شام کی جنگ: عالمی ادارۂ صحت کا کیمیائی حملے کے مقام کا جائزہ لینے کا مطالبہ

man pouring water over the head of another man (still from video)

،تصویر کا ذریعہAFP Photo/ HO/ Douma City Co-Ordination Committee

،تصویر کا کیپشندوما سے ملنے والی ویڈیوز میں لوگوں کو کیمیائی حملے سے متاثر دیکھا جا سکتا ہے

عالمی ادارۂ صحت نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے شام کے علاقے دوما میں بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ شام میں مشتبہ کیمیائی حملے کے باعث کم از کم 500 افراد کے متاثر ہونے کی علامات دیکھی گئی ہیں۔

شام کی حکومت نے کسی قسم کے کیمیائی حملے سے انکار کیا ہے۔

امریکہ نے کیمیائی حملے کی صورت میں طاقت سے بھرپور ردِ عمل کی دھمکی دی ہے جبکہ روس نے اپنے اتحادی کے خلاف کسی قسم کے حملے سے خبردار کیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کو ملنے والی رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں 70 افراد ہلاک ہوئے۔

ادارے کے مطابق اس کے طبی شراکت داروں کا کہنا ہے کہ 500 لوگوں میں زہریلے کیمیائی مادوں کا شکار ہونے کی علامات دیکھی گئی ہیں جن میں سانس لینے میں تکلیف، سانس کی نالی میں جلن اور اعصابی نظام میں خلل شامل ہیں۔

اسی بارے میں

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق حملے میں صحت کے دو مراکز بھی نشانہ بنے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر پیٹر سلاما کا کہنا تھا ’دوما کے خوفناک مناظر دیکھنے کے بعد ہم سب کو غم وغصے کا اظہار کرنا چاہیے۔‘

’ڈبلیو ایچ او فوری طور پر دوما تک بلا روک ٹوک رسائی کا مطالبہ کرتی ہے تا کہ متاثر افراد کو طبی مدد فراہم کی جا سکے۔ ‘

شام کی حزب اختلاف کے کارکنوں، امدادی کارکنوں اور طبی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ میں حکومتی فورسز نے زہریلے کیمیائی مادوں سے بھرے بم پھیکنے۔

اس حملے میں اندازوں کے مطابق 42 سے 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم طبی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں فرانسیسی نمائندے کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر زہریلی گیس استعمال کی گئی کیونکہ یہ زیر زمین ٹھکانوں میں جا سکتی ہے۔

اس مبینہ کیمیائی حملے کے بعد شام اور روس دوما میں جیش اسلام کے باغیوں کے لیے محفوظ راستے کی فراہمی کے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔