین رہامون ذاتی طور پر بائیو لین میں ادویات کی فروخت کی نگرانی کرتے ہیں۔
تمام نشہ آور مواد کی طرح کوڈین بھی کیمیائی طور پر ہیروئین کی جیسی ہے۔ یہ درد کش ہوتی ہے لیکن اگر اسے زیادہ مقدار میں لے لیا جائے تو اس سے انسان کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اگر اس زیادہ مقدار میں لے لیا جائے تو یہ بہت زیادہ نشے میں مبتلا کرتی ہے اور اس کا جسم اور دماغ پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔
کانو میں نشے میں مبتلا افراد کی بحالی کے لیے قائم دورائی سینٹر میں میں نے ایک زنجیروں میں جکڑے شخص کو دیکھا جس کے ٹخنوں پر زنجیر ڈال کر اسے درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا وہ شخص چیخ چلا رہا تھا اور اپنی بازو لہرا رہا تھا۔
72 گھنٹے قبل اس نے باہر گلی میں ایک گاڑی کے شیشے توڑ ڈالے تھے۔ اس سینٹر میں ایک افسر سانی یوسینی نے بتایا کہ وہ اب بھی بحالی کے عمل سے گزر رہا ہے۔

- کوڈین سیرپ کو بہت سے طالبعلم سافٹ ڈرنکس میں ملا کر استعمال کرتے ہیں۔
- کوڈین درد ختم کرنے میں مدد دیتی ہے مگر یہ نشے میں بھی مبتلا کر دیتی ہے۔ اس کا زیادہ استعمال شیزوفرینیا اور جسم کے مختلف اعضا کو ناکارہ کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
- کوڈین کو نائجیریا میں درآمد کیا جاتا ہے اور ملک کی 20 دوا ساز کمپنیاں اسے بناتی ہیں۔
- نائجیریا دوا ساز کمپنیوں سے متعلق قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے والی ایجنسی اس وبا سے لڑ رہی ہے۔ ایک حالیہ چھاپے میں ایجنسی نے فقط کٹسینا میں ایک گاڑی سے کوڈین کی 24000 بوتیلں برآمد کی تھیں۔
- کوڈین سیرپ کے نشے میں افریقہ کے مختلف ممالک کے لوگ مبتلا ہیں۔ ان ممالک میں کینیا، گھانا، نائجر اور چاڈ شامل ہیں۔
- نشے سے متعلق رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد انڈیا نے سنہ 2016 میں کوین کی متعدد اقسام پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اس کے استعمال سے نہ صرف گردے خراب اور ناکارہ ہوتے ہیں بلکہ ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے اور شیزروفینیا بھی ہو سکتا ہے۔
بحالی کے مراکز میں بہت سے افراد وہاں موجود عملے کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں زنجیروں سے باندھ دیا جاتا ہے۔
میں ایک زنجیر سے بندھے شخص کے سامنے کھڑی تھی تو یوسینی نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ بستر پر نہیں رہ سکتے کیونکہ اس نے کھڑکی توڑ کر خود کو زخمی کر لیا تھا۔
بہت سے والدین یہاں اپنے بچوں کو دیکھنے آتے ہیں اور رو دیتے ہیں۔
وہاں پاخانے کی بدبو اور مکھیوں کی بھنبھناہٹ محسوس ہوتی ہے۔
دوا ساز کمپنیوں کے جو ملازمین اسے بلیک مارکیٹ میں بیچتے ہیں انھیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتنی خطرناک ہے۔ انھیں غیر قانونی کام میں ملوث افراد میں چوکوناونی مادوبوکی بھی شامل ہیں۔
وہ ایمزور فارماسوٹیکل میں بزنس ڈویلپمنٹ ایگزیکیٹو ہیں جنھوں نے غیر قانونی طور پر لاگوس کے ایک ہوٹل کے کمرے میں کوڈین کی 60 بوتلوں کو بیچا۔

انھوں نے کہا کہ جب کوئی نشے میں مبتلا ہوتا ہے اسے اس کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ میرے پاس آتا ہے اور میرا خیال ہے کہ اس میں قیمت کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ایک چیز ہے جس کے بارے میں میں جانتا ہوں کہ اگر میرے پاس ایک لاکھ بھی کارٹن ہوں تو میں انھیں ایک ہفتے میں بیچ سکتا ہوں۔
ایمزور کا کہنا ہے کہ مادوبوکی کو بہت محدود کوڈین تک رسائی حاصل ہے اور وہ اتنی بڑی مقدار میں کوڈین نہیں بیچ سکتے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ذمہ دارانہ طور پر کاروبار کرتی ہے اور وہ اپنی ڈسٹری بیوشن پالیسیز کو دیکھ رہی ہے اور ہماری جانب سے سامنے آنے والی رپورٹ کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
ڈرگز انفورسمینٹ ایجنسی کانو میں روزانہ کی بنیادوں پر کوڈین سیرپ کی بوتلوں کو تباہ کرتی ہے۔

انھوں نے ہمیں بائیو راج کمپنی کی دو ٹن بوتلوں کو دکھایا جو متعلقہ ایجنسی کی ٹیموں نے پکڑی تھیں۔
انھوں نے ہمیں وہ ہتھیار بھی دکھائے جو غیر قانونی طور پر اس کاروبار میں ملوث کرنے والے افراد حکومتی ایجنسی پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان میں چاقو، تلوار حتی کہ آری بھی موجود تھی۔
نائجیرین سینٹ کے اندازوں کے مطابق ہر روز دو ریاستوں جگوا اور کانو میں ہی صرف 30 لاکھ کوڈین کی بوتلیں فروخت کر چکی ہے۔
ڈرگ کنٹرول ایجنسی کے کمانڈر حمزہ کا کہنا ہے کہ ہم شاید 10 فیصد سیرپ کو بھی نہیں پکڑ سکتے۔

’یہ ہر طبقے، غیرب امیر، پڑھے لکھے، غیر تعلیم یافتہ، بھکاری اور بچے ہر سطح پر استعمال کرتا ہے۔‘
ادھر بحالی کے مرکز میں مسٹر یوسینی ہر ہفتے دو سے تین کیسز کو دیکھتے تھے لیکن اب وہ برھ کر سات آٹھ اور کبھی کھبار 10 تک پہنچ جاتا ہے۔
وہیں ایک کمرہ جس میں کھڑکی نہیں تھی وہاں دو ماہ رہنے کے بعد ہمیں ایک سولہ سالہ لڑکی ملی جس نے بتایا کہ وہ اپنے بوائے فرینڈ سے یہ سیرپ لیتی تھی اور سکول کے بعد اسے پیتی تھی۔
اس نے اپنے پیغام میں کہا’ میں انھیں مشورہ دوں گے کہ اگر اس کا استعمال نہیں کیا تو مت کریں اور اگر کریں گے تو آپ کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔










