سرد جنگ کا آغاز پھر ہو گیا: انتونیو گرتیرس

،تصویر کا ذریعہEPA
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گرتیرس نے کہا ہے کہ ’سرد جنگ کا آغاز‘ پھر ہو گیا ہے۔
انتونیو گرتیرس نے شام کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں بھی خبردار کیا۔
واضح رہے کہ انتونیو گرتیرس کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام کے شہر دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے حوالے سے امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد شام کے کے خلاف کارروائی کی تیاری کر رہے ہیں جس کی روس مخالفت کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’سرد جنگ کا آغاز پھر ہو گیا ہے لیکن ایک فرق کے ساتھ۔‘
ان کا مزید کہنا تھا’ ماضی میں وجود میں آنے والے خطرات کو کنٹرول کرنے کے مکینزم موجود تھے جو اب بظاہر موجود نہیں ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ادھر امریکہ اور فرانس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ شامی حکومت نے گذشتہ سنیچر کو دوما پر کیمیائی حملہ کیا تاہم دونوں ممالک نے سرکاری طور پر اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس مشتبہ حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے تاہم شامی حکومت نے اس حملے کی تردید کی تھی۔
امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی بی کو بتایا کہ انھوں نے دوما میں مبینہ کیمیائی حملے سے متاثر ہونے والے افراد کے خون اور پیشاپ کے نمونے حاصل کیے ہیں جن کے ٹیسٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ اس میں کلورین کا استمعال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نیکی ہیلی نے بی بی سی کو بتایا ’یقیناً ہمارے پاس کافی ثبوت ہیں لیکن اب ہمیں صرف ہماری کارروائی کے بارے میں سوچنا ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہUnited Nations
ادھر روس کی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ اس اشتعال انگیزی کو منظم کرنے میں براہِ راست ملوث ہے۔‘
دوسری جانب اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر کیرن پیرس کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک ناقابل یقین جھوٹ ہے، جو روس کے پروپیگنڈا مشین کی جعلی خبروں کے بدترین ٹکڑوں میں سے ایک ہے۔‘
اس سے پہلے روس نے کہا تھا کہ اس کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کا ڈراما غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی مدد سے رچایا گیا۔
یہ بات روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے پریس کانفرنس میں کہی۔ تاہم انھوں نے یہ نام نہیں لیا کہ آیا کون سی غیر ملکی خفیہ ایجنسی ملوث ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
سرگے لاوروف کے بقول ’میرا ماننا ہے کہ کیمیائی ہتھیار یا کلورین کا ثبوت نہیں ملے گا۔ ہمارے ماہرین کو ایک ثبوت بھی نہیں ملا۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ڈیٹا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوما کا واقعہ سٹیج کیا گیا تھا اور اس کو سٹیج کرنے میں اس ملک کی سپیشل سروسز ملوث تھیں جو روس مخالف مہم میں پیش پیش ہے۔‘
اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وسیلی نیبنزیا نے جمعرات کو کہا کہ ’اس وقت فوری ترجیح جنگ کا خطرہ ٹالنا ہے۔‘
انھوں نے واشنگٹن پر عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس وقت صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں شرکت کے بعد وسیلی نیبنزیا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بدقسمتی سے ہم کسی بھی امکان کو رد نہیں کر سکتے‘۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ’کیمیائی حملے‘ کے ردِعمل پر غور کر رہے ہیں۔
ادھر برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کابینہ کے وزیروں نے ’کیمیائی ہتھیاروں کے مزید استعمال کو روکنے کے لیے شام میں کارروائی کرنے کی ضرورت‘ پر اتفاق کیا ہے۔
ٹریزا مے نے جمعرات کی رات امریکی صدر سے بات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ شام کے معاملے پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔












